”کارکردگی ورنہ جاؤگے“

”کارکردگی ورنہ جاؤگے“
”کارکردگی ورنہ جاؤگے“

  


عمران خان نے درست کہا کہ جوکارکردگی دکھائے گا وہ رہے گا اورجو نہیں دکھائے گا اُسے جانا ہوگا یہ بھی ٹھیک کہا کہ میچ میں موقع کی مناسبت کے لحاظ سے بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا پڑتا ہے یہ تو ہوگیا نیا پاکستان لیکن آج کل سیاست کے چلن اور زبان کے پھسلنے کا جو حال ہے اگر مزید ایسا ہی رہا تو اورکچھ ہو نہ ہو جمہوریت کی مزید بے توقیری ضرور ہو جائے گی۔ اب یہ عہدحاضرکے سیاستدانوں پر منحصر ہے کہ وہ زبان کی حالیہ پھسلن کو تقویت بخش کر اپنی کریڈیبلٹی اورجمہوریت ارتقاکوزنگ آلودکرنا چاہتے ہیں یاجمہوریت کا راستہ ہموارکرنا چاہتے ہیں جوحسن جمہوریت اور پارلیمانی نظام میں ہے وہ کسی اور سسٹم میں نہیں بشرطیکہ حقیقی جمہوریت ہو زبانوں کے پھسلنے کے اس دورکا فائدہ بلاول بھٹو زرداری کو ہوا ہے وہ اس بدزبانی کے عالم میں حقیقی اپوزیشن بن بیٹھے ہیں اسمبلی میں موجود پارٹیوں نے بلاول کی اسمبلی کی تقاریر اور پریس کانفرنسوں کو قابل توجہ اورقابل غور قرار دیا ہے اوپر سے حکومتی نمائندے اسمبلی میں آکرجواب دینے کی بجائے جلسوں میں جواب دے کر بلاول کو خراج تحسین دے رہے ہیں نئے پاکستان میں حکومت نے اپنا لوہا منوایا ہے یا نہیں پیپلزپارٹی نے اپنا لوہا منوا لیا ہے اور اس کا فائدہ بظاہر بلاول بھٹوزرداری کو ہوا ہے۔

چین جانے سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر تشکیل دینے کے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اوردوسرا کہ نیب قانون بدلنے پراتفاق ہوا ہے اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی مجوزہ ترامیم سامنے آئی ہیں فریقین میں رابطے ہوئے ہیں اورنیب اصلاحات کابل لانے کا اصولی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

معیشت کی ہچکولے کھاتی کشتی کوگرداب سے نکالنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ کیونکہ خبریں اور اطلاعات بہت دلخراش ہیں ضروری ہے کہ پارلیمان کے اندرصاحبہ اور سلیکٹڈ وزیراعظم جیسی اصطلاحوں کی بازگشت کوروکا جائے تاکہ عوام کے دم توڑتے خوابوں کو تعبیر ملے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کی ان اصطلاحوں سے عوام کوکچھ ملنے والا نہیں حکومت الیکشن سے پہلے کارویہ ترک کرکے عوام کوکچھ کرکے دکھائے حکومت الیکشن سے پہلے وعدوں اوردعوں کو عملی جامہ پہنائے ورنہ یہ نہ ہوکہ عوامی تکیہ اور اعتبار مزید نیست ونابود ہوتے چلے جائیں گے، مہنگائی ہے کہ آسمان کو چھو رہی ہے رواں سال مہنگائی کی شرح 1.8فیصدرہی مالیاتی اداروں کے مطابق اگلے سال تک اس میں 5.10فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے جو ہوگیا تومہنگائی کا ایک سونامی آئے گا۔

ورلڈبینک کی حالیہ رپورٹ روشنی ڈالتی ہے کہ پاکستان کاقومی قرضہ 2018ء کے آخرتک مجموعی ملکی پیداوارکا2.71فیصد بن چکا تھا جو 2019ء میں 3.72فیصد تک تجاوزکرتا دکھائی دے رہا ہے اسی وجہ سے آئی ایم ایف سے بھی بہت خوف آرہا ہے تاہم وزیراعظم بیجنگ کے دورہ پر جہاں انہوں نے 40ممالک کے سربراہوں کے سامنے اپنی گفتگو بھی رکھی۔ عمران خان کی ورلڈبینک کی سربراہ اورآئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات کس قدرنتیجہ خیزرہی اس کاپوری طرح سامنے آنا باقی ہے۔

تاہم اس موقع پرکرپشن کے خاتمہ پرپاک چین اتفاق قابل تعریف ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کے پانچ نکات کتنے سودمند ہوتے ہیں، لیکن اگرآئی ایم ایف شرائط رکھ کر پاکستان کو اپنی کرنسی کی قدرمیں کمی کرنے پر مجبورکرتی ہے تو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی اور یہ بھی کہ اگر یہ حکومت شرح سود میں اضافہ نہ روک سکی توسرمایہ کاری رک جائے گی۔

مختصر سیاسی زبان اور معاشی زبان کو ملا کر دیکھیں تودونوں زبانوں کے حالیہ حالات بہت پتلے ہیں۔سیاسی زبان کی خطرناکی تو خیر سیاستدانوں کو خود دیکھنا ہوگی، رہی بات معاشی زبان کی ہولناکی کی تو اُسے دیکھنا اب حفیظ شیخ کی ذمہ داری ہے اورجس ریاست مدینہ کے حوالے سے عمران خان نے ذکرکیا کہ ہم ریاست مدینہ کے اصولوں پر تشکیل دینے کے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اس منزل کے قریب پہنچے کیلئے معاشی وسیاسی زبانوں کی ہموارگزرگاہ بہرحال درکارہے اورجو زبان دی جاچکی ہے اس کی پاسداری بھی ضروری ہے محض ہوا میں تیر چلانا کافی نہیں کام کرنا ہوگا اسی طرح نیب قانون میں ترمیم والا جومعاملہ ہے اس پر حکومت اور اپوزیشن ایک صفحہ پر نہیں ہونگے تو معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔ احتساب سب کاہونا چاہئیے اوربلاتفریق ہونا چاہئیے بصورت دیگر اس کی کریڈیبلٹی نہیں ہوگی نیب میں ترمیم لانی چاہیئے اور روایتی پولیس والا کردار بھی ختم ہونا چاہئیے جووعدے الیکشن سے پہلے کئے ان کو وفا ہونا چاہئیے ورنہ خان صاحب آپ ہی فرماتے ہیں جوکام ونہیں کریگا اُسے جانا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم