گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کی برطرفی

گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کی برطرفی

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر طارق باجوہ سے استعفا لے لیا گیا ہے،چونکہ یہ آئینی عہدہ ہے اور گورنر کا تقرر تین سال کے لئے ہوتا ہے،جس کی تقریباً آدھی مدت ابھی باقی تھی کہ طارق باجوہ سے اسلام آباد میں اُس وقت استعفا طلب کیا گیا، جب وہ آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں مصروف تھے،اُن کے ساتھ ہی ایف بی آر کے چیئرمین جہانزیب خان کو بھی برطرف کر دیا گیا،اس برطرفی کی وجہ ریونیو شارٹ فال بتائی گئی ہے مالی سال کے اختتام تک ایف بی آر کو 1480 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے،جو پورا ہوتا نظر نہیں آتا، نئے چیئرمین کے لئے یہی سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔سٹیٹ بینک کے مستعفی گورنر طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن پاکستان میں موجود ہے، عہدے سے ہٹانے کا یہ وقت درست نہیں، مجھے استعفا دینے کے لئے کہا گیا اور مَیں نے دے دیا، وجہ نہیں جانتا نہ کسی نے اِس سلسلے میں پہلے بات کی۔

ابھی گزشتہ روز ہی وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں مزید تبدیلیاں کریں گے اور جہاں سے اچھے کام کرنے والے ملے،لائیں گے،جب انہوں نے یہ بات کہی تو ممکن ہے اُن کے ذہن میں گورنر سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے چیئرمین کی تبدیلی کا خاکہ بھی موجود ہو، اب انتظار کرنا چاہئے کہ ان دونوں کی جگہ کون کام کرنے والا آتا ہے، اسد عمر کام نہیں کر رہے تھے اِس لئے اُن کی جگہ حفیظ شیخ کو لے آیا گیا۔ فواد چودھری کی جگہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان آ گئیں، اوّل الذکر اب سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت میں انقلاب لا رہے ہیں۔ میڈیا کے محاذ پر انہوں نے طلاقت لسانی کے جوہر خوب دکھائے تھے لیکن شاید یہ خوبی پسند نہیں کی گئی! اُن کا کہنا ہے کہ وہ صرف 15دن میں سائنس کی وزارت میں تبدیلی لے آئیں گے، غلام سرور خان گیس کی قیمتیں بڑھانے کے بعد ہزاروں روپے کے بلوں کے ذریعے عوام کی چیخیں نکلوانے کے ذمہ دار تھے، اِس لئے اُن کی جگہ بھی ایک ٹیکنو کریٹ لایا گیا ہے تاہم ہزاروں زائد وصول شدہ بل ایسے ہیں جو اب تک وعدے کے مطابق واپس نہیں کئے گئے۔ البتہ سول ایوی ایشن کی وزارت اب غلام سرور خان کی جولانیوں کا مشاہدہ کر رہی ہے امید ہے وزیراعظم جو نئے لوگ لے کر آ رہے ہیں اور جن کے بارے میں اُن کا خیال ہے کہ وہ منتخب لوگوں سے بہتر ہوں گے،اُن کی چہرہ نمائی بھی جلد ہو جائے گی، وزیراعظم کی گفتگو سے لگتا ہے اسد عمر شاید کوئی وزارت قبول کرنے پر رضا مند ہو جائیں جب ان سے استعفا لیا گیا تو انہیں پٹرولیم کی وزارت پیش کی گئی تھی، جو انہیں اس وقت پسند نہیں آئی تھی۔ شاید اب بھا جائے۔ ایسی صورت میں ضروری ہوگا کہ وہ تیل کی قیمتیں اپنے فلسفے کی روشنی میں از سر نو متعین کریں۔

ویسے تو وفاقی کابینہ میں ایک سے ایک بڑھ کر باصلاحیت وزیر ہے،لیکن کچھ ہیرے ایسے ہیں، جن کا کہیں بھی کوئی مقابلہ ہی نہیں،جیسے فیصل واوڈا ہیں جو جان کی پروا کئے بغیر چینی قونصل خانے پر حملے کا سنتے ہی پستول کس کر موقع پر پہنچ گئے تھے، انہوں نے مہمند ڈیم کے افتتاح کے موقع پر فرمایا ہے کہ پاکستان کے لوگ تو200روپے فی لٹر بھی پٹرول خریدنے کے لئے تیار ہیں، بس اُن کی خواہش ہے کہ احتساب نہ رکنے پائے،چونکہ احتساب تو پوری رفتار سے جاری ہے اور وزیراعظم بلا ناغہ، ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ چاہے اُن کی کرسی چلی جائے وہ این آر او نہیں دیں گے، ایسے میں کون مائی کا لال احتساب روک سکتا ہے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرول کے نرخوں میں 9.34روپے اضافے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے بعد فی لٹر قیمت108روپے بنتی ہے۔اگر قیمتیں اسی سست روی سے بڑھیں تو200 روپے تک پہنچنے میں تو شاید پورا ایک سال لگ جائے،اِس لئے فیصل واوڈا کی خواہش کے احترام میں کوئی ایسی سبیل کرنی چاہئے کہ قیمتیں جتنی جلدی 200روپے تک پہنچ جائیں اتنا ہی اچھا ہو گا اس کا فوری فائدہ تو یہ ہو گا کہ حکومت کا ریونیو بڑھ جائے گا، کیونکہ ایف بی آر کو1480ارب روپے کے جس شارٹ فال کا سامنا ہے اس کے پورا ہونے کی تو کوئی دوسری صورت نظر نہیں آتی، اِس لئے چند ایسے ہی اقدامات کر کے ریونیو بڑھایا جا سکتا ہے۔

کوئی مہینہ ڈیڑھ پہلے وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر ایف بی آر کے افسروں نے اپنا کام بہتر نہ کیا تو وہ ”نیا ایف بی آر“ بنا لیں گے ممکن ہے اُن کے ذہن میں اِس کا کوئی خاکہ ہو،جس کی ابتدا چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل کر کے کر دی گئی ہے، اس طرح فی الحال اگر نیا ایف بی آر نہیں بنتا تو بھی نیا چیئرمین تو آ ہی جائے گا، نئے پاکستان میں ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا ہوتے رہنا چاہئے۔ شنید ہے کہ چیئرمین نے حکومت کی کچھ تجویزوں سے اتفاق نہیں کیا تھا،اب اُن کی جگہ کوئی ایسا صاحب ِ فن لایا جائے گا، جس سے ریونیو شارٹ فال تو بھلے پورا نہ ہو البتہ وہ حکومتی تجاویز سے اختلاف کی جسارت نہیں کر سکے گا۔ ایف بی آر کے چیئرمین کو ہٹائے جانے کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انہوں نے ایمنسٹی سکیم کی حمایت نہیں کی تھی، ستم ظریفی یہ ہے کہ جس کابینہ کے بیشتر وزراء نے اس سکیم کی مخالفت کی وہ تو اپنی جگہ موجود ہے اور اگر ایک ”ٹیکنو کریٹ“ نے فنی وجوہ کی بنا پر مخالفت کر دی تو نزلہ اس کی نوکری پر گرا دیا گیا، وزیراعظم کابینہ میں جو تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں وہ سامنے آئیں گی تو پتہ چلے گا کہ آئندہ معاشی منظر کیا ہو گا،لیکن اتنا تو طے ہے کہ تدریجاً منتخب لوگوں کی جگہ غیر منتخب لوگ آتے رہیں گے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرول کے جن نرخوں میں اضافے کی منظوری دی ہے وہ اگر اِسی طرح نافذ ہو گئے تو اس سے حکومت کو تو شاید چند ارب روپے کا ریونیو حاصل ہو جائے گا،لیکن اِس سے مہنگائی کا جو طوفان آئے گا اس کے بہاؤ میں بہت کچھ بہہ جائے گا۔ تبدیلی بھی ہچکولے لینے لگے گی، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فیصل واوڈا کا 200روپے لٹر والا بیانیہ بھی اسی کی نذر ہو جائے،اب تو اسد عمر بھی نہیں، جو سالہا سال تک لوگوں کو حساب لگا لگا کر بتاتے رہتے تھے کہ پٹرول چالیس پینتالیس روپے لٹر سے اوپر نہیں جانا چاہئے، جہاں تک انٹرنیشنل مارکیٹ کی قیمتوں کا تعلق ہے یہ تو پٹرول پر ہمیشہ سے اثر انداز ہوتی ہیں،اِس لئے حکومت یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے جو اُدھار تیل مل رہا ہے،اس ”ادھار“ کا اگر کوئی تھوڑا بہت فائدہ عوام کو بھی ہو جائے تو کیا حرج ہے،سعودی حکومت اگر پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون کر رہی ہے تو اس کا مقصد بالآخر عوام ہی کی بھلائی ہے،لیکن حیرت ہے کہ عوام کا دم بھرنے والی حکومت ایک ایسی منطق پر چل نکلی ہے جسے کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں۔

اندرون ملک جو تیل نکلتا ہے کم از کم وہ تو درآمدی تیل سے سستا ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ پاکستان کے اندر بھی ضرورت کا تقریباً 25% تیل نکلتا ہے۔ حکومت یہ تیل بھی انہی نرخوں پر بیچ کر اس سے بھی زیادہ منافع کما رہی ہے جو عالمی کمپنیاں کماتی ہیں درآمدی تیل کی نسبت مقامی تیل کی قیمت بہرحال کم ہونی چاہئے، پھر 36روپے فی لٹر سے زیادہ کے ٹیکس میں کمی کرکے بھی عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے، لیکن پہلے عزم ہو تو عملاً کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ جس حکومت کو دن رات کوسا جاتا ہے اس کے دور میں کبھی پٹرول 108روپے لٹر تک نہیں پہنچا۔

مزید : رائے /اداریہ