میڈیا شام کا اخبار بنا ہوا ہے

میڈیا شام کا اخبار بنا ہوا ہے
میڈیا شام کا اخبار بنا ہوا ہے

  


برطانیہ میں الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں تحقیقات جاری ہیں، ان سے تفشیش ہو رہی ہے ، ان کے اپارٹمنٹ کی تلاشی لی گئی ہے، صورت حال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ الطاف حسین کو ضمانت کروانا پڑی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود مجال ہے جو برطانوی میڈیا نے الطاف حسین کے خلاف واویلا مچا کر انہیں جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرم ثابت کیا ہو۔ ایک ہمارا میڈیا ہے کہ سوائے پراپیگنڈے کے اسے اور کوئی کام نہیں ہے۔دوسرے لفظوں میں برطانیہ میں الطاف حسین کو تحقیقات کا سامنا ہے ہیں اور پاکستان میں پراپیگنڈے کا سامنا ہے ۔

ہمارے ہاں میڈیا ہاؤسز سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کی اخلاقی، سماجی اور قانونی حد عبور کر جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ برطانیہ اور مغربی دنیا میں ایسے میڈیا ہاؤسز نہیں ہیں ، بالکل ہیں لیکن مخصوص ہیں اور انہیں عرف عام میں Tabloidsکہا جاتا ہے ، جس طرح ہمارے ہاں ماضی قریب میں دوپہر اور شام کے اخبارات ہو ا کرتے تھے ۔ لیکن ان کا Mainstreamمیڈیا واقعات کو اس طرح سنسنی خیز بنا کر پیش نہیں کرتا جس طرح ہمارے ہاں Mainstreamمیڈیا کرتا ہے، ہمارے ہاں تو پورے کا پورا میڈیا ہی شام کا اخبار بنا ہوا ہے، Tabloidبنا ہوا ہے، ہماری ٹی وی سکرینوں پر جتنا سرخ رنگ بھرا ہوا ہے اگر ٹی وی چینلوں کو خرید کر وہ رنگ ڈالنا پڑتا تو اب تک کئی صرف اس وجہ سے دیوالیہ ہو چکے ہوتے۔بات کا بتنگڑ بنانا کوئی ہمارے میڈیا سے سیکھے جس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا میں پروفیشنلز کم اور سٹیک ہولڈرز زیادہ بیٹھے ہیں جو میڈیا کی آزادی کے نام پر اپنا اپنا ایجنڈا ناظرین پر تھوپ رہے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ پورے معاشرے کا سکون غارت ہے ، اسی لئے عمران خان کے دھرنے کے بعد سے کرنٹ افیئرز کے پروگراموں کی ویوئرشپ میں بڑی حد تک کمی آئی ہے ۔

ہمارا میڈیا چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے، غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور افواہ سازی کا کام کرتا دکھائی دیتا ہے، بعض کالی بھیڑیں تو ان کا وقار بھی ختم کررہی ہیں جو سنجیدہ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارا میڈیا اپنی غیر جانبداریت قائم کرنے میں ناکام رہا ہے ، وہ یا تو کسی کے ساتھ ہے یا پھر کسی کے خلاف ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی معاشرہ ٹی وی چینلوں کی ویوئرشپ کی بنیادپر تقسیم نظر آتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی سچ کہنے اور سچ سننے کی غرض سے ٹی وی سکرینوں سے چمٹاہوا ہے۔

ہمارے میڈیا کا یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارے ہاں ریگولیٹر عضو معطل ہے، اسے کوئی خاطر میں نہیں لاتا۔ خاص طور پر دھرنے کے دوران جس مادر پدر آزادی کے ساتھ میڈیا نے کھل کر گھناؤنا کھیل کھیلا اس سے رہی سہی ساکھ بھی خاک ہوگئی۔ٹی وی چینلز اسٹیبلشمنٹ کے گماشتوں سے بھرے نظر آتے تھے۔ہر کوئی عوام کے tempramentکو test کرنے پر تلا ہواتھا، ہر کوئی اس حد تک قیاس آرائیاں کر رہا تھاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو Tweetکے ذریعے سرکاری بیانات جاری کرنا پڑ رہے تھے۔

ہمارا میڈیا اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ غیر ذمہ دار گفتگو بھی گفتگو ہوا کرتی ہے، اس کا ایک تاثر ہوتا ہے جو سننے والے پر قائم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی میں کوئی بھی ایم کیو ایم کا جھنڈا ہاتھ میں تھام کر جرم کا ارتکاب نہیں کرتا اور نہ ہی مرنے والے کی لاش پر ایم کیو ایم کا جھنڈا گاڑ کر جاتا ہے لیکن میڈیا پر ہونے والا پراپیگنڈہ یہ تاثر قائم کر چکا ہے اور اب اگر ایم کیو ایم کا کوئی لیڈر بھی مارا جاتا ہے تو اس کا الزام بھی ایم کیو ایم پر ہی لگتا ہے۔دوسرے لفظوں میں پراپیگنڈے میں اتنی جان ہوتی ہے کہ وہ ایک تاثر بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور پھر بد سے بدنام برا کے مصداق ناکردہ گناہ بھی کسی کے سر تھوپ دیئے جاتے ہیں۔خود وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ میڈیا بجلی کی قیمتوں میں کمی کی خبر چلانے کے لئے اس طرح سے تیار نہیں ہے جس طرح بجلی کی کمی کی خبر چلانے کو تیار رہتا ہے۔اندریں حالات پیمرا کو مصنوعی ہی سہی ، منہ میں دانت لگوانے چاہئیں اور دو چار ٹی وی چینلوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے کہ باقیوں کو کان ہوسکیں وگرنہ وہ وقت دور نہیں جب عوام ٹی وی سیٹوں کو اٹھا کر گھروں سے باہر پھینک دیں گے!

مزید : کالم


loading...