اسلامو فوبیا کا علاج (3)

اسلامو فوبیا کا علاج (3)
اسلامو فوبیا کا علاج (3)

  


اس نے اپنی دہشتگردی کو محرف انجیل سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ حوالہ بھی دیا: ”وہ جو تلوار اٹھاتے ہیں تلوار ہی سے ختم ہو جائیں گے لہٰذا وہ جو ایسے دین کے پیرو کار ہیں جو ان کو تلوار اٹھا نے کی کی تعلیم دیتا ہے وہ اس پرحیران نہ ہوں جب وہ خودتلوار کا شکار ہو جائیں۔

“اس دہشتگرد نے اپنی تحریر میں یہ لکھاہے وہ یہ حملہ صرف اس لیے کر رہا ہے تاکہ یورپ میں مسلمانوں کی مہاجرت کا سلسلہ رک سکے حملہ آورنے اپنے منشور میں سفید فام تفاخر کے اظہار کے علاوہ 1683ء میں دیانا جنگ کا حوالہ بھی دیا۔ جس میں سفید فام نصاریٰ نے سلطنت عثمانیہ کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے یورپ میں اسلام کا رستہ روکا۔ حملہ آور کی بندوق پر 1189ء کے محاصرے اور یروشلم کو مسلمانوں سے چھیننے کا تذکرہ بھی موجود ہے۔اس نے اپنی تحریر میں The Danger of the invader کے عنوان کے تحت مسلمانوں کو یورپ میں گھس بیٹھے قرار دے کر انہیں شہید کرنے والوں کو ہیرو قرار دیا ہے۔اسے پکڑ کر جب کورٹ میں پیش کیا گیاتو اس نے دعویٰ کیا کہ اسے نوبل پرائز ملے گاوہ زیر حراست بھی اپنی حرکات و سکنات اور اپنی انگلیوں کے اشاروں سے واضح کر رہا تھا کہ وہ کوئی پاگل یا مجنون نہیں اور اس نے یہ کام وقتی طور پر جذباتیت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اپنی دیرینہ پلاننگ اور مسلمانوں کے خلاف ایک مائنڈ سیٹ کا متحرک ورکر ہو نے کے لحاظ سے مسلمانوں کا یہ قتل عام کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب اس سے سوال کیا گیا کہ اس نے مسلمانوں کو کیوں قتل کیا تو اس نے دانت نکالتے ہوئے ہاتھ سے ok کا نشان بنا کر دکھا دیا یہ نشان ہاتھ کے انگوٹھے کو انگشت شہادت کے ساتھ دائرے کی شکل میں ملا کر بنایا جاتا ہے جبکہ باقی تینوں انگلیاں سیدھی کھڑی رہتی ہیں عام طور پر اس نشان کا مطلب ہوتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں یا سب ٹھیک ہے لیکن 2017ء کے آغاز میں ایک آن لائن بات چیت کی ویب سائٹ پر ایک مذاق میں اس نشان کو سفید فاموں کی بالادستی پر یقین رکھنے والوں کا نشان قرار دیا گیا۔فروری 2017ء میں 4Chan نامی ویب سائٹ پر یہ مہم چلائی گئی کہ ok کے اس نشان کو ٹویٹر پر سفید فاموں کی بالادستی کے نشان کے طور پر مشہور کیا جائے دراصل اس گروہ کے مطابق جب ہاتھ سے ok کا نشان بنایا جاتا ہے تو سیدھے کھڑی تین انگلیوں سے انگریزی حرف ڈبلیو بنتا ہے اور شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے انگریزی حرف p بنتا ہے جس سے مراد وائٹ پاور (White Power)یعنی سفید ناموں کی بالادستی ہے۔

مگر افسوس ہے کہ اس نہایت ظلم اور دہشتگردی پر مسلم دنیا کی طرف اتنا شدید رد عمل نہیں آیاجتنا آنا چاہیے تھا۔چاہیے تو یہ تھا کہ اگر چارلی ہیبڈو کے لیے تمام غیر مسلم حکمران ملین مارچ کر سکتے ہیں تو ان 55 شہیدوں کے لیے بھی مسلم حکمران اور مسلم قائدین کسی ملین مارچ کا اہتمام کرتے مگر اتنے سوگوار موسم میں پاکستان جیسے ملک کے حکمران بھی کراچی میں سپر لیگ فائنل کی رنگا رنگ تقریب منعقد کیے ہوئے تھے اور 55 شہیدوں کے لیے فاتحہ پڑھنے کی بجائے ایک منٹ کی خاموشی پر اکتفا کیا گیا۔

اور باقی سارا ٹائم عریانی فحاشی کے سوداگر،گلوکاروں،گویّوں اور گویّنوں کے ہمراہ معاذ اللہ،گانوں پر جھومتے ہوئے گزارا گیا۔

ایسے حالات میں جب اسلام سے خوف یا اسلامو فوبیا کی وجہ سے امن عالم کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، پاکستان اور ترکی کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مشترکہ طور پر قرارداد پیش کی گئی جو منظور بھی کر لی گئی۔

اس قرار داد میں ایک مذہب کے طور پر انٹرنیشنل سطح پر اسلام کے خلاف پائے جانے والے خوف یا اسلامو فوبیا کی مذمت کرتے ہوئے خبردار جو کیا گیا تھا کہ اسلامو فوبیا کی وجہ سے امن عالم کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں ان کا سدباب کیا جائے۔

قراداد میں سانحہئ نیوزی لینڈ کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا۔اس سلسلہ میں پاکستان، ترکی اور ملائیشیا نے اسلامو فوبیا کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا۔ سانحہئ نیوزی لینڈ کے رد عمل میں استنبول میں او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس کا چھ نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا۔ ان چھ نکات میں سے چار نکات پاکستان کے تجویز کردہ تھے۔

ان گھمبیر حالات میں ہمارامطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ سوشل میڈیا سے نفرت آمیز اسلامو فوبیا مواد ہٹائے۔دنیا ہو لو کاسٹ کی طرح اسلامو فوبیاکے خلاف بھی ایک ہو جائے۔ہولوکاسٹ کے بعد جس طرح دنیا نے رد عمل دیا اسی طرح کا رد عمل اسلامو فوبیاکے خلاف بھی دیا جانا چاہیے۔مغرب اسلام مخالف جذبات کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔ باقی ادیان کے پیروکار اسلام کے مقابلہ میں میرٹ پر ڈائیلاگ کریں۔

اگر ان کے پاس قرآن مجید جیسا محفوظ لائحہ عمل نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو وہ اپنے تحریف شدہ اور من گھڑت اصولوں پر اسلام کی برتری کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم