بوگس چیکوں میں کارروائی کے لئے ایس پی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہو گا،ذرائع

بوگس چیکوں میں کارروائی کے لئے ایس پی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہو گا،ذرائع

 لاہور( وقائع نگار خصوصی) بوگس چیکوں میں کارروائی کے لئے ایس پی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہو گا، اور جس چیک کے ساتھ بینک کی سلپ اور دیگر ثبوت موجود ہوں گے اور پولیس رولز کے تحت ایس ایچ اوز ہی ایسے مقدمات درج کرنے کے پابند ہوں گے اور ثبوت کی بناء پر ہی ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ پولیس حکام نے تفتیشی افسران کو یہ بھی کہا ہے کہ گرفتار ملزموں کو تھانوں میں پروٹوکول دینا اور انہیں حوالات میں بند کرنے کے بجائے بغیر ہتھکڑیاں اپنے کمروں میں بٹھانا بھی جرم ہو گا۔ اور جس افسر کو ایسا کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ بوگس چیکوں میں رقم کی برآمدگی سرفہرست ہو گی اس کے بعد ریمانڈ کے دوران جو بھی شخص اس میں ملوث ہو گا اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایسے مقدمات میں لیت و لعل سے کام لے کر مقدمات درج نہ کرنے اور شہریوں کو بلاجواز تھانوں کے چکر لگوانے والوں کے خلاف بلاجواز کارروائی ہو گی اور ان سے تفتیش واپس لے کر کسی ایماندار افسر کے حوالے کی جائے گی۔ بوگس چیک

مزید : صفحہ آخر


loading...