سینیٹ اجلاس،اراکین کا بنکوں کی مجموعی کارکردگی پر اظہار عدم اطمینان

سینیٹ اجلاس،اراکین کا بنکوں کی مجموعی کارکردگی پر اظہار عدم اطمینان

 اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کے اجلاس میں بنکوں کی مجموعی کارکردگی پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹرز نے بینکوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں اور چھوٹے صنعت کاروں اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے قرضے جاری کرنے پر زور دیاگیا،بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر تاج حیدر نے بینکنگ کے حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بینک کا شعبہ پاکستان کے غریب عوام کی جمع پونجی ہوتا ہے،دیکھنا یہ ہے کہ یہ پیسہ اشرافیہ کی جیب میں جاتا ہے یا کاروبار ی حضرات کے زیر استعمال ہوتا ہے،70کی دہائی میں پاکستان کا روپیہ22 خاندانوں میں جاتا تھا اس لئے ذوالفقار علی بھٹو نے بنکوں کو قومی تحویل میں لے لیا تاکہ بنکوں کا پیسہ صحیح استعمال ہو سکے جس پر سرمایہ دارانہ نظریات رکھنے والوں کی طرف سے بھٹو کو سخت رد عمل آیا،تمام تر خطرات کے باوجود اس وقت بنکوں کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا،بنکوں سے چھوٹے صنعتکاروں اور کاشتکاروں کو قرضے ملنا شروع ہوگئے جس سے ملکی معیشت مستحکم ہونے لگی،اب پھر بنکوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں لیا جارہا ہے،80 فیصد سرمایہ غیر ملکی ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔سینیٹر فریداللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بنکوں کا شعبہ سب سے زیادہ منافع کمانے والا شعبہ بن چکا ہے، 78فیصد لیبر فورس ہے جس کو فنانس کرنے کی ضرورت ہے اس وقت پاکستان میں ایس ایم ایز کو صرف7فیصد ملتا ہے۔میڈیم انٹرپرائز ز کو فنانس دینا پڑے گی۔سینیٹر ظفر علی شاہ نے کہا کہ ایگریکلچر سیکٹر میں بنکوں کا کردار انتہائی کم ہے حالانکہ ایگریکلچر زمین روز بروز کم ہورہی ہے،بنکوں کو سب سے زیادہ ڈیپارٹمنٹ ایگریکلچر پہلے ہی حاصل ہوتا ہے لیکن بنک چھوٹے کاشتکاروں، چھوٹے صنعتکاروں اور عام آدمی کیلئے قرضوں کیلئے کوئی پالیسی واضح نہیں ہے۔سینیٹر مشہدی نے کہا کہ بنکوں کو چھوٹے کاروباری لوگوں کو قرضے فراہم کرنے چاہئیں۔سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ بنک صرف سرمایہ داروں کیلئے رہ گئے ہیں،خیبرپختونخوا،بلوچستان میں بنکوں کا کوئی کردار نہیں رہا،حکومت نے کشکول دوبارہ جوڑ لیا ہے،ملکی اور غیر ملکی بنکوں سے قرضہ لے رہے ہیں۔خیبرپختونخوا میں قرضوں کا تو تصور نہیں ہے،چھوٹے اور بڑے صنعتکار قرضوں کیلئے ترس گئے ہیں۔بنکوں سے صرف بڑے سرمایہ کار ہی قرضہ حاصل کر سکتے ہیں۔ بنکوں کی کارکردگی

مزید : صفحہ آخر


loading...