مدارس میں جدید تعلیم ضروری

مدارس میں جدید تعلیم ضروری
مدارس میں جدید تعلیم ضروری

  


ہمارے ہاں کئی قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ایک طرف ماڈرن تعلیم کے لئے اونچے طبقے کے علیحدہ اور مہنگے تعلیمی ادارے ہیں تو دوسری طرف سرکاری سطح پر تعلیمی ادارے ہیں۔اس کے علاوہ کئی قسم کے نجی تعلیمی ادارے ہیں جو تعلیم کے نام پر کاروبار کر رہے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں کے علاوہ ملک میں ایک بڑی تعداد دینی مدارس کی ہے جہاں قدیم نصاب تعلیم ہے اور ان اداروں میں لاکھوں غریب طلبہ اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔

ایک اسلامی ریاست میں بلا شبہ دین کی تعلیم ہر سطح پر دینے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ معاشرہ بے شمار برائیوں میں پھنسا ہوا ہے۔ نئی نسل کو دین سے بہرہ مند کرنے کے لئے مدارس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب وطن عزیز میں دہشت گردی عروج پر تھی تو کچھ مدارس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں ۔ ان میں خصوصاً وہ مدارس شامل تھے جو دہشت گردوں کے علاقوں میں تھے جیسے پاک افغان سرحد کے قریب ، سوات ، دیر اور فاٹا کے علاقہ میں اور تحریک طالبان پاکستان اور اس جیسی دوسری تنظیموں کے زیر سایہ پروان چڑھ رہے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا کہ ہم نے اپنے معاشرے کو انتہاپسندی سے پاک کرنا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے ہسپتال،مدرسے اور فلاحی کاموں کو حکومت نے اپنے زیر اثر لینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام یہ ہے کہ ہمارا نمبر دُنیا میں 129 پر ہے اور ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں۔

پاکستان میں 30 ہزار سے زائد مدرسے ہیں، جس میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، جن میں 70 فیصد ایسے مدرسے ہیں،جہاں ایک ہزار ماہانہ خرچ ہوتا ہے جبکہ 25 فیصد ایسے ہیں، جس میں تھوڑا زیادہ خرچ ہوتا ہے اور 5 فیصد مدرسوں کا انفرااسٹرکچر زیادہ اچھا ہے،جہاں 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مدرسوں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا اور حکومت نے ان تمام مدارس کو وزارت تعلیم میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تمام علمائے کرام اس بات سے متفق ہیں کہ انہیں قومی دھارے میں لایا جائے اور ایسا نصاب بنایا جائے گا، جس میں منافرت کی کوئی چیز نہیں ہو گی۔مدارس میں پڑھنے والے تمام 2.5 ملین بچے دہشت گرد نہیں ہیں۔حکومت نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 2.7 ارب روپے جاری بھی کر دیئے ہیں۔

آج ہم ثبوت اور لاجک کے ساتھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کا کوئی منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ ریاست بہت عرصے پہلے فیصلہ کرچکی تھی کہ اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے پاک کرنا ہے۔حکومت نے تمام مدرسوں کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تمام علمائے کرام مدرسوں کو مین اسٹریم میں لانے پر متفق ہیں۔ 1947ءمیں ملک بھر میں مدرسوں کی تعداد 247 تھی جو 80ءکی دہائی میں ڈھائی ہزار سے زائد ہوئے اور جب سے اب تک یہ مدرسے 30 ہزار سے اوپر ہوگئے ہیں۔ ان میں 2.5 ملین بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ مدرسے پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ان میں سے جو عسکریت پسندی کی طرف راغب ہیں ان کی تعداد 10 فیصد ہے۔ باقی 90 فیصد مدرسے ویلفیئر کے کام کررہے ہیں، جس پر حکومت اور اداروں کی نظر ہے کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔

بقول ڈی جی آئی ایس پی آر جامعہ رشیدیہ کے ایک طالب علم نے فوج میں کمیشن حاصل کر لیا ہے۔ وہ میرٹ پر پورا اترتا ہے، لیکن یہ بہت کم ہیں۔ سوچنے کی بات ہے جب 30 ہزار مدرسوں سے یہ بچے باہر آتے ہیں تو ان کے پاس ملازمت کے کیا مواقع ہوتے ہیں۔ جب یہ دین کی تعلیم لے رہے ہیں تو دین کی ہی تعلیم کی ملازمت لے سکتے ہیں۔ کیا ان بچوں کا حق نہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئرز بنیں یا فوج میں آئیں۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ان کے سلیبس میں درس نظامی کے ساتھ دوسرے ہم عصر مضمون ہوں۔

اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ ان مدرسوں کو مین اسٹریم کیا جائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان بچوں کے پاس کیرئیر کے اتنے مواقع ہوں جتنے دوسرے نجی اور سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچوں کے پاس ہوتے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھاکہ آرمی چیف کہتے ہیں اپنا فقہ چھوڑو نہیں دوسرے کو چھیڑو نہیں۔ نئے سلیبس میں دوسرے فقہوں کے احترام کے لئے سبجیکٹ شامل کریں گے۔ ایسا سلیبس بنائیں گے، جس میں دین کی تعلیم جیسے ہے ویسی ہی چلے گی۔ بس نفرت انگیز مواد نہیں ہوگا۔ اس پر بل تیار ہو رہا ہے۔

ان دینی مدارس کا نصاب تعلیم متوازن بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان اداروں کے فارغ التحصیل افراد بھی معاشرے میں اہم اور موثر کردار ادا کرسکیں۔ ان دینی مدارس میں اسلام کے ساتھ جدید علوم و فنون‘ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تدریس کا اہتمام ہونا چاہئے تاکہ ان اداروں سے تعلیم پاکر نکلنے والے افراد ملک کے مفید اور اچھے شہری بن سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سارے ملک کے اداروں میں عام تعلیم کا یکساں نظام اور نصاب رائج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس کے بغیر ملک میں صحت مند معاشرہ کا قیام ممکن نہیں۔ ملک میں انگریزی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ عام پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کا نظام تعلیم ہی نہ صرف یکساں ہونا چاہئے،بلکہ ان سب کا نصاب تعلیم بھی متوازن اور اعتدال پر مبنی ہونا چاہئے تاکہ ایک جمہوری اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے ضروری سہولتیں پیدا کی جاسکیں۔

ہمارے ہاں عدم برداشت، انتہا پسندی، دہشت گردی اور معاشرتی عدم مساوات اور عدم تفاوت دور کرنے کے لئے یکساں نظام تعلیم نہایت مفید اور معاون ثابت ہوگا۔جب ہماری آئندہ نسلیں یکساں نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کریں گی تو پھر معتدل اور متوازن معاشرہ کا قیام ممکن ہوگا۔ جب ان مدارس میں جدیدعلوم و فنون اور عام نصاب تعلیم بھی رائج ہو گا تو یہ ادارے بھی ملک و قوم کے مستقبل کی ضروریات کے لئے اچھے اور اور مفید شہری تیار کر سکیں گے۔

مزید : رائے /کالم