26 سالہ نوجوان لڑکی خود کشی سے پہلے 2 روز انٹرنیٹ پر کیا سرچ کرتی رہی؟ جان کر کوئی بھی پریشان ہوجائے

26 سالہ نوجوان لڑکی خود کشی سے پہلے 2 روز انٹرنیٹ پر کیا سرچ کرتی رہی؟ جان کر ...
26 سالہ نوجوان لڑکی خود کشی سے پہلے 2 روز انٹرنیٹ پر کیا سرچ کرتی رہی؟ جان کر کوئی بھی پریشان ہوجائے

  

ممبئی (نیوز ڈیسک) اتوار کی شام ایک بلند عمارت سے کود کر خودکشی کرنے والی خوبرو بھارتی فیشن ڈیزائینر ایشا ہانڈا کی دردناک موت نے ہر سننے والے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایشا کی خودکشی کی فورینزک تحقیقات کے نتیجے میں اب ایسے حقائق سامنے آئے ہیں کہ ایک دفعہ پھر ہلچل برپا ہوگئی ہے۔

اخبار ’بنگلور مرر‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایشا نے اپنی جان لینے سے دو دن قبل مرنے کے مختلف طریقوں کے بارے میں تحقیق شروع کردی تھی۔ انہوں نے تقریباً 90 ویب سائیٹس وزٹ کیں جن پر بلندی سے کودنے، زہر کھانے، گولی سے مرنے سمیت درجنوں طریقوں پر تحقیق کی۔ بالآخر بلندی سے کودنے کا فیصلہ کرنے کے بعد ایشا نے مزید سرچ کی جس میں معلوم کیا کہ عمارت کتنی بلند ہونی چاہیے، سر کے بل گرنا چاہیے یا سیدھا گرنا چاہیے، اور اسی طرح کی دیگر درجنوں معلومات اکٹھی کیں۔

نوجوان لڑکی نے پولیس اہلکار سے ایک ایسی چیز ’چیک‘ کرنے کی درخواست کردی کہ فوری گرفتار ہی کرلیا گیا، تفصیلات جان کر ہنسی روکنا مشکل،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکسی لے کر شہر میں مختلف عمارتوں کا جائزہ بھی لیتی رہیں اور بالآخر 13 منزلہ سوبھا کلاسک اپارٹمنٹس کو اپنی جان لینے کیلئے منتخب کیا۔ وہ اپنی دو ساتھی خواتین کو کہہ کر گئیں کہ وہ اپنے ذاتی کام سے جارہی ہیں اور بہت دیر سے واپس آئیں گی۔ ایشا نے اپنی منتخب کردہ عمارت کا رُخ کیا اور وہاں تین سے چار گھنٹے گزارنے کے بعد 13 ہویں منزل سے کود کو خود کشی کرلی۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ ان کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا اور ڈاکٹروں کو ان کا جسم اکٹھا کرنے میں بہت مشکل پیش آئی۔

’نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کی کوشش، مزاحمت پر لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا‘تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

خوبصورت چہرے والی ہنس مکھ فیشن ڈیزائینر نے ایسے بھیانک انداز میں اپنی زندگی کا خاتمہ کیوں کیا، اس سوال کا جواب تاحال سامنے نہیں آیا، البتہ تحقیقات جاری ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس دلخراش واقعے کے تمام حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔

حمل روکنے کے لئے نوجون لڑکی کاآلو کاشرمناک استعمال،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -