ایرانی ٹی وی کے سابق سربراہ کا مجتبی خامنہ ای پر کرپشن کے الزام

ایرانی ٹی وی کے سابق سربراہ کا مجتبی خامنہ ای پر کرپشن کے الزام

  

تہران(آئی این پی) ایرانی نشریاتی ادارے کے سابق سربراہ نے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ مجتبی خامنہ ای پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی فوج سرکاری میڈیا پر اثر انداز ہوتی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران کے سرکاری ریڈیو اینڈ ٹیلی ویڑن کارپوریشن کے سابق چیئرمین محمد سرفراز نے ایران کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ مجتبی خامنہ ای کی ریاستی اداروں میں کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے لوگوں کو کرپشن پر زبان کھولنے کی پاداش میں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ایران کے سابق عہدیدار محمد سرفراز نے بتایا کہ پاسداران انقلاب بدعنوانی کے انسداد کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو مبینہ طور پر ناکام بنانے میں سرگرم ہے تاکہ کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث افراد کو بچایا جا سکے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سرفراز نے کہا کہ اگر ان اداروں کے اندر سے کرپشن کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے کی جرات کرتا ہے تو اسے مختلف طریقوں سے خاموش کرا دیا جاتا ہے، بہت سے لوگوں کو کرپشن پر زبان کھولنے کی پاداش میں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کے افسران مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور رشوت کے ذریعے ریڈیو اور ٹیلی ویڑن پرگرامات پر اثر انداز ہوتے۔انہوں نے9 ملین ڈالر مالیت سے ڈیٹا سینٹر قائم کیا۔

 اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے ریڈیو اور ٹی وی کے مختلف منصوبوں میں قریبا 5 کھرب ایرانی ریال کی سرمایہ کاری، اس کے علاوہ انہوں نے 515 ملین ریال مالیت سے آئی پی ٹی وی پراجیکٹ شروع کیا۔

مزید :

علاقائی -