’’ یہ چیز ملکی مفاد میں نہیں تھی‘‘ ہٹائے جانیوالے گورنر سٹیٹ بینک سے چپ نہ رہا گیا، کھل کر سب بتا دیا

’’ یہ چیز ملکی مفاد میں نہیں تھی‘‘ ہٹائے جانیوالے گورنر سٹیٹ بینک سے چپ نہ ...
’’ یہ چیز ملکی مفاد میں نہیں تھی‘‘ ہٹائے جانیوالے گورنر سٹیٹ بینک سے چپ نہ رہا گیا، کھل کر سب بتا دیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہاہے کہ میر ی نوکری سے زیادہ ملکی مفاد عزیز تھا ، حکومت اور سٹیٹ بینک درمیان محاذ آرائی ملکی مفاد میں نہ تھی ، اس لئے میں نے عدالت جانے کی بجائے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی۔وہ نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کررہے تھے ۔ 

جیونیوز کے مطابق جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کاتقرر تو تین سال کیلئے تھا تو پھر آپ نے قبل از وقت استعفیٰ کیوں دیا؟ توسابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہناتھا کہ میر ی نوکری سے زیادہ ملکی مفاد ات زیادہ عزیز ہیں، عدالت کی بجائے استعفے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ   میں پیر کو سٹیٹ بینک جاﺅں گا اور استعفیٰ دیکر واپس آجاﺅں گا ۔

یادرہے کہ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ اور چیرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جہانزیب خان کوعہدے سے ہٹا دیاگیا، دونوں افسران کو ہٹانے کا فیصلہ اسد عمر کے وقت میں ہی ہو چکا تھا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی مشاورت کےبعدفیصلےپرعمل درآمد کیا گیا۔ترجمان اسٹیٹ بینک نے طارق باجوہ کے استعفے کی تصدیق کردی ہے۔طارق باجوہ کو سابق صدر ممنون حسین نے 7 جولائی 2017ءکو 3 سال کے لیے اسٹیٹ بینک کا صدر بنایا تھا، ان کی مدت ملازمت جولائی 2020 میں ختم ہونا تھی۔

ادھر رضا باقر کو گورنر سٹیٹ بینک پاکستان کے عہدے پر تعینات کردیا گیا، صدر مملکت کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔وزارت خزانہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق رضا باقر کو 3 سال کیلئے گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان تعینات کیا گیا ہے، ان کے عہدے سنبھالنے کے بعد ان کی مدت ملازمت کا آغاز ہوگا۔

مزید : قومی /اہم خبریں /بزنس