حکومت کا ایل این جی درآمد کرنے کا دعوی محض ڈرامہ نکلا،قومی خزانے کو نقصان

حکومت کا ایل این جی درآمد کرنے کا دعوی محض ڈرامہ نکلا،قومی خزانے کو نقصان

 لاہور(صبغت اللہ چودھری)حکومت کی جانب سے ایل این جی کی ’’مصنوعی‘‘ درآمد کا معاملہ بے نقاب ہو گیا ہے اور توقع کے مطابق ایل این جی کی درآمد کا پلان ملکی خزانہ پر بوجھ بن چکا ہے، ایل این جی کی درآمد کا دعوی محض ڈرامہ نکلا ،ایل این جی آئی نہ پاور سیکٹر کو ری گیسی فیکیشن کے بعد دی گئی ۔ پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل بنانے والی کمپنی اینگرو نے معاہدے کے مطابق 30 دنوں کا جرمانہ 81 لاکھ 60 ہزار ڈالر وصول کرلیا ہے جبکہ حکومت تاحال معاہدے نہیں کر سکی ہے ۔ پورٹ قاسم پر آنے والی 200 ملین مکعب فٹ ایل این جی کمپنی نے اپنے موبائل ری گیسی فیکیشن یونٹ کی ٹیسٹنگ کے لئے خود درآمد کی تھی یہ گیس یونٹ کے ساتھ ہی آئی تھی ۔ معاہدے کے مطابق سوئی نادرن و سوئی سدرن ایل این جی نہ آنے کی صورت میں اینگرو ایل این جی ٹرمینل کمپنی کو یومیہ دو لاکھ 72 ہزار روپے جرمانہ دینے کی پابند ہے ۔ حکومت نے 30 مارچ 2015 ء تک ایل این جی درآمد کرنا تھی اور یکم اپریل سے اس کی ری گیسی فیکیشن کا عمل شروع ہونا تھا ۔ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن معاہدے کے مطابق درآمد نہ ہونے کی صورت میں کمپنی کو ری گیسی فیکیشن چارجز کی مد میں بطور جرمانہ یومیہ دو لاکھ 72 ہزار ڈالر دینے کی پابند ہیں ۔ جرمانہ کی ادائیگی ہر ماہ کی آخری تاریخ کو کی جانی ہے ۔ جرمانہ ادائیگی کیلئے اینگرو ایل این جی ٹرمینل کمپنی کے نام بینکوں سے پانچ کروڑ ڈالر کی بینک گارنٹی بھی دی ،وزارت بجلی و پانی کی جانب سے 26 مارچ کو اعلان کر دیا گیا کہ 200 ملین مکعب فٹ ایل این جی پورٹ قاسم آ گئی ہے اور یکم اپریل کو ری گیسی فیکیشن کے عمل کرکے اس گیس کو پاور سیکٹر کو فراہم کیا جائے گا جس سے لوڈ شیڈنگ میں کمی ہو جائے گی ۔ وزارت کا یہ بیان عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے تھا کیونکہ قطر سے معاہدہ نہ ہونے اور جرمانہ کے حوالے سے خبریں میڈیا پر گشت کر رہی تھیں ۔ 26 مارچ کو پورٹ قاسم پر جو 200ملین مکعب فٹ ایل این جی آئی تھی وہ اینگرو ایل این جی کمپنی نے اپنے موبائل ری گیسی فیکیشن یونٹ کی ٹیسٹنگ کے لئے منگوائی تھی ۔ یونٹ دبئی سے 26 مارچ کو پورٹ قاسم پر آیا تھا یہ گیس یونٹ کے ساتھ ہی آئی تھی بعد ازاں کامیاب ٹیسٹ کے بعد یہ گیس اینگرو کمپنی کی جانب سے ایک نجی پاور کمپنی کو فروخت کر دی گئی تھی ۔ حکومت نے تا حال قطر سے ایل این جی کی درآمد کا معاہدہ نہیں کیا ہے ۔ اگر حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر بھی کام کیا جائے تو مزید ایک ماہ درکار ہے جس کا مطلب ہے کہ کمپنی جرمانہ کی مد میں مزید 81 لاکھ 60 ہزار ڈالر وصول کرے گی ۔ اینگرو ایل این جی پرائیویٹ کمپنی کے سی ای او شیخ عمران کے مطابق گزشتہ ماہ 200 ملین مکعب فٹ ایل این جی کمپنی نے ٹیسٹنگ کے لئے درآمد کی تھی اس درآمد کا کوئی تعلق پاکستان حکومت یا کسی پاکستانی کمپنی سے نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے ٹرمینل کی تیاری پر 135 ملین ڈالر خرچ کئے ہیں ۔ حکومت نے یقین دہانی کروائی تھی کہ 31 مارچ سے ایل این جی کی درآمد شروع کر دی جائے گی لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ حتمی تاریخ کو ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی حکومت تا حال درآمد کا حتمی معاہدہ بھی نہیں کر سکی ہے معاہدہ کے بعد ادارہ جاتی معاہدے اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کے تعین میں بھی وقت درکار ہو گا ۔ حکومت معاہدہ کے مطابق جرمانہ ادا کرنے کی پابند ہے اور جرمانہ کی وصولی کمپنی کا حق ہے ۔ ایل این جی

مزید : صفحہ آخر


loading...