ہائی کورٹ :جعلی کمپنیاں بنا کر ٹیکس فراڈ کے 2مجرموں کو اڑھائی کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا حکم 

ہائی کورٹ :جعلی کمپنیاں بنا کر ٹیکس فراڈ کے 2مجرموں کو اڑھائی کروڑ روپے ...
ہائی کورٹ :جعلی کمپنیاں بنا کر ٹیکس فراڈ کے 2مجرموں کو اڑھائی کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا حکم 

  


لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عبدالسمیع خان نے دو جعلی کمپنیاں قائم کر کے ڈھائی کروڑ روپے کی ریٹرن حاصل والے دو مجرموں کی سزاﺅں میں اضافے کےلئے دائر ایف بی آر کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں 6ماہ میں ڈھائی کروڑ روپے کی رقم واپس سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا حکم دے دیا ۔کسٹم کورٹ نے شیخ حیدر علی اور شیخ شکیل احمد نامی ان مجرموں کے اقبال جرم کے بعد انہیں محض 2ماہ قید اور 20ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ایف بی آر نے یہ اپیل دائر کی تھی ۔ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب کوئی کسی جرم کا اعتراف کر لیتا ہے تو اس کا اپیل کا حق ختم ہوجاتا ہے ،اسے اعلی ٰ عدالتوں سے کسی رعایت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے ۔فاضل جج نے رقم میں کمی کے لئے کی جانے والی مجرموں کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب ملزموں کاحق اپیل ہی ختم ہوگیا ہے تو پھر فراڈ سے حاصل کی گئی رقم میں کمی یا دی گئی سزاءمیں کمی کس طرح ہو سکتی ہے ۔ درخواست گزار ایف بی آر حکام نے اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ کراچی کے رہائشی ملزمان شیخ حیدر علی اور شیخ شکیل احمد نے لاہور اور گوجرانوالہ میں میسرز اے آئی انٹرپرائزرز اور یونیک انپیکٹ کے نام سے جعلی کمپنیاں قائم کیں ۔وہ ان جعلی کمپنیوں سے سیل انوائس بنوا کر ٹیکس ریٹرن حاصل کرتے رہے ۔جس پر ڈائریکٹریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن علامہ اقبال ٹاون نے ان کے خلاف 2کروڑ 34لاکھ کا ایک مقدمہ درج ہوا اور دوسرا مقدمہ 16لاکھ 20ہزار کا درج ہوا ۔تاہم کسٹم کورٹ نے انہیں دو ماہ کی سزاءاور 20ہزار روپے جرمانے کی سزاءسنائی ۔ایف بی آر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا جرم بہت بڑا اور سزاءبہت کم ہے چنانچہ سزاءمیں اضافہ کیا جائے اور رقم کی ادائیگی کا بھی حکم دیا جائے۔جس پر ملزمان کے وکیل نے استدعا کی کہ وہ یہ رقم ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن رعایت دیتے ہوئے رقم میں کچھ کمی کر دی جائے ۔جس پر فاضل عدالت نے مذکورہ بالا ریمارکس دیتے ہوئے چھ ماہ میں رقم کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

مزید : لاہور


loading...