بطور اپوزیشن رہنما بلاول بھٹو کی اہمیت بڑھ گئی

بطور اپوزیشن رہنما بلاول بھٹو کی اہمیت بڑھ گئی
بطور اپوزیشن رہنما بلاول بھٹو کی اہمیت بڑھ گئی

  

پاکستانی سیاست کا جومنظر نامہ تشکیل پا رہا ہے، اس میں زیر کے زبر اور زبر کے زیر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں …… بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ نوازشریف مائنس مسلم لیگ (ن) کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، آج نوازشریف ہی نہیں پورا شریف خاندان مائنس ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

مریم نواز شریف کو اگرچہ نائب صدر بنایا گیا ہے، مگر یہ صرف خانہ پری کی گئی ہے، اتنے زیادہ نائب صدر بنائے گئے ہیں کہ گنتی مشکل نظر آتی ہے۔ جہاں عابد شیر علی بھی نائب صدر ہوں، وہاں مریم نواز کو نائب صدر بنانا ایک بڑے زوال کی نشانی ہے۔ یہ بھی سب کے علم میں ہے کہ مریم نواز اس وقت تک پاکستان میں ہیں، جب تک نوازشریف موجود ہیں، اگر وہ بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو گئے تو مریم نواز ان کے ساتھ جائیں گی اور پھر شاید واپسی میں کئی سال لگ جائیں۔ پاکستانی سیاست میں سیاسی جماعتیں شخصیات کے سہارے زندہ رہتی ہیں، مسلم لیگ (ن) اس مرحلے میں ہے کہ اسے نوازشریف اور شہباز شریف کا داغ مفارقت سہنا پڑ رہا ہے، ایسے میں اس جماعت پر کیا بیتتی ہے، آنے والا وقت بتائے گا۔

شریف خاندان کے دو نوجوان لیڈر، یعنی مریم نوازشریف اور حمزہ شہباز بھی یے یقینی کے حصار میں ہیں۔ وہ نوازشریف کی نا اہلی اور شہباز شریف کے لندن جانے کے بعد کھل کر مسلم لیگ (ن) کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے سیٹ اَپ میں انہیں کلیدی ذمہ داری نہیں دی گئی۔ سیاسی طور پر مسلم لیگ (ن) اب کسی بڑے شو آف کی پوزیشن میں نہیں، گویا حکومت کو ایک بڑا ریلیف مل گیا ہے کہ سیاسی منظر نامے پر اس کی مخالفت میں حد درجہ کمی کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔

اب اصولاً تو اپوزیشن لیڈر بننے کا حق بلاول بھٹو زرداری کا ہے، کیونکہ اس وقت اپوزیشن کا سارا بوجھ بلاول بھٹو نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ وہی حکومت کے خلاف بول رہے ہیں اور اسے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ ویسے بھی مسلم لیگ (ن) اگر چاہتی ہے کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے تو اب اسے کھل کر سامنے آنا پڑے گا۔ پیپلزپارٹی اگرحکومت کے خلاف طبل جنگ بجاتی ہے تو اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لئے پیپلزپارٹی نے بھی اگرچہ بہت زور لگایا تھا، مگر بعد ازاں مشترکہ اپوزیشن کی کوئی صورت نہیں بن سکی۔ اسمبلی کے اندر بھی مختلف حکمتِ عملی اختیار کی جاتی رہی،تاہم کوئی مجموعی تاثر نہیں بن سکا کہ اپوزیشن آخر چاہتی کیا ہے۔

دوسری طرف یہ بات بھی حقیقت ہے کہ شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر جتنے بھی خطاب کئے، ان میں زیادہ تر نیب کی انتقامی کارروائیوں کا ذکر کیا یا اپنی حکومت کے ایسے اعداد و شمار گنوائے، جو حقیقی نہیں تھے۔ ویسے بھی پنجاب کی 56 کمپنیوں کے سکینڈل سمیت بہت سی ایسی پالیسیاں تھیں، جن کا شہباز شریف کے پاس کوئی مدلل جواب نہیں تھا۔ ان کے مقابلے میں بلاول بھٹو زرداری نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔

اسمبلی کے اندر بھی اور باہر بھی انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ صحیح معنوں میں ایک اپوزیشن لیڈر کے طور پر خود کو متعارف کرایا۔ اس خلاء کو پورا کرنے کی کوشش کی جو شریف خاندان کی نامعلوم وجوہات کے باعث چپ کی وجہ سے پیدا ہوا۔

ان کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے لے کر پی ٹی آئی کے وزراء اور عہدیداروں کو مجبور کر دیا کہ وہ انہیں لیڈر سمجھیں اور ان کی باتوں کا جواب دیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی آنے والے دنوں میں اہمیت زیادہ بڑھے گی۔

ایک بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی پہلے ہی ایک اہمیت موجود ہے، تاہم شریف برادران کی عدم موجودگی کے باعث وہ واحد لیڈر قرار پائیں گے جو اپنی جماعت کی بھرپور نمائندگی کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی میں بھی خود مختار ہیں۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز مستقبل کی سیاست میں فی الوقت کہیں نظر نہیں آ رہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اول تو بلاول بھٹو کی طرح ان دونوں کو مسلم لیگ (ن) میں کوئی کلیدی عہدہ نہیں دیا گیا، دوسرا انہیں قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ان کی سیاست بے یقینی کا شکار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو آصف علی زرداری نے عرصہ پہلے بروقت پارٹی کی چیئرمین شپ سونپ دی تھی۔ اس وقت تو لگتا تھا کہ آصف علی زرداری کا آسیب انہیں حد سے آگے نہیں آنے دے گا، لیکن آج آصف علی زرداری نے خود کو پس منظر میں رکھ کر بلاول بھٹو کو آگے کر دیا ہے۔ میرے خیال میں بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی زندگی کا یہ بہت اہم دور ہے۔

ایک سیاسی جماعت بحران کا شکار ہو چکی ہے، اس کی اصل قیادت پس پردہ جا رہی ہے، مصلحتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے جو دوسرے درجے کی قیادت اوپر آئی ہے۔ وہ شاید نوازشریف و شہباز شریف کا خلا پورا نہ کر سکے، کیونکہ اس پر خود احتساب کی تلوار لٹک رہی ہے۔

ایسے میں اگر کوئی حکومت کو للکار سکتا ہے تو وہ بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ اگرچہ مجھے بلاول بھٹو زرداری کے طرز کلام اور طرز تخاطب سے اتفاق نہیں، مجھے ان کا انداز تقریر بھی نہیں بھاتا، پھر جس طرح وہ شخصی حملوں پر اتر آتے ہیں، وہ بھی گھسی پٹی سیاست کا پتہ دیتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کو ان سب باتوں سے بالاتر ہو کر قومی سیاست کا مزاج بدلنا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ وہ چیختی چنگاڑتی تقریر کریں۔ ضروری نہیں وزیراعظم کی شخصیت کو نشانہ بنائیں، انہیں معیاری اور حقیقی بات کرنی چاہیے۔ملک کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کا حل بھی پیش کرنا چاہیے۔ ایک مدبر سیاست دان کے طورپر اپنا امیج بنانے پر انہیں سب سے زیادہ توجہ دینا ہوگی۔

یہ بڑا اچھا موقع ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی اہمیت کو مزید منوائیں۔ یہ ثابت کریں کہ نوازشریف، شہبازشریف حتیٰ کہ آصف علی زرداری کی عدم موجودگی میں بھی وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں، بطور اپوزیشن لیڈر عوام کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کرنے کے اہل ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کو اس بات کا بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ حکومت کی اپوزیشن کرنا چاہتے ہیں یا پھر ان کا ہدف اسٹیبلشمنٹ اور فوج ہے۔ وہ اگر اپنے والد سے پوچھیں تو ان کی زندگی کا نچوڑ بھی یہی نکلے گا کہ سیاست میں صرف سیاستدانوں کو حریف سمجھو، وقت کے وزیراعظم کی مخالفت کرو، اس کی پالیسیوں میں کیڑے نکالو، اسے ناکام ثابت کرو، یہ نہ کہو کہ اس کے پیچھے فوج ہے، اسٹیبلشمنٹ ہے یا خفیہ طاقتیں ہیں۔

یہ خواہ مخواہ کی لڑائی کسی سیاستدان کو راس نہیں آئی، حتیٰ کہ آصف علی زرداری بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دے کر خاصے پچھتائے تھے۔ نوازشریف تو غالباً پچھتا ہی رہے ہیں۔ انہوں نے تنہا جو لڑائی لڑی تھی، آج صرف ان کے لئے سارے عذاب اترے ہوئے ہیں۔ باقی سب آزاد ہیں، حتیٰ کہ شہباز شریف بھی انہیں چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے ہیں اور ملک کے اندر ان کی سیاسی حمایت سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کو جتنی جلد یہ بات سمجھ آ جائے گی، اتنا ہی ان کے حق میں اچھا ہو گا کہ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے اسٹیبلشمنٹ یا فوج پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ وقتی طور پر اگر چھوٹی موٹی کامیابی مل بھی گئی تو آگے چل کر دھوبی پٹڑا بھی کھانا پڑا۔ پاکستانی سیاست کی کچھ حقیقتیں ہیں، جنہیں تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں، جو سیاستدان ان حقیقتوں کو نہیں سمجھتا اور لایعنی راستوں پر چل نکلتا ہے، اس کی منزل دور ہو جاتی ہے۔

ایسی درجنوں مثالیں ہماری سیاست میں موجود ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کو اپنی سیاست اور ان مقدمات و انکوائریوں میں ایک حد فاصل قائم کرنا ہو گی جو ان کے والد اور پھوپھی پر چل رہے ہیں، اگر وہ صرف اس بات میں الجھ جاتے ہیں کہ عدالتوں کی بجائے ہر قیمت پر یہ احتساب کا عمل سیاسی محاذ آرائی اور دھمکی آمیز بیانات دے کر روکنا ہے تو یہ چیز ان کی سیاست کو بھی داغدار کرے گی اور مقدمات سے بریت کا کوئی راستہ بھی نہیں نکلے گا۔

میدان خالی ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ بے فکر ہو کر کوئی بھی احتیاط ملحوظِ خاطر رکھے بغیر کھیلنا شروع کر دیں۔ بلاول بھٹو زرداری کو اپوزیشن کا میدان خالی مل رہا ہے تو انہیں مزید محتاط ہو کر کھیلنا چاہیے۔ وہ ایک ذمہ دار، مدبر اور سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے سیاستدان کے طور پر اپنا آپ منوائیں۔ ہر روز پریس کانفرنس کرکے ایک ہی بات کو نہ دہرائیں، بلکہ جب کہنے کی ضرورت پیش آئے،تب بولیں۔

اسمبلی کے اندر بھی اپوزیشن کی ایک موثر آواز بن کر ابھریں اور شخصی حملے کرنے کی بجائے قومی ایشوز پر بات کریں۔ بلاشبہ موجودہ سیاسی تناظر میں بلاول بھٹو زرداری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اہمیت بڑھی ہے تو انہیں اب اپنا ہرقدم بھی سوچ سمجھ کر اٹھانا ہو گا، تاکہ اگر لوگ متبادل قیادت کا سوچنا چاہیں تو انہیں بلاول بھٹو زرداری اس کے معیار پر پورا اترتے نظر آئیں۔

مزید :

رائے -کالم -