آصفہ کی عصمت دری : جموں مسلمانوں سے خالی کرانے کی سازش!

آصفہ کی عصمت دری : جموں مسلمانوں سے خالی کرانے کی سازش!

  

کلیجہ پھٹتاہے'دل میں وحشت پیداہوتی ہے'جب یہ سوچتاہوں کہ8سال کی بچی کو جس مندر میں باندھاگیا ہوگا'ویران جگہ میں اکیلی بچی کوکئی روز تک اکیلے رکھاگیا ہوگا'کس قدروحشت زدہ ہوتی ہوگی'کیابیتی ہوگی اس ننھی کلی پر جب باربارنشے کی گولیاں کھلا کھلا کر نیم مردہ حالت میں اس معصوم جان پردرندے باری باری ٹوٹ پڑے ہوں گے؟

معلوم ہواکہ دردسے ننھی کلی باربارآنکھیں کھولتی ،لیکن خواب آورگولیوں کی وجہ سے چلابھی نہ سکتی اور اندر ہی اندرتڑپتی رہی 'درندگی نے درندگی سے سوبارپناہ مانگی ہوگی' جب بھارتی فورسز کاایک اہلکاراس ننھی جان کی موت سے بس اس وجہ سے پریشان ہوتاہے کہ وہ آخری بار کیوں نہ اس معصوم کوہوس کانشانہ بناپایا۔۔۔۔۔۔کئی روز تک باربار اس اذیت سے اتنی کم عمر میں گزرنا۔۔۔۔۔۔یہ سوچ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

جی ہاں!ننھی کلی آصفہ بانوکے بارے میں یہ ہیں انسانیت کادرد رکھنے والے لوگوں کے وہ رْلا دینے والے تاثرات جو آج میڈیا پر ہمیں جگہ جگہ خون کے آنسو بن کر بکھرے نظر آتے ہیں اور یہ جو کہا گیا کہ اس دلخراش سانحہ پر درندگی نے بھی اس ''درندگی'' سے سوبار پناہ مانگی ہوگی تویہ بھی صرف لفاظی کی حدتک بات نہیں۔ اہل کشمیر کے ساتھ ہونے والی اس سفاکانہ درندگی کی انتہاپربھارت کاسب سے بڑادرندہ بھی اْف اْف کرنے پرمجبورہوگیا۔ جی ہاں! یہ درندہ جوآج اپنی سفاک حکومت اوردہشت گرد فوج کی شیلٹر میں دنیاکی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریہ کاوزیراعظم بن کربیٹھاہے'جوگجرات میں بیس ہزار سے زائدمسلمانوں کاخونی قاتل ہے' اس موذی کو اس وقت گجرات کی ہزاروں بچیوں اور عورتوں کی چیخوں کی آوازیں تک نہ آئیں ،بلکہ ایک سابقہ رکن پارلیمنٹ احسان جعفری اوراس کے اہل خانہ چیختے چلاتے رہے'مودی کی سرکار کوفون کرتے رہے کہ ہمیں دہشت گردہندو بلوائیوں سے بچاؤ، لیکن اس وقت ان کی ایک نہ سنی گئی اور گجرات کے ہزاروں مسلمانوں سمیت انہیں بھی بچوں سمیت جلاکربھسم کر دیاگیا' محض اس لئے کہ وہ مسلمان تھے۔ آج اس دہشت گرد کو اچانک کمسن آصفہ کی چیخیں سنائی دینے لگیں اوروہ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہنے لگا کہ قوم کی بیٹی کوانصاف ضرورملے گا۔

دراصل آصفہ بانوکے سانحہ پروہ اس لئے بولنے پر مجبور ہو گیا کہ ایک تو اکثریت اورطاقت وتکبرکے زعم میں ڈوبے ہوئے اس کے بی جے پی کے دو وزراء نے آصفہ کے ملزموں کے حق میں اچانک احمقانہ مہم چلانی شروع کردی جس پر بھارت کے اندر جو باضمیر طبقہ بچاہواہے'وہ ساراہی احتجاج کرنے پر مجبور ہوگیا۔یوں ایک طرف کشمیری اوردوسری طرف بھارت کے باضمیر طبقے کازبردست احتجاج پوری دنیامیں اور اقوام متحدہ تک ہائی لائٹ ہوگیا تویہ مسلمہ بین الاقوامی دہشت گرد بھی ٹسوے بہانے پرمجبور ہوگیااوراسے بھی کراہنے اورچیخنے چلانے کی مصنوعی آوازیں نکالناپڑگئیں۔

جموں کے رسانہ گاؤں کی کمسن آصفہ کے سانحہ فاجعہ نے اگرچہ دنیا کے سب ایوانوں کو ہلا دیا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوبھی اس کی مذمت کرناپڑی ،لیکن افسوس کہ ان کی مذمت اس سے زیادہ آگے نہ بڑھی حالانکہ انہیں اسی سے اندازہ لگالیناچاہئے تھاکہ کشمیرمیں آج امریکہ کا قرار دیا ہوا دہشت گرد مودی کس قدر مظالم ڈھارہاہے۔ بھارتی دہشت گرد فورسز کے مظالم کی گواہی خود یورپ کے انسانی حقوق کے اپنے مسلمہ ادارے بھی دے رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایاہے کہ29برس میں94ہزار کشمیری بھارتی فوج نے قتل کیے'ڈیڑھ لاکھ بے گناہ قید کیے گئے۔ 7ہزار کشمیری دوران حراست لقمہ اجل بنے۔ 7ہزار گمنام قبروں کامختلف علاقوں میں انکشاف ہوا۔22ہزار خواتین بیوہ'18لاکھ بچے یتیم ہوئے اور17ہزار خواتین سے گینگ ریپ ہوا۔یعنی صرف ایک آصفہ سے نہیں'11ہزار عورتوں سے یہ ہندو انتہاپسند درندے گینگ ریپ کرچکے ہیں اور مودی کے اشارے پر یہ مظالم ہیں کہ دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ آصفہ کاسانحہ بھی خاص مودی اورگجرات سٹائل پرہی ہوا' جس طرح گجرات میں مسلمانوں کاوحشیانہ قتل عام اس لئے کیا گیا تاکہ مسلمان گجرات خالی کردیں توتمام ذرائع یہ خبر دے چکے ہیں کہ آصفہ کوبھی درندگی کانشانہ اس لئے بنایاگیا کہ مسلمان جموں کارسانہ گاؤں کسی طرح خالی کردیں'اس کی ایک اوربڑی دلیل یہ کہ ننھی آصفہ کی لاش کو انتہاپسند ہندؤوں نے اس کے گاؤں میں بھی دفن نہ ہونے دیا،بلکہ گاؤں سے 7کلومیٹر دور لے جاکر دفن کرناپڑا۔یہ ان کے ناپاک عزائم کاواضح ثبوت ہے۔

ویسے تومودی سرکار گجرات کی طرح جموں کو بھی مکمل ہندو ریاست بنانے کے ناپاک مشن پرخاموشی سے عمل پیرا ہے۔جموں کوآج بڑے بڑے مندر کمپلیکس بناکر مندروں کے شہرمیں بدلا جارہاہے 'تویہ تب ہی مکمل ہندو شہر بن سکتا ہے جب مسلمانوں کاوجود بھی یہاں سے ختم کردیاجائے۔جموں میں آصفہ کا رسانہ گاؤں اس کی ابتداہے اور پھر پوراجموں ان کانشانہ ہے کیونکہ مودی کونوشتہ دیوار نظر آ رہا ہے کہ کشمیرکے حالات کی وجہ سے مستقبل قریب میں اگر استصواب رائے کرانا پڑے توجموں 100فیصد ہندو ریاست بن کر انڈیاکے پاس رہے۔ چنانچہ اس وجہ سے مودی سرکارکے عہد میں مسلمانوں خاص طورپرکشمیری مسلمانوں پرمظالم میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

7جنوری 2018ء کو بھارت کا ہی ایک معروف اخبار ہندوستان ٹائمز یہ رپورٹ دے چکاہے کہ مودی دور میں مسلمانوں پرمظالم میں 100فیصد اضافہ ہوچکاہے۔ مودی حکومت میں بھارتی مسلمانوں پرمظالم میں اس قدراضافہ۔۔۔۔۔۔وہ بھارتی مسلمان جوتقریباً مکمل طورپر ہربھارتی حکومت کے اطاعت گزار اور غلام و وفادار بن کے رہتے ہیں تو اس عالم میں مقبوضہ جموں کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پرمظالم کا کیاعالم ہوگا،جبکہ کشمیری تو بھارت سے بغاوت اور آزادی کی تحریک کوپورے عروج پرپہنچائے ہوئے ہیں۔غرض عالمی طاقتوں خصوصاً اقوام متحدہ کوکشمیرمیں بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم کافوری نوٹس لیتے ہوئے اپنی ہی منظورشدہ قراردادوں کے مطابق کشمیرمیں استصواب رائے کافوری اہتمام کرناچاہئے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دنیاکے دوسرے باضمیر مقتدرلوگ اگر مقبوضہ جموں کشمیرمیں آصفہ جیسے سانحات کی روک تھام میں سنجیدہ ہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل پر بھی اسی طرح سنجیدگی سے توجہ دیں جس طرح انہوں نے مشرقی تیمور اورجنوبی سوڈان کا مسئلہ چند دنوں میں حل کیا، جبکہ مظلوم اہل کشمیر 70سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔یہ انصاف نہ ملنے پر دنیا یہ یقین کررہی ہے کہ اقوام متحدہ عالمی طاقتوں کے ہاتھوں ایک کٹھ پتلی اورجانبدارادارہ ہے جوصرف غیرمسلموں کے مسئلے حل کرتا ہے ،لیکن مسلمانوں کے مسائل کو دبا کر رکھنا ہی اس کا اصل منشورہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اب عالمی طاقتوں کو اپنا منافقانہ کردارختم کرناہوگا۔عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو بھی اب اس گرم لوہے پر بھرپور چوٹ لگانی چاہئے کیونکہ یہی مسئلہ کشمیر کے حل کا بہترین وقت ہے'پروفیسرحافظ محمدسعید نے 2018ء کو اس لئے کشمیر کے نام کیا ہے کیونکہ آج پوری کشمیری قوم پاکستان کے حق میں کھڑی ہے' اب پاکستان کو ایک اسلامی ایٹمی ملک کے شایان شان اپناکردار اداکرناچاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -