ڈنڈا کسی مسئلے کا حل نہیں

ڈنڈا کسی مسئلے کا حل نہیں
ڈنڈا کسی مسئلے کا حل نہیں

  


آج کے کالم کا سرنامہ پچھلے ہفتے کی ایک خبر ہے، جس کی سرخی توجہ کا مرکز بن گئی: ’لڑکیوں کے بال کاٹ دینے پر استاد معطل‘۔ چنیوٹ کی ڈیٹ لائن سے شائع ہونے والی اِس دو کالمی خبر کے مطابق، احمد آباد نامی قصبے میں معطلی کے حکم کے علاوہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں دو استانیوں کے خلاف اِس بنا پہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے کہ انہوں نے پانچویں جماعت کی چھ طالبات کے بال زبردستی کاٹ دیے۔

لڑکیوں کا قصور یہ تھا کہ وہ گھر سے سبق یاد کر کے نہیں آئیں۔ ضلع چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنر نے واقعہ کی انکوائری کے لئے ایک خاتون افسر کو متعین کیا ہے اور محکمہء تعلیم کے ضلعی ایگزیکٹو آفسیر نے سکولوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں میں طلبہ و طالبات کو جسمانی سزا دینے سے گریز کیا جائے، تو کیا سکول انتظامیہ عام حالات میں جسمانی سزا دینے کی مجاز ہوتی ہے؟

اِس سوال سے جس قانونی بحث کا دروازہ کھلے گا، مجھے پاکستانی شہری کی حیثیت سے اُس میں دلچسپی ہے۔ ساتھ ہی پیشہء تدریس کے رکن طور پر یہ جاننے کی خواہش بھی ہے کہ طلبہ و طالبات کی خاطر استاد کو کِس حد تک سختی سے کام لینا چاہیے۔

جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں ہمارے انگریزی کے اُستاد اور جانے پہچانے دانشور پروفیسر زمرد ملک نے ایک مرتبہ سخت گیری کے حق میں کہا تھا کہ سیگمنڈ فرائیڈ جیسا آزاد خیال ماہرِ نفسیات بھی بچوں کی تربیت میں باپ کے ’زوردار وجود‘ کی افادیت کا قائل ہے۔

خوشگوار پہلو یہ ہے کہ خود زمرد ملک کو طالبعلموں کے ساتھ کبھی برائے نام سختی سے بھی کام نہ لینا پڑا۔ ایک روز تو انہوں نے یہ تلقین بھی کر دی تھی کہ اگر کوئی استاد آپ کو زبردستی کلاس سے باہر نکالنا چاہے تو ضرور پوچھیں کہ آپ کس قانون کی رو سے ایسا کر رہے ہیں۔ استاد لاجواب ہو جائے گا۔

ہم نے بچپن میں بڑوں سے سُن رکھا تھا کہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کو بعض صورتوں میں طالب علم کو دس بید مارنے کی اجازت ہوتی ہے۔ تازہ خبر پڑھ کر مذکورہ ضابطے کا سراغ لگانے کی بہت کوشش کی، مگر صرف یہ پتا چلا کہ اب سے چھ سال پہلے ہماری پارلیمنٹ نے ایک قانون کے ذریعے تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا دینے کی ممانعت کر دی تھی، تاہم، ایک این جی او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب بھی پاکستان میں پرائمری سطح کے کوئی پیتیس ہزار طلبہ و طالبات جسمانی سزا کے خوف سے ہر سال پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ انکشاف بھی ہے کہ 2011-12 ء کے دوران صرف خیبرپختونخوا میں سزا کے خوف سے سات بچوں نے خود کشی کر لی۔ پھر یہ بھی کہ تین برس ہوئے جب کراچی کے ایک نجی ادارے ایک چار سالہ معذور بچے کی پرنسپل کے ہاتھوں پٹائی کی وڈیو وائرل ہوئی اور شہر بھر میں بھونچال آ گیا۔ ایسے کئی واقعات اَور بھی ہیں۔

جسمانی سزا کی ممانعت کرنے والے جس قانون کا ذکر اوپر کیا گیا، اُس میں قانونی اہمیت کی ایک شق کا حوالہ والدین اور اساتذہ دونوں کی دلچسپی کا باعث ہو گا۔ وہ یہ کہ نئے قانون میں بھی تعزیرات ِ پاکستان (ابتدائی طور پہ تعزیراتِ ہند) مجریہ 1860ء کی دفعہ 89 کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ دفعہ ہے کیا؟ اِس کی قابلِ قبول تشریح تو ماہرینِ قانون ہی کریں گے۔

پھر بھی متن کے الفاظ پہ غور کیا جائے تو اِس کے تحت وہ اقدامات سزا سے مستثنی قرار پائیں گے جو بارہ سال سے کم عمر یا ناپختہ ذہن رکھنے والے کسی فرد کی بہتری کے لئے نیک نیتی سے اُس کے سرپرست یا قانونی طور پہ ذمہ دار کسی شخص سے سرزد ہوئے ہوں۔ یا ایسے اقدامات جنہیں والدین یا ذمہ دار شخص کی منظوری حاصل ہو۔ قانون نے اِس استثنی کو محدود کرنے کے لئے بعض شرائط بھی رکھی ہیں۔ تو عام لوگ اِس سے کیا مراد لیں؟

قانون اپنی جگہ پہ،لیکن اِس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایک قانون تو وہ ہے جو کتابوں میں محفوظ رہے گا اور دوسرا وہ جو معاشرے میں عملی طور پر ہمہ وقت جاری و ساری رہتا ہے۔ اِس فرق کا دارو مدار اَور اسباب کے ساتھ اِس پہ بھی ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال کیسی ہے، عوام کے لئے روزگار کے مواقع کتنے ہیں، معاشرے میں قبائلی یا زرعی اقدار کا دور دورہ ہے یا قانون کی عمومی حکمرانی۔

یقین نہ آئے تو اپنی گاڑی روکے جانے کی صورت میں ٹریفک سارجنٹ کے سامنے یہ دلیل پیش کر کے دیکھ لیجیے کہ جناب، راؤنڈ اباؤٹ کے رُول مطابق پہلے گزر جانا دائیں جانب سے آنے والی ٹریفک کا حق ہے۔ یہ دلیل دیتے ہوئے قانون تو آپ کے حق میں ہو گا، لیکن سارجنٹ بے چارہ بھی اُسی معاشرے کا فرد ہے جہاں رائٹ آف وے گاڑی کے سائز پہ منحصر ہے۔ جس کی کار بڑی، اُس کا رائٹ آف وے زیادہ۔

شاید یہ انہی اثرات کا نتیجہ ہے کہ ایک حالیہ سروے میں تہتر فیصد اساتذہ نے سکولوں میں نظم و ضبط نافذ کرنے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں جسمانی سزا برقرار رکھنے کی حمایت کی۔ ویسے یہ سوچ صرف زمانہء حال کے استادوں اور استانیوں تک محدود نہیں جن میں سے بعض کے لئے ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے ستر ستر بچوں کو کنٹرول میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

معروف صحافی خالد حسن نے، جو ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں اپنی آزاد روش کی بدولت چاہت کی نظر سے دیکھے گئے، اردو کتاب ’جموں جو ایک شہر تھا‘ میں 1930 ء کی دہائی کے دوران اپنے سکول اساتذہ کے جابرانہ رویے کا ذکر مزے لے لے کر کیا ہے۔ سب سے حیرت ناک اُن کا اخذ کردہ یہ نتیجہ ہے کہ نئے زمانے کی سوچوں کے برعکس، سکول میں خوب مار کھانے والے اُن کے سارے ہم جماعت نارمل انسان ثابت ہوئے۔

خود بطور طالب علم میرا اپنا تجربہ کیا تھا؟یہ ذرا پیچیدہ سوال ہے اور علامہ اقبال کی شاعری کی طرح مَیں پھر اسے تین ادوار میں تقسیم کروں گا۔ پہلا دَور سیالکوٹ میں گلی محلہ انگلش میڈیم اسکول کا ہے جہاں ٹیچر سے مکالمہ پنجابی زبان میں ہوا۔ مَیں نے پانی پینے کے لئے جانا چاہا تھا۔ استاد نے انکار کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک اور لڑکے نے اجازت مانگی جو مِل گئی۔اب میرے منہ سے نکلا ”ایہہ تیرا پیو لگدا اے؟“ ٹیچر نے ہنسنا شروع کر دیا۔ مجھے اپنی بہت سخت توہین محسوس ہوئی اور مَیں نے غصے کی حالت میں استاد صاحب کو قمیض کے دامن سے پکڑ کر گھڑی کی سوئیوں کے الٹ گھمانے کی کو شش کی۔

وہ بھی کوئی شغلی آدمی ہوں گے، جو سچ مُچ گھومنے لگے۔ ہیڈ ماسٹر یحیی شاہ نے،جو ابا کے جاننے والے تھے بالائی منزل سے یہ نظارہ دیکھا۔ انہوں نے نیچے آ کر خود پانی پلایا اور لڑائی ٹل گئی۔

میری جگہ شیخ سعدی ہوتے تو حکایت سے کوئی دُور رس سبق نکال لیتے۔ مجھ سے تو بس بے انصافی برداشت نہ ہوئی تھی۔ واہ کے پرائمری اسکول میں، جہاں لڑکیاں لڑکے ایک ساتھ پڑھتے، مس رضیہ عباس کبھی کبھی پوری لائن میں بیٹھے ہوئے سب بچوں کو ایک ایک چھڑی جڑتے ہوئے گزر جاتیں۔ چھڑی کی شدت علامتی سی تھی، دوسرے کسی ایک کو نشانہ بنائے بغیر سب کے ساتھ سلوک بہرحال مساویانہ ہوتا۔

اِس لئے جذباتی رد عمل کا سوال نہیں تھا۔ ہاں ایک دن بریک میں اسکول گیٹ پر بطور پراکٹر ڈیوٹی دیتے ہوئے مَیں نے ایک لڑکے کو بلا اجازت باہر نکلنے سے روکنے کے لئے ایک تھپڑ جڑ دیا۔ اِس پہ ہیڈ مسٹریس نے اپنے دفتر میں بلا کر دو ڈنڈے مارے تھے۔ میرے خیال میں جو کچھ مَیں نے کیا میری ڈیوٹی کا حصہ تھا۔ سو، ڈنڈے کھا کر بے بسی کے عالم میں دونوں آنکھوں سے ایک ایک آنسو بہہ نکلا، جو آج تک خشک نہیں ہوا۔

بدترین تجربہ وطنِ عزیز کے سب سے چہیتے کیڈٹ کالج میں فراگ جمپنگ کی سزا ہے جو میرے جوتے ٹھیک سے پالش نہ ہونے پہ ’ونگ کمانڈر‘ سے ملی۔ یہ سچ مچ کا وِنگ کمانڈر نہیں تھا،بلکہ ہمارے اقامتی ہال کا سب سے سینئیر اسٹوڈنٹ عہدیدار۔ مجھے اپنی وکالت میں یہ کہنا مناسب نہ لگا کہ چند ہی منٹ پہلے ویک اینڈ پہ گھر سے ہو کر آیا ہوں، اِس لئے بوٹوں کی چمک مدھم پڑ گئی ہے۔

ممکن ہے ونگ کمانڈر کے نزدیک بھی جوئنیرز کو جسمانی سزا دینا اُس کے فرائض میں شامل ہو۔ پر مَیں نے اپنے ساتھ ہونے والی اِس تاریخی بے انصافی کا بدلہ کیڈٹ کالج چھوڑ کر اپنے اسکول میں سراسر اپنی مرضی کے مضامین چُن کر لیا۔

سچ پوچھیں تو یہ انتقامی عمل آج بھی جاری ہے۔ اِسی لئے نہ کبھی بطور والد اپنے بچوں سے سخت کلامی کی، نہ بحیثیت اُستاد لوگوں کے بچوں سے اونچی آواز میں بولا۔ ڈنڈے کی افادیت کا چرچا کرنے والے یہ جان کر ضرور تلملائیں گے کہ میری اِن انتقامی کارروائیوں کا نتیجہ خاصا خوشگوار ہے۔

مزید : رائے /کالم