سعودی عرب کی سکیورٹی کو درپیش خطرات

سعودی عرب کی سکیورٹی کو درپیش خطرات
سعودی عرب کی سکیورٹی کو درپیش خطرات

  


ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب کے نئے بادشاہ کو تخت سنبھالے ابھی سو دن ہی ہوئے ہیں لیکن اس دوران انہوں نے کئی اہم قدم اٹھائے ہیں جن میں یمن پر فضائی بمباری کا آغاز کرنا ، بعض قدامت پرستوں کو ترقیاں دینا، ایک اندازے کے مطابق لوگوں میں 32عرب ڈالر بانٹنا اور اپنے بیٹے کے تخت پر بیٹھنے کی راہ ہموار کرنا شامل ہیں۔ شاہ سلمان کی حکمرانی کے فیصلہ کن آغاز میں کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کرنا بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے بھتیجے اور طاقتور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد اور اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد نامزد کیا ہے۔ یہ پالیسی ان کے پیش روشاہ عبداللہ سے واضح طور پر مختلف ہے ۔

بی بی سی اردو کا کہنا ہے  کہ ایک ایسا نظام جو بتدریج تبدیلی اور اشرافیہ کے اتفاق رائے سے چلتا رہا ہو، اسے شاہ سلمان نے کسی اور انداز میں چلانے کا راستہ دکھایا ہے اور ان ابتدائی اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایران سے درپیش علاقائی چیلنج کے ساتھ ساتھ داخلی سیاسی دباؤ کا بھی مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کو ایک خطرہ القاعدہ سے تھا۔ آج سے دس سال پہلے وہ خطرناک حملے کیا کرتی تھی لیکن اس وقت وہ بہت کمزور ہوگئی ہے ۔

دوسری جانب یہ دیکھتے ہوئے کہ ’عرب سپرنگ‘ کے بعد شام‘ لیبیا اور مصر میں کیا ہوا، معتدل سوچ رکھنے والے بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ جمہوریت نواز سعودیوں کا کہنا ہے کہ جو وہ دیکھ رہے ہیں اس کے مطابق نظام کی مکمل تباہی کی نسبت احتساب سے بالاتر شاہی حکمرانی زیادہ بہتر ہے۔ القاعدہ اور لبرل جماعتوں کو سعودی معاشرے میں اقلیتی جماعتوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور انہیں بہت ہی محدود حمایت حاصل ہے۔

مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق  قومی استحکام کو جانچنے کا بہترین ذریعہ سعودی خانوادے اور علماء کے درمیان تعلقات  اس وقت  تناؤ کا شکار ہیں۔ ماضی میں علماء کو باقی دنیا میں اس وقت تک اسلام پھیلانے کی اجازت تھی جب تک اس سے خود انہیں کسی قسم کی مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے اثر و رسوخ سے سعودی شاہی شخصیات اور بہت سے لوگ جہاد پھیلانے کی پالیسی سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ  1980  ء کی دہائی میں جب بہت سے سعودیوں نے اپنے ہم وطنوں کو افغانستان میں کلاشنکوف اٹھائے دیکھا تو وہ انہیں ہیرو سمجھنے لگے لیکن جب آج وہی مناظر وہ اپنے قریبی علاقوں شام اور ایراق میں دیکھ رہے ہیں تو وہ یہ سوچ کر فکر مند ہیں کہ کسی بھی وقت یہ جہادی اپنے جہاد کو وسعت دے کر سعودی عرب کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ تمام مذہبی اور نظریاتی مسائل سے ہٹ کر جو چیز پوری دنیا کے لوگوں کے لیئے بھی قابل تشویش ہے وہ ہے معیشت ۔700ارب ڈالر کے غیر ملکی ذخائر کے ہوتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ شاہی حکمران آسانی سے اپنے شہریوں کو تحفے تحائف سے نواز کر کسی بھی سیاسی بحران سے نکل سکتے ہیں تاہم یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا جتنا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ جب شاہ عبداللہ نے عرب سپرنگ کے دوران اسی قسم کی دریا دلی کا مظاہرہ کیا تھا تو سعودی عرب میں مظاہروں کا آغاز ہوگیا تھا۔شاہ عبداللہ نے اس دوران کم سے کم130ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس کے باوجود تین کروڑ کی آبادی میں بہت سے سعودی افراد قطر اورکویت کے امیر لوگوں جیسی زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ سعودیوں کو بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے وہ ویٹروں کے طور پر کام کرنے کو بھی تیار ہیں۔ ریاست کی دریادلی کا دارومدار تیل پر ہے کیونکہ سعودی حکومت کو 90فیصد آمدن تیل سے ہوتی ہے لیکن تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ریاض کو 39ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں بعض لوگوں کا خیال ہے سعودی عرب کو کم آمدن کے ساتھ گزر بسر کرنے پر تیار ہونا چاہیے جب کہ دوسرے کہتے ہیں کہ سعودیہ عرب ہمیشہ دوسرے ممالک کی نسبت سستا تیل پیدا کرتا رہے گا اور جب تک مغرب کو تیل کی ضرورت ہے سعودیہ انہیں تیل فراہم کرتا رہے گا ۔

سعودی عرب کی آمدنی کو جو ایک ہی خطرہ درپیش ہے وہ یہ کہ تیل اور گیس کا کوئی نعم البدل سامنے آجائے جس سے دنیا کا روایتی ایندھن پر انحصار ختم ہوجائے۔ اسی ضمن میں سعودی عرب کے وزیر تیل شیخ یمنی نے 1970کے دوران کہا تھا کہ پتھر کو دور پتھروں کی کمی کی وجہ سے ختم ہی نہیں ہوا تھا اور تیل کو دور دنیا سے تیل ختم ہونے سے بہت پہلے ختم ہوجائے گا۔

بشکریہ بی بی سی اردو 

مزید : بین الاقوامی


loading...