نیپالی حکام کی ماﺅ نٹ ایورسٹ کے سفر کو ممکن بنانے کی کوشش

نیپالی حکام کی ماﺅ نٹ ایورسٹ کے سفر کو ممکن بنانے کی کوشش
 نیپالی حکام کی ماﺅ نٹ ایورسٹ کے سفر کو ممکن بنانے کی کوشش

  


کھٹمنڈو(مانیٹرنگ ڈیسک)نیپالی حکومت نے ایک انتہائی متنازع قدم کے تحت ایک ٹیم ماونٹ ایورسٹ کے لیے روانہ کی ہے تاکہ کوہ پیمائی جلد از جلد شروع کی جا سکے۔ اس ٹیم کو بیس کیمپ سے آگے کے راستے کو درست کرنے کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ نیپال میں آنے والے حالیہ زلزلے میں ایورسٹ کو سر کرنے کی غرض سے بیس کمیپ پر مقیم 19 کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔

برف کے تودے گرنے سے تمام رسیاں اور سیڑھیاں جو پہلے کیمپ پر جانے کے لیے لگائی گئی تھیں وہ تباہ ہو چکی ہیں، اور کوہ پیماوں کا پہلے کیمپ تک پہنچنا ناممکنات میں شامل ہو گیا ہے۔نیپال میں سیاحت کے شعبے کے ڈائرکٹر تلسی گوتم نے کہا: ’ہمارے اندازے کے مطابق چند دنوں میں یہ لوگ اسے درست کر دیں گے‘ کیونکہ ان کے خیال میں چند سیڑھیاں ہی تباہ ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا: ’اگر ہم مئی کے پہلے ہفتے میں راستے کو ٹھیک کر سکے تو یہ عین ممکن ہے کہ کوہ پیما اپنی مہم مئی کے تیسرے یا چوتھے ہفتے تک پوری کر لیں۔‘اطلاعات کے مطابق بہت سے کوہ پیما ابھی بھی بیس کمیپ پر اس امید میں ہیں کہ کب راستے کھلیں اور وہ اپنی مہم پر روانہ ہوں۔دنیا کی اس بلندترین چوٹی کو سر کرنے کی خواہشیں ہر کوہ پیما کے دل میں موج زن ہوتی ہیں لیکن اس کے لیے بہت پیسے درکار ہوتے ہیں۔تجارتی مقاصد کے تحت کوہ پیمائی کی سربراہی کرنے والے گائے کوٹر کے 5  کوہ پیما برف کے تودے گرنے سے ہلاک ہو گئے تو انھوں نے اپنی مہم منسوخ کر دی۔

 بحران کے باوجود حکومت ایورسٹ کی کوہ پیمائی کے راستے کو کھولنا چاہتی ہے بشرطیہ کہ ایسا کرنا محفوظ ہو۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس پر ان کوہ پیماوں کی جانب سے دباو ہے جو اپنا ارادہ ترک کرنا نہیں چاہتے۔

دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کو فتح کرنا ہر کوہ پیما کا خواب ہوتا ہے لیکن اس میں خرچ بہت آتا ہے۔دوسری جانب مالی وجوہات بھی ہیں کیونکہ سیاحت نیپال کی واحد صنعت ہے اور کوہ پیمائی اور ٹریکنگ اس کا اہم حصہ ہیں۔حالات جس قدر جلد معمول پر آتے ہیں سیاحت پر اس کا اثر اتنا ہی کم پڑے گا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...