پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تباہ کن اضافے سے گریز کیا جائے ،تاجر برادری

  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تباہ کن اضافے سے گریز کیا جائے ،تاجر برادری

لاہور، راولپنڈی (نیوز رپورٹر، این این آئی) لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرے، معاشی حالات پہلے ہی غیر تسلی بخش ہیں، اگر پٹرولیم مصنوعات جیسے اہم خام مال کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا تو صورتحال بہت زیادہ بگڑ جائے گی۔راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر ملک شاہد سلیم نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںمجوزہ اضافے کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ رمضان کی آمد ہے ۔ تاجر برادری پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں ۔لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات صنعتوں کا اہم خام مال ہے جو پہلے ہی مشکلات سے دوچار اور عالمی منڈی میں جگہ بنانے کے لیے تگ و دو کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 74.50ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر 70.77بیرل پر آئی ہیں مگر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںاضافے کے لیے پر تولے جارہے ہیں جودرست نہیں۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ اگر نقصان دہ اثرات کو مدنظررکھے بغیر ا±ن اداروں کی سفارشات پر عمل درآمد کردیا گیا جنہیں صنعت و تجارت کے حالات سے کوئی سروکار نہیں تو صرف صنعت ہی نہیں زراعت بھی مزید مسائل سے دوچار ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نشوونما کا دارومدار زرعی شعبے پر ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی شعبے کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں، ہارویسٹرز اور دیگر زرعی مشینری میں ہائی سپیڈ ڈیزل بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی جانب سے تھرمل جنریشن کی لاگت بھی بڑھ جائے گی جس سے صنعتی شعبے کو بہت نقصان ہوگا۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے کہا کہ نہ صرف اشیاءکی نقل و حمل مہنگی ہوجائے گی بلکہ عوامی ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جائیں گے جس سے عام لوگ بہت بُری طرح متاثر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زیادہ تر بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا کرتی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناکر بجلی کے نرخ مزید بڑھا دئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے ۔صدر راولپنڈی چیمبر ملک شاہد سلیم نے کہا کہ ای سی سی پٹرول نو روپے اور ڈیزل میں چار روپے اضافے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی اور کاروباری طبقے کے لیے نہ صرف مشکلات میں اضافہ ہو گا بلکہ اس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی اور عوام کی قوت خرید کم ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بہت متاثر ہوں گی۔ ہمیں انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ قیمتوں میں مجوزہ اضافہ فوری واپس لیا جائے۔ ٹرانسپورٹیشن لاگت میں اضافے سے اشیا کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے ۔ کاروباری لاگت میں اضافے کا براہ راست اثر برآمدات پرپڑتا ہے۔ حکومت رمضان کے ماہ مقدس میں عوام کو ریلیف دے۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث عام استعمال کی اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں پہلے ہی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔ غیر یقینی کی فضا ختم کی جائے۔ ملک شاہد سلیم نے کہا کہ پیداواری لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں برآمدات کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہیں۔ امپورٹ بل میں مزید اضافہ ہو گا۔ا ور ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ حکومت دانشمندی کا مظاہرہ کرے گی اور قیمتوں میں اضافہ واپس لے گی۔ 

مزید : کامرس