ریکوڈک کیس، عالمی ثالثی عدالت نے ٹی تھیان کی حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی: احمر بلال صوفی

ریکوڈک کیس، عالمی ثالثی عدالت نے ٹی تھیان کی حکم امتناع کی درخواست مسترد ...
ریکوڈک کیس، عالمی ثالثی عدالت نے ٹی تھیان کی حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی: احمر بلال صوفی

  


کوئٹہ (ویب ڈیسک) سرکاری قانونی ٹیم کے سربراہ احمر بلال صوفی نے بتایا ہے کہ ریکوڈک کیس میں عالمی ثالثی ٹریبونل نے ٹی تھیان کمپنی کی حکم امتناعی حاصل کرنے کی درخواست کو منظور نہ کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کو یہ حق حاصل ہوگیا ہے کہ وہ ریکوڈک کے ذخائر کو اپنی معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لائے یہ بات منگل کو ریکو ڈک کے حوالے سے بلوچستان کا بینہ اور اراکین اسمبلی اور میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ میں شرکت کی ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مختلف حلقوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے شکوک شبہات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ریکو ڈک بلوچستان کے عوام کی دولت ہے اس بارے میں کوئی فیصلہ عوام سے چھپا کر نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ ٹی تھیان کمپنی کے ساتھ تمام معاملات کا فیصلہ کابینہ کی مشاورت سے کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک میں مائننگ کا لائسنس جس کو بھی دیا جائے گا بین الاقوامی معیار کے مطابق اور ٹینڈر کے ذریعے نہایت شفاف انداز سے دیا جائیگا ۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ان عناصر پر کڑی نکتہ چینی کی جوبلا جواز ریکوڈک منصوبے کے کے حوالے سے بدعنوانی اور کمیشنوں کے الزامات لگا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کے نئے ٹینڈر کے سلسلے میں کسی سے نہ کوئی بات چیت ہوئی ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ کوئی رابطہ کیا ہے تو ایسی صورت میں کسی جانب سے کمیشن دینے اور لئے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی تھیان کمپنی کے ساتھ تمام معاملات بین الاقوامی ، تکنیکی و مالیاتی ماہرین کے ساتھ مشورہ کرکے فیصلہ کریں گے اور اس سلسلہ میں بلوچستان کے وکیل احمر بلال صوفی نے ریکوڈک کیس کے مختلف پہلوؤں اور اب تک ہونے والے پیش رفت کے بارے میں وزراء ، اراکین اسمبلی اور میڈیا کو بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی ثالثی ٹریبونلز میں کیس چل رہا تھا آئی سی ایس آئی ڈی میں وفاقی حکومت کے خلاف کیس کی سماعت کا پہلا مرحلہ ختم ہوچکا ہے جبکہ آئی سی ایس آئی ڈی میں وفاقی حکومت بلوچستان کے خلاف ٹی تھیان کمپنی کے دعوے کی سماعت ہورہی ہے۔

ٹی تھیان کمپنی ذخائر کی دریافت کے دوران ہونے والے اخراجات کی واپسی کا تقاضا کررہی ہے یہ معاملہ عدالت کے باہر ٹی تھیان کمپنی سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک مائننگ پر کام کرنے کے لئے حکومت بلوچستان آزاد اور خودمختار ہے اس سلسلے میں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کسی کو بھی اس کا لائسنس دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے 14ہولز پر کام اور 99کلو میٹرزمین کے لئے لائسنس کی درخواست کی تھی جس پر اس کی درخواست مسترد کی گئی اور حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کمپنی زیادہ سے زیادہ 6کلومیٹر رقبے پر کام کرسکتی ہے ۔

احمر بلال صوفی نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1993میں بی ایچ پی اور بی ڈی اے کے اشتراک سے ایک جوائنٹ وینچر کے طور پر CHEJVAمعاہدے کے تحت ایکسپلوریشن کا لائسنس جاری کیا گیا ۔ 2006میں ٹی تھیان کمپنی نے مذکورہ لائسنس 240ملین ڈالر میں خرید لیا۔

2011میں ٹی تھیان کمپنی نے ایکسپلوریشن کے بعد حکومت بلوچستان کو 99کلومیٹر علاقے اور 14ہولز مائننگ لائسنس حاصل کرنے کے لیئے درخواست دی تاہم فزیبلٹی رپورٹ میں صرف 6کلومیٹر کا ذکر کیا گیا۔ لہٰذا ڈی جی مائنز نے ٹی تھیان کی درخواست کو مسترد کردیا۔

ٹی تھیان کمپنی نے اس فیصلہ کو ICSIDاورICCمیں چیلنج کردیا۔ ICSIDمیں وفاقی حکومت اور ICCمیں حکومت بلوچستان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے حکومت بلوچستان نے دونوں ٹریبونل میں اپنا مقدمہ موثر انداز میں پیش کیا ہے اور اس بات پر بھرپور دلائل دیئے کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے تمام قانونی تقاضے پورے کئے اور ٹی تھیان کمپنی کو اپنے مقدمہ کا دفاع کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا۔

اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں ٹی تھیان اور BDAکے درمیان ہونے والے معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا۔ احمر بلال صوفی نے مزید بتایا کہ ہمارے قانونی مشیروں نے حکومت بلوچستان کو ریکوڈک کے مسئلہ کو فریقین کے درمیان بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ نے اس موقع پر بتایا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں جو وفد لندن گیا تھا اس نے اب تک صرف ابتدائی بات چیت کی ہے اور فریقین کے ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ معاملات کو کس طرح حل کیا جائے۔ بریفنگ کے دورن وزیر اعلیٰ بلوچستان ، چیف سیکریٹری بلوچستان، احمر بلال صوفی نے اپوزیشن لیڈر اور دیگر اراکین اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے متعدد سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیئے۔

مزید : کوئٹہ


loading...