پیپلزپارٹی کے راہنما نے پیپلزپارٹی حکومت کی رٹ کو چیلنج کر دیا

پیپلزپارٹی کے راہنما نے پیپلزپارٹی حکومت کی رٹ کو چیلنج کر دیا

تجزیہ: چودھری خادم حسین

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کا تنازعہ اپنی جگہ چل رہا ہے کہ اس عرصہ میں سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور بقول خود سابق صدر آصف علی زرداری کے سابق ہمراز دوست ذوالفقار علی مرزا نے نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا اور خود پیپلزپارٹی ہی کے ایک راہنما نے پارٹی کی صوبائی حکومت کی رٹ کو برسر عام چیلنج کر دیا ہے۔ بدین میں بالکل نئی صورت حال پیدا ہو گئی، تادم تحریر پولیس کی بھاری نفری ضرور طلب کی گئی تاہم تادم تحریر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ البتہ ملیر سے تبدیل کئے جانے والے ایس ایس پی راؤ انوار کو تبدیل کر کے بدین متعین کر دیا گیا ہے۔ اور انہوں نے چارج بھی لے لیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ والے تنازعہ کے دوران بھی بتایا گیا تھا کہ مذکورہ ایس ایس پی سابق صدر آصف علی زرداری کے قریب ہیں۔

ذوالفقار مرزا کا یہ جذباتی اور اشتعال انگیز انداز پہلی بار سامنے نہیں آیا پہلے وہ لیاری کے مسئلہ پر بطور وزیر داخلہ جلسہ کرنے چلے گئے اور لیاری والوں کے ساتھ تعلق نبھانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد وہ ایک صندوق سر پر اُٹھا کر لندن بھی گئے کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف ثبوت ہیں، اس مزاج اور اشتعال ہی کے باعث ان کے اختلافات ہوئے اور انہوں نے نہ صرف وزارت داخلہ سے استعفیٰ دیا بلکہ نشست بھی خالی کی اور اس پر اپنے صاحبزادے کو منتخب کرایا، اس دوران حکومت سے ان کی ناراضی رہی تاہم آصف علی زرداری سے توقع اور آس لگی رہی کئی اکابرین نے کوشش کی ان کے صاحبزادے کو مشیر بھی بنوایا اس کے باوجود مرزا کی توقعات پوری نہ ہوئیں تو ان کے آصف علی زرداری کے ساتھ بھی اختلافات ہو گئے۔ حالانکہ تعلق کی صورت حال یہ تھی کہ آصف علی زرداری نے ان کی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو سپیکر بنوایا۔

اب تھوڑے عرصہ سے ذوالفقار مرزا براہ راست آصف علی زرداری سے اُلجھ پڑے ان پر کرپشن اور بد چلنی کے کھلے عام الزام لگائے۔ اور کل تک بھی دہراتے چلے گئے ہیں۔ آصف علی زرداری کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اگرچہ شرجیل میمن اور بعض دوسرے حضرات مہذب انداز سے ان کو پارٹی کی یاد دلاتے رہے اب تو انہوں نے انتہائی سنگین الزام لگائے اور خود کو بھی ان گناہوں میں شریک قرار دیا یوں یہ گندے کپڑے سر بازار دھوتے چلے جا رہے ہیں، ذوالفقار مرزا کی برہمی یوں بھی ہے کہ بقول ان کے آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور نے اپنے ملازم منظور احمد کے ذریعے ان (مرزا) کی شوگر مل پر قبضہ کر لیا ہے۔

بدین پولیس سٹیشن پر حملے اور اسی رات تک سنگین تر الزام لگائے گئے تو پیپلزپارٹی کی طرف سے آج (پیر) خواتین اراکین نے پریس کانفرنس کی ا ور مرزا کو چیلج کیا یہ بات بڑھ گئی ہے۔

ایک خاتون رکن اسمبلی نے ذوالفقار مرزا سے کہا کہ وہ اپنی بد دیانتی کا حساب لائیں کہ ان کی دبئی اورپاکستان میں کتنی جائیداد ہے اور کیسے بنیں۔ ان خاتون راہنما نے ذوالفقار مرزا کا کام زیادہ آسان کر دیا اور انہوں نے کھل کر الزام لگایا اور کہا کہ اسے (مرزا) بھی استعمال کیا گیا تھا یوں کرپشن کے ایسے الزام اور کردار کشی والے حملوں نے پارٹی اور خود آصف زرداری کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور دوسری جماعتوں کو موقع مہیا کیا کہ وہ ان الزامات کو دہرائیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

اس کے علاوہ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ تھانے پر حملہ اور بندوق کے زور پر دکانیں بند کرانے کے عمل سے سندھ حکومت مشکل میں پڑ گئی ہے۔ بدین میں ایکشن ہوگا تو یہاں خلفشار پیدا ہو گا، جس کا سیاسی فائدہ ایم کیو ایم کو پہنچے گا۔ اب بھی ریاستی رٹ کا سوال ہے کارروائی نہ کی گئی تو بدنامی اور مرزا اور شیر ہوں گے۔ کارروائی ہوئی تو بدین میں بھی فساد پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔

آصف علی زرداری کو فیصلہ کرنا ہے اور وہ سوچ کر کریں گے۔ بہر حال حالات ناخوشگوار ہیں یہ سابق سپیکر رکن قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے لئے بہت تکلیف دہ ہیں کہ وہ خود بیمار بھی ہیں اور شوہر کو سنبھالنے اور روکنے سے قاصر ہیں۔ آج ضرور کچھ ہوگا کہ ایس ایس پی راؤانوار کی تعیناتی بہت کھلا پیغام اور چیلنج ہے۔

ذوالفقار مرزا نے ایڈونچر کر کے ایم کیو ایم کی طرف سے توجہ ہٹائی ہے ورنہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی (کراچی228 لندن) کے مشترکہ اجلاس میں راؤ انوار کا بڑا دلچسپ جواب دیا گیا اور رابطہ کمیٹی نے خود یہ الزام لگا دیا ہے کہ ’’را‘‘ پاکستان میں حالات خراب کر رہی ہے یوں سیاسی اختلافات اور الزام تراشی کی وجہ سے عجیب صورت حال بن رہی ہے۔ حکمران جماعت اور پیپلزپارٹی کی طرف سے الطاف حسین کی معذرت قبول کرنے کا عندیہ دیاگیا ہے لیکن صوبائی اسمبلیوں میں پیش کی جانے والی قراردادیں کچھ اور ہی بتا رہی ہیں۔ غور کرنے والی بات ہے کہ ایسے موقع پر ذوالفقار مرزا کیوں بھڑکے اور الزام لگائے۔

مزید : تجزیہ


loading...