مسلم لیگ(ن)، ایک نیا مرحلہ

مسلم لیگ(ن)، ایک نیا مرحلہ
مسلم لیگ(ن)، ایک نیا مرحلہ

  

مسلم لیگ کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے لندن میں اپنے قیام کی مدت بڑھا لی ہے اور صرف یہی نہیں کہ انہوں نے اپنے بیرون ملک قیام بڑھایا بلکہ اس کے ساتھ مسلم لیگ(ن) نے اپنی پارلیمانی پارٹی میں کچھ تبدیلیاں بھی کر لی ہیں۔ خواجہ آصف حزبِ اختلاف کے پارلیمانی لیڈر ہوں گے اور رانا تنویر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔

اس خبر میں بھی کہا گیا ہے کہ شہباز شریف تو اول روز سے ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عہدے پر ان کی تقرری حزبِ اختلاف اور حکومتی پارٹی کے درمیان کئی ماہ تک کشمکش کا باعث بنی رہی۔ سابق وزیر اطلاعات نے اُن کی تقرری کو ایک طرح سے دودھ پر بلی کی رکھوالی قرار دیا اور حزبِ اختلاف کا یہ کہنا تھا کہ یہ عہدہ روایتاً حزبِ اختلاف کا حق ہے اور اس بحث میں بہت سے ناگوار قصے چلتے رہے۔

عمران خان کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا رہا کہ وہ خود اس عہدہ پر شہباز شریف کو برداشت نہیں کریں گے،لیکن پھر میاں شہباز شریف ہی پبلک اکاؤنٹس کے چیئرمین بنے اور اب نہ معلوم وجوہات کی بنا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اس عہدہ کو تو پہلے ہی قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے یہ بات تو ایک طرف رہی،لیکن اگر وہ زیادہ دیر بھی لندن میں رہنا چاہتے ہیں تو خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر بنانے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی، یہ کوئی چیف جسٹس، گورنر یا صدر کی بات تو نہ تھی۔اُن کی عدم موجودگی میں کوئی بھی ان کی پارٹی کی نمائندگی کر سکتا تھا،لیکن ایسا بیان جاری کرنے کی نوبت کیوں آئی کہ دونوں عہدوں کے لئے نئے افرا نامزد کر دیئے گئے اور دونوں کی نامزدگی معزول وزیراعظم میاں نواز شریف نے کی۔

انہیں مسلم لیگ(ن) کے ارکان اور لیڈر اپنا رہبر مانتے ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ مریم نواز کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے اور کافی عرصے کے بعد انہوں نے زبان کھولی ہے اور زبان کھولی صرف مسلم لیگ(ن)میں تبدیلیوں کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام کے نزدیک نواز شریف ہی نجات دہندہ ہیں، یعنی مسلم لیگ(ن) میں صرف نواز شریف ہی ایک قوت ہیں۔

گزشتہ دِنوں ماڈل ٹاؤن میں حمزہ شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے پاکستان کے میڈیا پر کئی گھنٹے حمزہ شہباز چھائے رہے اُن کی ممکنہ گرفتاری پر احتجاج بھی ہوا اور یہ غالباً پچھلے ڈیڑھ سال میں پہلا موقع تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے کسی رہنما کی گرفتاری روکنے کے لئے مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے کوئی احتجاجی مظاہرہ کر کے اُن کی گرفتاری رکوا دی ہو۔ دو روز تک یہ کھیل میاں شہباز شریف کے گھر کے سامنے کھیلا جاتا رہا،لیکن حمزہ شہباز گرفتار نہیں ہوئے۔ انہیں اس سے قبل لندن جانے کی اجازت بھی ملی اور اب ان کے والد شہباز شریف بھی لندن میں موجود ہیں۔

اب خیال یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی قائد حزبِ اختلاف بنا دیئے جائیں گے، جو میاں نواز شریف کے قریب ہیں۔لندن میں چودھری نثار علی خان اور میاں شہباز شریف کے درمیان رابطوں کا ذکر بھی چلتا رہا۔

ہمارے احباب تو ایک نشست والے چودھری نثار علی خان کو وزیراعلیٰ بنانے کی ہوائی بھی اڑا چکے ہیں اور اب مسلم لیگ(ن) کی موجودہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں اور بحث مباحثہ مسلم لیگ (ن) کی آرا پر چل رہا ہے جن کے مطابق میاں نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو“ کے ”Moto“ پر قائم ہیں جبکہ میاں شہباز شریف صلح جو آدمی ہیں اور ان کا مقصد ریاست اور سیاست کے درمیان باہمی یگانگت اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔

اور اس رائے کے پیش نظر وہ فوجی عدالتوں کی حمایت میں بیان بھی دے چکے ہیں، بلکہ انہوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کا کریڈٹ بھی لیا اور کہا کہ فوجی عدالتیں مسلم لیگ(ن) کے دور میں بنیں اور اس سے دہشت گردی بہت حد تک کم ہوئی،جبکہ شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف،خواجہ رفیق، رانا تنویر، مشاہد اللہ، رانا ثناء اللہ سمیت مسلم لیگ(ن) کے بہت سے اراکین اسمبلی فوجی عدالتوں کے بارے میں پیپلزپارٹی کے موقف کے حامی ہیں۔ گویا مسلم لیگ(ن) ”RANK AND FILE“ میں ایک خوفناک احساس پیدا ہو چلا تھا کہ شاید میاں نواز شریف کو صورتِ حال سے الگ تھلگ کیا جا رہا ہے، لہٰذا میاں صاحب کے ساتھیوں نے اس احساس کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

اب تک میاں نواز شریف پر سرکاری حلقے، یعنی پی ٹی آئی کے اہم ارکان این آر او حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے رہے اور یہ بتانے کے لئے کہ میاں نواز شریف کی خاموشی دراصل این آر او کے حصول کی کوششوں کا ایک حصہ ہے اور اپنی معزولی کے بعد جس قسم کی سیاست انہوں نے چند ماہ کی بالآخر اس سیاست سے وہ کنارہ کش ہو گئے اور مکمل خاموشی اختیار کر کے انہوں نے اس قسم کے تاثر کو مزید مضبوط کیا۔ اپوزیشن کی جماعتیں اور افراد بھی اسی سوچ کے حامل نظر آتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے تو باقاعدہ نیب کے طرزِ عمل کے حوالے سے پنجاب اور سندھ میں دوغلی پالیسی اختیار کرنے کے الزامات بھی عائد کر دیئے،لیکن حایہ اقدامات تو کچھ اور ہی منظر سامنے لا رہے ہیں۔

خاص طور پر مریم نواز کا بیان ایک طرح سے سابق مزاحمتی پالیسی کی طرف ایک اشارہ ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اسی صورتِ حال کے پیش نظر مسلم لیگ(ن) کو اپنی سابقہ پالیسی پر لوٹنا پڑے گا، لیکن یہ مسلم لیگ کی قیادت کے لئے کسی طرح فائدہ مند اور نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ اس کا دارو مدار ریاست کی مجموعی سوچ پر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -