بیساکھی میلے پر آکر روپوش ہونیوالے سکھ خاندان کیخلاف مقدمہ درج

بیساکھی میلے پر آکر روپوش ہونیوالے سکھ خاندان کیخلاف مقدمہ درج
بیساکھی میلے پر آکر روپوش ہونیوالے سکھ خاندان کیخلاف مقدمہ درج

  


لاہور(ویب ڈیسک) ٹبی سٹی پولیس نے بیساکھی میلے پر بھارت سے شرکت کیلئے لاہور آنیوالی سکھ فیملی کے روپوش ہونے پرمقدمہ درج کر لیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے سنیل سنگھ کو بیٹے، بیٹی اور بیوی کے ساتھ جاسوسی کیلئے پاکستان بھجوایا ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے اب تک جو تحقیقات کی گئی ہیں ان کے مطا بق روپوش ہونیوالی سکھ فیملی کا سربراہ سنیل سنگھ،اسکی بیوی سانیتا کور ، بیٹی ہما کور اور بیٹا عمر سنگھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت پاکستان آئے اور یہاں آکر روپوش ہوگئے۔

اس سکھ فیملی کو کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ یہ فیملی ازخود روپوش ہوئی ہے۔ قبل ازیں انکے غائب ہونے پر کیئر ٹیکر گوردوارہ ڈیرہ صاحب کی جانب سے ٹبی سٹی تھانے میں انکی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔جس کے بعد لاہور پولیس نے وزارت داخلہ پنجاب اور لیگل ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کیاتھاتاہم قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور پولیس نے تحقیقات کے بعد فیصلہ کیا کہ نہ صرف اس سکھ فیملی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے بلکہ انہیں گرفتار کر کے ان کیخلاف قانونی کاروائی بھی عمل میں لائی جائیگی۔ سنیل سنگھ اس سے قبل بھی ایک جعلی پاسپورٹ پر پاکستان آچکا ہے۔

مقدمہ کے مدعی کئیر ٹیکر اظہر کا کہنا ہے کہ دراصل جب تمام سکھ واپس چلے گئے تو یہ فیملی موجود نہ تھی اور ہم سمجھے شائدانہیں کوئی حادثہ نہ پیش آگیا ہو اس لئے گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی۔ اب ثابت ہو گیا کہ یہ خاندان جان بوجھ کر روپوش ہوا ہے۔ ایف آئی آر کو سیل کر دیاگیا ہے اور کیس کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس میں خفیہ اداروں، محکمہ داخلہ پنجاب اور پولیس کے افسران شامل ہوں گے۔

مزید : لاہور


loading...