خلائی مخلوق اور پرویز مشرف

خلائی مخلوق اور پرویز مشرف
خلائی مخلوق اور پرویز مشرف

  

ابا مرحوم کو بیٹھے بٹھائے نجانے کیا سوجھی کہ شہر کے وسط میں چنگا بھلا گھر بیچ کے شہر سے باہر صحرا کے وسط میں زمین خرید کے گھر بنانے کا اعلان کر دیا، جہاں ہم نے گھر بنایا، اردگرد صحرا ہی صحرا تھا۔۔۔ اور آبادی چار گھروں پر مشتمل تھی۔۔۔ پرانے گھر میں تو بجلی تھی،مگر یہاں بجلی کا نام تو موجود تھا، بجلی نہیں تھی۔۔۔سوئی گیس کا تو سوال ہی نہیں،وہ تو پورے میانوالی میں نہیں تھی، بس سُنا کرتے تھے کہ بلوچستان کے پہاڑوں سے سوئی گیس نکلی ہے جو چولہے جلانے کے کام آتی ہے۔ہم جب نئے گھر میں شفٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہاں ’’ہوائی مخلوق‘‘ کے بھی گھر ہیں اور بتایا گیا کہ ہم روزانہ جس ’’پلی‘‘ کے نیچے سے گزر کے آتے ہیں، یہاں بھی ہوائی مخلوق کا ڈیرہ ہے اِس لئے مغرب سے پہلے پہلے گھر واپسی یقینی بنایا کرو، ہم تو ایسے خوفزدہ ہوئے، کہ عصر کے بعد ’’پلی‘‘ سے گزرنا تو دور کی بات اُس طرف منہ کر کے دیکھنے سے بھی ڈرتے تھے اور اگر کبھی کسی ضروری کام سے جانا بھی پڑتا تو، اماں تین چار بار آیت الکرسی پڑھ پڑھ کے ڈر اُتارنے کی کوشش کرتی،مگر ہم مزید ڈر جاتے،پلی کے علاوہ بتایا گیا۔۔۔ کہ وہ جو سامنے ’’بیری‘‘ کا درخت ہے وہاں تو ہوائی مخلوق کا ایک پورا قبیلہ آباد ہے،جن کی نقل و حرکت اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔

بالخصوص ان کی شادی پر شمعیں جلتی ہیں اور مرگ پر رونا بھی سنائی دیتا ہے، جو اکثر کتے کی آواز سے مشابہ ہوتا ہے۔یہ مارچ کے آخر اور اپریل کے ابتدائی دن تھے، چنے اور گندم کی فصلیں پورے جوبن پر تھیں، بارشیں بھی خوب ہوئی تھیں، سو کسان بہت خوش تھے کہ اس بار تو گندم اور چنے کی فصل کے انبار لگ جائیں گے ان فصلوں کی چوری بھی ہوتی تھی، یعنی کوئی چور رات کے وقت ان فصلوں پر ہاتھ صاف کر جاتا تھا۔۔۔ اور پھر جنگلی گیدڑ اور سور بھی کبڈی کھیلنے آ نکلتے اور اچھی خاصی فصل برباد کر جاتے، اوپر سے ’’ہوائی مخلوق‘‘ کے شادی بیاہ کے دن بھی یہی ہوتے تھے، اچانک رات کو ڈھول کی آواز آتی، اور قطار در قطار شمعیں جلتی نظر آتیں، سمجھ جاتے کہ آج ہوائی مخلوق کی شادی ہے، فاصلہ چونکہ زیادہ ہوتا تھا اِس لئے دور سے ہی نظارہ کرتے تھے، ہوائی مخلوق کی شادی کا یہ منظر ہم انسان ہی نہیں گیدڑ اور سور بھی دیکھتے تھے اور اگر کوئی شادی کی جگہ پر آ نکلتا تو اس کی ’’کوں کوں‘‘ بھی سنائی دیتی تھی، ہوائی مخلوق کے کتے ان پر حملہ آور ہو جاتے تھے اور کبھی کبھی تو گولی کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔۔۔ صبح جب ہم ’’بیری‘‘ کے درخت کے پاس جاتے تو جگہ جگہ ’’بھنے ہوئے چنے‘‘ بکھرے ہوئے ملتے، ایک آدھ گیدڑ بھی مرا ہوا ہوتا تھا۔۔۔ یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتا رہا۔۔۔ مگر آخر کار سب کو سمجھ آ گئی کہ یہاں کوئی ’’ہوائی مخلوق‘‘ نہیں ہے۔ یہ سب زمین کے مالک زمیندار کی کارستانی ہے، جو صرف فصلیں بچانے اور خود کو کسی بھی طرح کے نقصان سے بچانے کے لئے یہ سب تماشے کرتا ہے اور مخلوقِ خدا کو اِس طرح کے خوف دِلا کے فصلوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جنابِ نواز شریف نے بھی اب ’’خلائی مخلوق‘‘ کی بات کی ہے کہ اُن کا مقابلہ ’’خلائی مخلوق‘‘ کے ساتھ ہے اور یہ جو بظاہر میرے مخالف سیاست دان ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ سب ’’خلائی مخلوق‘‘ کے تابع ہیں، نواز شریف جب ’’خلائی مخلوق‘‘ کی بات کرتے ہیں تو پھر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ ’’خلائی مخلوق‘‘ کون ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ ’’خلائی مخلوق‘‘ کون ہے،مگر پھر بھی پوچھتے ہیں کہ سیدھا سیدھا بتاؤ کہ کون ہیں۔اب یہ بتانے کی بات کہاں رہ گئی ہے کہ پاکستان کے قیام کے فوری بعد طرح طرح کی ’’خلائی مخلوق‘‘ اقتدار پر اپنا قبضہ حاصل کرنے کے لئے سرگرم ہوئیں۔ بابائے قوم کی رحلت کے بعد جاگیردار طبقہ اس پر قابض ہو گیا۔۔۔ اور ہر راستے سے اپنا قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔وقت آگے بڑھتا گیا۔۔۔ اور مختلف طبقات قبضہ گروپ کی شکل میں اپنا قبضہ جماتے رہے۔اِس دوران جنرل ایوب خان نے سوچا کہ میرے پاس طاقت بھی ہے،اختیار بھی ہے، تو کیوں نہ مَیں ہی خود سامنے آؤں اور قبضہ کر لوں۔۔۔ سو انہوں نے ڈنڈے کے زور پر قبضہ جما لیا اور طویل عرصے تک قبضہ جمائے رکھا،جب دیکھا کہ اب معاملہ میرے ہاتھ سے نکل رہا ہے، تو انہوں نے یحییٰ خان کو آگے کر دیا۔جنرل یحییٰ خان اپنی مستی کے آدمی تھے، اچانک ان پر افتاد آ پڑی کہ انہوں نے بھی قبضہ مضبوط بنانے کی کوشش کی مگر۔۔۔ دِل پشوری قسم کے آدمی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ زندگی کے چند دن ہیں کیوں نہ ہنس کھیل کے گزارے جائیں،سو ان کے دن رات گیت سنگیت میں گزرنے لگے۔اسی گیت سنگیت میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔۔۔ یحییٰ خان گیت گنگناتے ہوئے نکل گئے اور سب کچھ بھٹو کے حوالے کر دیا۔۔۔

بھٹو صاحب نے ایوب خان کے ساتھ ’’متھہ‘‘ لگایا اور یحییٰ خان کو بالکل مفلوج کر دیا تھا۔۔۔انہیں جنرل ضیا نے آ کر پکڑا اور ایوب خان اور یحییٰ خان کا ’’بدلہ‘‘ لے لیا، جنرل ضیا الحق گئے تو ایک بار پھر عوامی دور آ گیا۔۔۔بے نظیر بھٹو، نواز شریف، پھر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف۔۔۔ مگر جنرل مشرف کہاں نچلے بیٹھنے والے تھے، بہانہ بناتے کوئی دیر تھوڑی لگتی ہے،ایک مظلوم سا بہانہ بنایا اور نواز شریف کو اُتار پھینکا۔ گزشتہ رات جنرل مشرف فرما رہے تھے کہ نواز شریف ڈیل کر کے گئے،مَیں انہیں چھوڑنے والا نہیں تھا۔۔۔ اب کوئی ان سے پوچھے، کہ نواز شریف تو خاندان سمیت قید میں تھے اور اگر انہوں نے سعودی عرب کے ’’بادشاہ‘‘ کے ذریعے ڈیل کی تھی تو پھر کیا وہ ’’خلائی مخلوق‘‘ تھے کہ قید خانے سے اُڑ کے ’’سعودی بادشاہ‘‘ کے پاس ڈیل کی درخواست لے گئے؟

جنرل مشرف کے بارے میں سُنا تھا کہ وہ اچھے بھلے ’’کمانڈو‘‘ تھے، دلیر آدمی بتائے جاتے ہیں،مگر نواز شریف کے معاملے میں ان کا کوئی بھی ’’بیانیہ‘‘ ہو وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔مثال کے طور پر بقول جنرل مشرف نواز شریف ایک ’’غدار‘‘ اور قومی نوعیت کے جرم میں ملوث مجرم تھے۔عدالت نے انہیں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔۔۔ تو پھر ایک ایسا مجرم جو کہ ’’غدار‘‘ ہو، اُسے جنرل مشرف نے رہا کیوں کیا؟

کس قانونی و آئینی شق پر عمل کرتے ہوئے نواز شریف کو رہا کیا۔۔۔ جنرل مشرف کو تو چاہئے تھا کہ وہ ایک بہادر کمانڈو کی طرح سعودی بادشاہ کے سامنے ’’اکڑ‘‘ کے کھڑے ہو جاتے کہ بادشاہ سلامت،یہ میرے مُلک کے وقار کا معاملہ ہے،یہ آئین و قانون کی بالادستی کا معاملہ ہے، مَیں ایک ’’غدارِ وطن‘‘ شخص کو آپ کے حوالے کیسے کر دوں، کیا بطور ’’حکمران‘‘ میری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں کہ نہیں؟مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔ نواز شریف کو بڑے آرام سے جہاز پر سوار کرایا۔۔۔ اور سعودی عرب بھیج دیا۔۔۔ انہوں نے خود تسلیم کر رکھا ہے کہ ان کے بڑے بھائی شاہ عبداللہ نے انہیں ڈیڑھ ارب دیئے تھے وہ شاید اس ڈیل کا صلہ تھا۔ ابھی کل ہی جنرل فرما رہے تھے کہ آصف علی زرداری تو دو ’’ٹکے‘‘ کا آدمی ہے۔ اگر بھٹو زندہ ہوتے تو کبھی بھی بے نظیر بھٹو اور زرداری کی شادی نہ ہوتی۔۔۔ اور پھر کہا کہ مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر کا قاتل بھی زرداری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا قاتل زرداری ہے تو پھر کم از کم بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے تو اپنے دور میں بطورِ حکمران انہیں گرفتار کرنے کا حکم دینا چاہئے تھا، اور ایسے حالات میں جب بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی جنرل مشرف پر لگایا جاتا ہے تو انہیں کم از کم اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے تو ’’حق‘‘ کا ساتھ دینا چاہئے تھا کہ نہیں؟مگر چونکہ جنرل مشرف ’’خلائی مخلوق‘‘ ہیں، یعنی ہر وقت ’’خلا‘‘ میں رہتے ہیں۔

پاکستان کی عدالتوں کو وہ مطلوب ہیں۔ سو طرح کے ان پر الزام ہیں، اب تو ناجائز اثاثے بنانے کے الزام بھی سامنے آ چکے ہیں،مگر وہ پاکستان آنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ان کے آنے کا ماحول بنے گا، وہ واپس آ جائیں گے، حالانکہ وہ جانتے ہیں، کہ پاکستان میں اس وقت وہ ماحول پورے عروج پر ہے، جس مَیں ان کی ’’دال‘‘ گل سکتی ہے، وہ اگر چاہیں تو کسی بھی دن پاکستان واپس آ کے، ’’قومی رہنما‘‘ کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کم از کم ان کے لئے کسی ’’ہوائی مخلوق‘‘ کا کوئی خطرہ نہیں ہے، وہ سید زادے ہیں ان کے پاس ایسا ’’منتر‘‘ موجود ہے، جس کے ہوتے ہوئے ’’خلائی مخلوق‘‘ ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکتی۔۔۔ اور وہ جانتے ہیں کہ خلائی مخلوق اس وقت نواز شریف کے پیچھے ہے۔ان کے ساتھ ساتھ ہے، مختلف طریقوں سے انہیں گھیرنے میں لگی ہوئی ہے،مگر نواز شریف ابھی تک گھیرے میں نہیں آئے اور وہ اپنا ’’بیانیہ‘‘ عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔جوابی بیانیہ ’’خلائی مخلوق‘‘ نہیں، عمران خان اور زرداری پیش کر رہے ہیں۔۔۔ ایک اور ’’ادارہ‘‘ بھی عمران خان اور زرداری کے لئے آسانیاں پیدا کر رہا ہے، مگر یہ سب عارضی بندوبست ہیں، جس کے نتائج ماضی سے مختلف نہیں آئیں گے اور ملک کے لئے خطرناک نتائج نکلیں گے، سو نواز شریف اور خلائی مخلوق کو پاکستان کے بارے میں سوچنا چاہئے، پاکستان اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے۔

معاشی طور پر حالات اچھے نہیں ہیں،دُنیا کے ساتھ تعلقات بھی اچھے نہیں ہیں، سیاسی طور پر جماعتوں کی جگہ گروپوں نے لے لی ہے،قومی سوچ کم ہو رہی ہے۔ لوگ اپنے اپنے علاقائی اور زیادہ تر ذاتی مفاد کے لئے کوشاں ہیں ان حالات میں ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے۔نواز شریف عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔سزاؤں کو بھی تسلیم کر رہے ہیں،مگر عوام کے ساتھ اپنا رابطہ توڑنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں، بعض معاملات پر ان کی ایک رائے ہے،سو ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے، جواباً نواز شریف کو بھی محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہئے۔نواز شریف جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کیا جا رہا ہے وہ ’’حق‘‘ نہیں ہے۔ جواباً وہ کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ یہ ’’حق‘‘ نہیں ہے۔اب اگر دونوں طرف معاملہ ’’اَنا‘‘ کا ہے تو پھر دونوں کا فرض ہے کہ وہ ’’اَنا‘‘ کے معاملے کو پاکستان کے معاملے میں بدل دیں۔۔۔ الیکشن کا انتظار کریں اگر قوم نواز شریف کو لانا چاہتی ہے تو پھر روکنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی توڑنے اور جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -