’’جو صورت نظر آئی‘‘

’’جو صورت نظر آئی‘‘

  

برادرم فاروق عادل کی تازہ کتاب ’’جوصورت نظر آئی‘‘ ان کے لکھے ہوئے 35شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے۔ جس کی پذیرائی ادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والے نامور اہل قلم نے کی ہے اور اسے نہایت دلچسپ اور لائق مطالعہ شخصی خاکوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔

فاروق عادل ایک منجھے ہوئے صحافی ایک مقبول کالم اور سفر نامہ نگار ہیں۔ ان کا امریکا کا سفر نامہ ’’ایک آنکھ میں امریکا‘‘ چند سال پہلے منظر عام پر آیاتھا اور اپنے منفرد ادبی اسلوب اور دلچسپ تجربات و مشاہدات کی وجہ سے اہل ادب اور اہل قلم سے داد پاچکا تھا، اب ان کا شخصی خاکوں کا مجموعہ ان کے سفر نامے سے زیادہ مرکز توجہ بنا ہے اور اس پر اب تک اتنے تبصرے اور کالم اخبارات ورسائل میں لکھے جاچکے ہیں کہ انہیں ایک ادیب اور خاکہ نگار کی خوش بختی ہی کہا جائے گا۔

میں نے فاروق عادل کے شخصی خاکے نہایت توجہ اور دلچسپی سے پڑھے اور سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے خاکوں میں مشاہیر اور ان کے احباب کا تنوع دیکھ کر حیران بھی ہوا۔ ان مشاہیر یا شخصیات میں سیاستدان، قومی رہنمائے کمرام، علمائے دین، صحافی اور دانش ور، یہاں تک کہ وہ قائدین بھی شامل ہیں، جن سے ملنے ملانے اور جن کی صحبتوں سے فیض یاب ہونے کا فاروق عادل کو کبھی موقع نہیں ملا۔ لیکن ان شخصیات مثلاً قائد اعظمؒ کی بابت معلومات انہوں نے ان حضرات سے حاصل کیں جنہوں نے قائد اعظمؒ کی آنکھیں دیکھ رکھی تھیں۔ قائد اعظم کے خاکے اور بعض دیگر خاکوں کی داد وہ لوگ بھی دے رہے ہیں جنہیں ان خاکوں کی بعض اطلاعات ومعلومات پر تحفظات ہیں۔ فاروق عادل نے میرے استفسار پر بتایا کہ انہوں نے کسی بھی شخصیت پر قلم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح تفتیش و تحقیق کرلی تھی اور کتاب میں کسی شخصیت کی بابت کسی غیر مصدقہ واقعات کو جگہ نہیں دی گئی۔

فاروق عادل کی کتاب کیا ہے ایک کہکشاں ہے جو شخصیات کے سیرت و کردار کی ضوفشانی سے روشن ہے۔ اس میں دلچسپی کے پہلو ہی نہیں سیکھنے اور سمجھنے کے بھی مواقع موجود ہیں۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ آدمی آدمی ہی کو دیکھ کر بنتا ہے تو فاروق عادل نے اس دورناسپاس میں شخصیات و کردار کے حوالے سے ایسے چراغ روشن کئے ہیں جس سے علم و ادب کی دنیا ہی روشن نہیں ہوئی، یہ احساس بھی طمانیت پاتا ہے کہ خدا کا شکر ہے اس زمانے میں بھی کیسے کیسے گوہر نایاب ہمارے درمیان ہیں یا رہے ہیں، جن سے کوئی سیکھنا چاہے تو وہ کچھ سیکھ سکتا ہے جو ہماری درس گاہیں بھی سکھانے سے عاجزو قاصر رہی ہیں۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ جن دنوں اس خاکسار اور میرے محترم دوست سید محمد علی مرحوم کی شراکت میں محمد صلاح الدین شہید نے ہفت روزہ تکبیر کا اجراء کیا تھا تو اس کے کچھ ہی عرصہ بعد فاروق عادل عملی صحافت سے سرگودھا میں ’’تکبیر‘‘ سے بطور نمائندہ وابستہ ہوگئے تھے۔ اس وقت وہ فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے، سیکنڈ ائیر کے بعد کراچی آگئے جہاں سے صحافت میں ماسٹر کیامیں نے بہ حیثیت صحافی انہیں نہایت محنتی اور صحافیانہ مہارت اور پیشہ ورانہ اہلیت سے متصف پایا اور سچی بات یہ ہے کہ اپنی ان ہی خوبیوں کے باعث انہوں نے نہایت تیزی سے اس پیشے میں نام کمایا اور مقام بنایا۔ بہ حیثیت صحافی ان کے مراسم و تعلقات کا دائرہ بڑھتا اور پھیلتا گیا۔

انہیں سیاست دانوں، صحافیوں، ادیبوں اور عالموں کو نہایت قریب سے دیکھنے اور ان کی صحبتوں میں اٹھنے بیٹھنے اور سیکھنے سکھانے کا موقع ملا۔ تو شخصی خاکوں کی یہ کتاب دراصل کوچۂ صحافت میں ان کی آبلہ پائی کا نتیجہ ہے۔ یہی کہا جاسکتا کہ اگر وہ اس پیشے اور کوچے میں داخل نہ ہوتے اور اتنی بہت ہی متنوع شخصیات سے میل ملاقاتوں کا انہیں موقع نہ ملتا تو اس کتاب کو مرتب کرنا ان کے لئے ممکن بھی نہ ہوتا۔ کہنے کو تو ایسے صحافیوں کی تعداد بے شمار ہے، جنہوں نے کوچۂ صحافت میں اپنی عمریں بتائی ہیں لیکن ہر صحافی فاروق عادل نہیں ہوتا جس کے پہلو میں درد مندی بھی ہو، نگاہوں میں قوت مشاہدہ بھی ہواور ہاتھ میں ایسا پُر تاثیر قلم بھی ہو جو شخصیات کے خاکے صفحہ قرطاس پر کھینچ سکتا ہو۔

فاروق عادل کے شخصی خاکوں کی اس کتاب کی اشاعت پرمیں انہیں تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی ہی اچھی خوب صورت اور مفید کتابیں لکھنے کی توفیق دیتا رہے تاکہ ہم قارئین ادب کے ذوق ادبی کو جلا ملتی رہے(آمین)

مزید :

رائے -کالم -