سارک ممالک تجارت کے فروغ پر توجہ مرکوز کریں‘افتخار علی ملک

  سارک ممالک تجارت کے فروغ پر توجہ مرکوز کریں‘افتخار علی ملک

  

لاہور ( نیوز رپورٹر)سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے جنوبی ایشیا کو دنیا میں اس کی سٹریٹجک پوزیشن کے شایان شان مقام دلانے اور معاشی انضمام کے لئے تمام دستیاب تجارتی مواقع اور سرمایہ کاری کے امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ کٹھمنڈو میں سارک چیمبر اجلاس اور ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وفد کے سربراہ افتخار علی ملک نے کہا کہ رکن ممالک تجارت کے فروغ کیلئے نان ٹیرف رکاوٹوں (این ٹی بیز) کے خاتمے اور بزنس ٹو بزنس روابط کے استحکام پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے کہا کہہ دنیا کی 21 فیصد آبادی کے ساتھ سارک خطہ تجارت اور سرمایہ کاری کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ اب بھی دنیا کا سب سے کم مربوط خطہ ہے جس میں باہمی علاقائی تجارت عالمی تجارت کا صرف 5 فیصد ہے جبکہ نافٹا ریجن میں یہ تناسب 51 فیصد اور آسیان میں 25 فیصد ہے۔ انہوںنے کہا کہ انٹرا ریجنل ٹریڈ کے 55 فیصد پوٹینشل کو ابھی تک بروئے کار ہی نہیں لایا گیا جبکہ یہ کام معلومات، تحقیق، ترقی اور ویژن کے اشتراک اور ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارک رکن ممالک کے مابین نان ٹیرف رکاوٹوں اور پیچیدہ تحفظاتی نظام کی وجہ سے ساﺅتھ ایشیا فری ٹریڈ ایگریمنٹ (سافٹا) بھی توقعات کے مطابق نتائج نہیں دے سکا۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ آٹھوں رکن ممالک کی بزنس کمیونٹی کو علاقائی معاشی انضمام کی اہمیت کا ادراک ہے اور اس میں تمام ممالک کیلئے یکساں مواقع ہیں۔ بزنس کیلئے سہولیات کی فراہمی اور ممبر ممالک میں سرمایا کاری کی حوصلہ افزائی ہماری اولین ترجیح ہے۔

 اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔ لیکن اس مقصد کے لئے جنوبی ایشیائی قیادت کو آگے بڑھنا ہوگا، انہیں سمجھنا ہو گا کہ وہ دنیا کے بعض غریب ترین ممالک کے رہنما ہیں اور انہیں اپنے عوام کو غربت کے چنگل سے نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں سیاسی بے چینی موجود ہے اس لئے ہمیں بھی تجارت کے فروغ کیلئے سیاسی غیر یقینی سے باہر نکل کر سوچنا اور اس کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود ہمارے نقاد بھی خطے میں کاروباری ماحول کے فروغ کے لئے سارک کے کردار کے معترف ہیں اور درپیش مسائل کے باوجود سارک نے تجارتی، مالیاتی، غربت کے خاتمے، انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کو بااختیار بنانے، بچوں کی فلاح و بہبود، دیہی ترقی، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات اور ماحولیات سمیت کئی شعبوں میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے آغاز بعد عالمی تجارتی سپلائی چین میں پاکستان کا کردار بڑھ جائے گا اور اس کے اثرات خطے کی سماجی و اقتصادی صورتحال پر بھی مرتب ہونگے۔

مزید :

کامرس -