ڈیپریشن زدہ قوم اور سیاستدان

ڈیپریشن زدہ قوم اور سیاستدان
 ڈیپریشن زدہ قوم اور سیاستدان

  



ڈیپریشن ایک ایسا نفسیاتی مرض ہے جس سے انسان حالات سے مایوس ہو کر یا تو بے حس ہو جاتا ہے، یا تنہائی کے خول میں چلا جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات اس کو خطرناک نفسیاتی مرض قرار دے چکے ہیں۔ آج کل کے ملکی حالات کو دیکھا جائے تو ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم کو جان بوجھ کر ایک منصوبہ کے تحت ڈیپریشن زدہ قوم بنایا جا رہا ہے؟ جی ہاں! نااہل سیاستدان پھر ملک کو ایسی جگہ پر لے آئے ہیں جہاں ڈیپریشن کے امراض اور خودکشیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ضرور ہے، مگر قوم مایوس نظر آتی ہے۔ 2013ء کے الیکشن کیا ہوئے، پہلے تو دھاندلی کے خلاف مہم چلا کر قوم کو منتشر کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی فتح ہوئی اور کچھ صوبوں میں سپلٹ مینڈیٹ ملا، مگر تحریک انصاف کے سربراہ نے ملک میں سازگار حالات آنے ہی نہ دیئے۔ دراصل ماہرین نفسیات کے مطابق آپ کی توقعات اور خواہشات اگر اس کی حصولیتسے بھی زیادہ رکھی گئی ہوں تو آپ مایوس ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد غلط سمت میں چلے جاتے ہیں۔ دھرنے کے 124دنوں کے دوران اسلام آباد ہی نہیں، پورے ملک کے عوام عجیب قسم کے مخمصے میں مبتلا ہو گئے۔ دارالحکومت کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی طرح ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے کی بات ہوئی تو پرائم منسٹر نے فوج کے ساتھ مل کر تمام پارٹیوں کو اکٹھا کیا، اس طرح قوم میں تھوڑا سا اتفاق نظر آیا، مگر تحریک انصاف نے ہر وہ معاملہ اٹھایا جو فوج اور جمہوری حکومت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بنا۔ قومی اسمبلی کو نظر انداز کیا گیا،بھاری تنخواہیں لینے کا عمل جاری رہا اور قوم دیکھتی رہی کہ ان کے نمائندے اسلام آباد اور پورے ملک کے لوگوں کو ایسے تقسیم کر دیں گے کہ عوام کی ذاتی اور مجموعی زندگی عذاب بن جائے گی۔

اس کے بعد پاناما اور ڈان لیکس جیسے مسئلے پیدا کرکے قوم کو یہ نوید سنائی گئی کہ آپ کی ترقی سی پیک منصوبے، کمیونیکیشن کے ذرائع، سستی خوراک، سکولوں کا قیام، تعلیم ہر ایک کے لئے، غریبوں کے علاج۔۔۔ یہ سب آپ کا حق نہیں، آئیں مظاہرہ مظاہرہ کھیلیں۔ گالی گالی کھیلیں، طوفان بدتمیزی میں کون نمبر ون پر ہے؟۔۔۔ یہ مقابلے شروع کرکے قوم کو بداخلاقی اور بدتمیزی کی راہ دکھائی گئی، پھر زرداری شو بھی شروع ہو گیا۔ ایان علی، ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن اور پھر خودآصف علی زرداری کے گناہوں کو دھو کر یہ کہا گیا کہ یہ بھٹو کی سیاست ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ اگر کسی کو ملایا جا سکتا ہے تو وہ بے نظیر بھٹو ہیں۔

شائستگی کے ساتھ سیاست کی اور دلیری سے جان دی۔ سندھ حکومت کی حالت یہ ہے کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اب ہمارا کچرا بھی پرائیویٹ لوگ اٹھائیں گے۔ رپورٹیں روزانہ منہ چڑاتی ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو کیوں اتنی اہمیت دی جا رہی ہے؟ میڈیا کا رول بھی ایسا ہی ہے کہ لوگوں کو مایوس کر دیا جائے کہ نہ تو لوگوں کی روٹی کی بات کرو، نہ تعلیم اور صحت کی، بس رات کوٹاک شو کے نام پر تفریق کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے ایسے لوگوں کو رول ماڈل بنا کر پیش کیا جاتا ہے جن کا ایک ہی نعرہ ہوتا ہے۔ وہ قوم کو آکر مختلف قسم کی نوید سناتا اور لوگوں کے جذبات سے کھیلتا ہے۔ اینکر حضرات مزے لیتے ہیں، جبکہ لوگ کنفیوژ ہو رہے ہیں کہ ایک لیڈر جس شخص کو کہتا تھا کہ میں اسے چپراسی بھی نہ رکھوں، اسے قوم کو سرپرسجانیکے لئے آگے لے آیا گیاگویا اس طوفان بدتمیزی سے قوم مایوسیوں کے گڑھے میں گرتی چلی جا رہی ہے۔ لوگوں کے چہرے خوشی سے دور اور مایوسی میں گھرتے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو قوم کے لئے کچھ ڈیلیور کرنا چاہیے تھا۔ پہلی بار چانس ملا تھا، اپنی کارکردگی سے بتاتے کہ انہیں آئندہ ووٹ دیا جائے۔ گزشتہ دنوں ایک یونیورسٹی سروے کیا گیا جس میں ٹاک شوز کے بارے میں رائے لی گئی۔53فیصد لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے ٹاک شوز کے چینل بدل کر ڈرامے دیکھنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس سے چینلوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ عوام کو علم ہے کہ ان کا بھی اس مایوسی پھیلانے میں کتنا ہاتھ ہے۔سیاست سے سنجیدگی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ پارٹیاں بدلنے والے بڑی ڈھٹائی سے اپنی پہلی پارٹیوں پر تنقید کے فائر کرتے ہیں اور انہیں ذرا شرم نہیں آتی کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے۔اس سارے ماحول میں ایک عام آدمی خوش اور مطمئن کیسے رہے گا؟ ترقی کا سفر جاری رکھنے والوں کو داد دینی چاہیے کہ وہ اس قسم کے ماحول اور تماشوں میں بھی اس سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قوم کو ڈیپریشن زدہ نہ کر یں، بلکہ اسے خوشگوار سیاست کا ماحول دیا جائے، جس میں یہ نہ کہا جائے کہ ہم سینیٹ بھی تم سے لے لیں گے، بلکہ یہ کہا جائے کہ ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے ،جہاں دھرنے نہ ہوں، بامقصد مذاکرات ہوں، جہاں جلسہ، ریلی نہ ہو، بلکہ اخلاقیات کے اندر رہ کر اپنا موقف پیش کیا جائے۔ جہاں عوام کو جھوٹے خواب نہ دکھائے جائیں، بلکہ ان کو کام کرکے دکھائیں، تاکہ مایوسی کا ماحول ختم ہو اور لوگ ذہنی طور پر آسودگی اور سکون محسوس کریں، لہٰذا سب فریقین سے گزارش ہے کہ اس ماحول کو بدلیں، ورنہ قوم تقسیم بھی ہوگی اور ذہنی مریض بھی۔

مزید : کالم