فرانس کے بعدیورپی یونین کا کیا بنے گا 

فرانس کے بعدیورپی یونین کا کیا بنے گا 
فرانس کے بعدیورپی یونین کا کیا بنے گا 

  

فرانس کے صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے  جس میں  ایمل  ما رکون اور لی پن کو برتری  حاصل ہے  جبکہ دوسرا مرحلہ اتوار تک مکمل ہو جائے گا۔جمعہ کی رات کو الیکشن مہم ختم ہو جاے گی-  ابھی تک ان انتخابات میں غیر متوقع نتا یج برآمد ھونے کے تمام امکانات پورے ہوئے ہیں اوراس دوڑ میں ابھی تک ایمل  ما رکون سر فہرست ھیں ۔ فرانسیسی الیکشن بھی امریکی الیکشن کی طرح مختلف سوچ کے حا مل نظر آ  رہے ہیں جو عالمی منظر نامے پر بہت گہرے  اثرات  مرتب کریں گے-

 اس صورتحال کی بڑی وجہ مسلمانوں کا فرانس میں پناہ لینا ،فرانس کے اقتصادی حالات اور یورپی یونین سے اخراج جیسے معاملات ہیں۔ فرانس کے تقریباَ سب ہی سیاستدان غیر ملکی تارکین وطن کے لیے یک زبان ھیں- اُن کے نزدیک ان مہاجرین کے باعث ان ممالک کی معیشت بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے- شامی پناہ گزین بہت بڑی تعداد میں  یورپ پہنچے ہیں مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ صدارتی انتخابات میں شامل خاتون  امیدوار لی پن  خود غیر ملکی تارکین وطن کے لیے مقدمات لڑتی رہی ہے-لیکن اب وہ غیر ملکیوں کی سخت مخالف ہے-جبکہ دوسرے امیدوار ایمل  ما رکون مسلم دشمن پالیسی کے خلاف ہیں ان کے نزدیک فرانس ان باتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اس سے مزید لڑائی کا امکان ہے.

برطانیہ نے جب سے یورپی یونین کو چھوڑا تھا، تب سے فرانس میں بھی یہ بحث نکل پڑی تھی کہ فرانس وہاں کیا کر رہا ہے اگرچہ زیادہ تر ماھرین کا کہنا ہے کہ فرانس کو برطانیہ والی غلطی نہی کرنی چاہیے-کیونکہ فرانس  یورپی یونین کا  اہم ترین  رکن ہے جو اس یونین کی مالی طاقت بھی ہے۔ اگر فرانس نے یورپی یونین کو چھوڑنے کا  فیصلے  کیا تو  اس سے نہ صرف یونین کمزور ہو گی بلکہ خود فرانس کو بھی نقصان ھو گا نیٹو کا وجود بھی خطرہ میں پڑ سکتا ہے-ایمل  ما رکون یورپی یونین کے حق میں ہیں ان کے مطابق یورو کرنسی یورپ  اور فرانس دونوں کے لیے بہتر ہے-جبکہ دوسری امیدوار لی پن اس مسلہ پر ریفریڈم کروانے کے حق میں ہے

اس مرتبہ فرانس کے انتخابات بھی کرپشن کی صداؤں کی  زد میں ہے -تمام امیدواروں کا کسی نہ کسی طرح کرپشن سے تعلق ضرور ہے جن سے کوئی بھی انکاری نہیں میرین لی پن کا تعلق انتہا پسند جماعت سے ہے  جس پر کرپشن کے الزامات ہیں جو لی پن کے والد کے دور سے ہیں -  ایمل مارکون اپبنی فوج اور  پولیس کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ۔ایمل نے اپنی استانی کو 17 سال کی عمر میں شادی کی پیشکش کی تھی جو اب ان کی بیوی ہے-اس وقت ایمل کی عمر 39 جبکہ ان کی بیوی 64 سال کی ہیں-

فرانس  یورپ کا بہت اھم ملک ہے اگر یہاں بھی مختلف  نتایج آئے تو خطہ میں شورش کے امکانات بہت بڑھ سکتے ہیں-مسلمانوں کے لیے یہاں بھی زمین تنگ ہو جائے گی،یورپی یونین ختم ہوئی تو نیٹو کا وجود خطرہ میں پڑ سکتا ہے.جو یورپ کے لیے اچھی خبر نہ ہو گی-

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -