سندھ پولیس اور ذوالفقار مرزاآمنے سامنے،گھرمیں ہی قید ہوکررہ گئے

سندھ پولیس اور ذوالفقار مرزاآمنے سامنے،گھرمیں ہی قید ہوکررہ گئے
سندھ پولیس اور ذوالفقار مرزاآمنے سامنے،گھرمیں ہی قید ہوکررہ گئے

  


بدین (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالتوں سے حفاظتی ضمانتیں منظور ہونے کے باوجود سندھ پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں سمیت مرزا ہاﺅس کا گھراﺅکرلیا اور تمام دروازوں اور راستوں پر پولیس اہلکار تعینات کردیئے گئے جنہوں نے فارم ہاﺅس کی طرف آنا جانا بند کردیا اوراِسے ذوالفقار مرزا کو نیچا دکھانے کی بہترین حکمت عملی قراردیاجارہاہے ۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے بدین میں مرزا ہاﺅس کا گھیراﺅ کرلیا اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ، فارم ہاﺅس کے دروازے اور آنے جانے والے راستوں پر بھی نفری تعینات کردی گئی اور کسی بھی شہری کے فارم ہاﺅس کی طرف آنے جانے پر پابندی لگادی گئی ۔

بتایاگیاہے کہ ذوالفقار مرزا خود کلاشنکوف اُٹھا کر فارم ہاﺅس کے دروازے پر آگئے اور پولیس حکام کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے موقف اپنایاکہ آپ نے ہرحال میں گرفتاری یقینی بنانی ہے تو گولی مار کر لاش لے جائیں ۔

ڈان نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے ذوالفقار مرزاکاکہناتھاکہ حکومت سندھ اور پولیس اوچھے ہتھکنڈوں پراترآئی ہے ، گھر میں راشن بھی نہیں پہنچنے دیاجارہا، اگراُنہیں کچھ ہواتو آصف علی زرداری اور فریال تالپور ذمہ دارہوں گے ۔

دوسری طرف ذوالفقار مرزا اور اُن کے کارکنان کے مرکزی دروازے پر آنے کے بعد پولیس اہلکار پیچھے ہٹ گئے اور فارم ہاﺅس کے گرد پوزیشنیں سنبھال کربکتربند گاڑیاں طلب کرلی گئیں ۔

سیکیورٹی ذرائع کاکہناہے کہ آمدورفت معطل کرنابہترین حکمت عملی ہے ، اندر راشن پانی ختم ہونے کے بعد وہاں موجود لوگ نڈھال ہوجائیں گے اور مرنے کی بجائے گرفتاری دینے کو ترجیح دیں گے ۔

مزید : بدین


loading...