کرپشن اور ترقی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،میری زندگی کا اصول ہے ،پیچھے مڑکر نہیں دیکھتا ،عمران خان رینالہ خورد اوکاڑہ میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کا افتتاح کرپٹ بدعنوان بیورو کریٹس کیخلاف تحقیقات کی منظوری

کرپشن اور ترقی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،میری زندگی کا اصول ہے ،پیچھے مڑکر نہیں ...

  

لاہور(سپیشل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم سے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اعجاز حسین شاہ نے ملاقات کی ۔ عمران خان نے کرپٹ بیوروکریٹس کیخلاف 800 کیسز کی تحقیقا ت کی منظوری دےدی۔لاہور علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر ہونےوالی ملاقات میں کرپشن کے موضوع پر بات ہوئی۔ وزیر اعظم نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو باور کرایا کہ کرپشن کا خا تمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، کرپشن کے ناسور نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور اداروں کو تباہ کیا، جس سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کرپشن اور ترقی کا سفر ایک ساتھ نہیں چل سکتا، کرپشن کے خاتمے اور بدعنوان عناصر کیخلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔ حکومت اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،چیف سیکرٹری پنجاب اورآئی جی پنجاب پولیس بھی اس موقع پر موجود تھے ، وزیراعظم نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو صوبائی اداروں میں کرپٹ افسران کے خلاف گھیرا تنگ کرکے ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے ٹارگٹ دے دیا، ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے محکمہ اینٹی کرپشن کو فعال بنانے کےلئے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی خالی اسامیوں پر کرنے کےلئے ایمانداراور فرض شناس افسروں کی تقرری کے اختیارات بھی دے دیئے ہیں جبکہ ڈیپوٹیشن پر سرکاری اداروں سے لینے افسران کی تقرری کےلئے بھی ڈی جی اینٹی کرپشن کو بااختیار بنا دیاہے ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب میں سرکاری اداروں سے سفارشوں پر آئے ہوئے افسران کو نکال کر ان کی جگہ دیانتدار افسران کی تقرری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ،وزیراعظم نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو کہا مجھے پنجاب بھر کے سرکاری اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن کی روک تھام کےلئے فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ، کرپشن فری نیا پاکستان بنانے کےلئے وزیراعلیٰ پنجاب ،چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب ڈی جی اینٹی کرپشن کےساتھ بھرپور تعاون کیا جا ئے تاکہ کرپشن کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جاسکے ۔وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ غریب شہریوں پر جھوٹے مقدمات درج کرنےوالوں کےخلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور میگا سکینڈل میں ملوث افراد سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کروائی جائے۔دوسری طرف اجلاس کے بعد ڈی جی اینٹی کرپشن اعجاز حسین شاہ کا کہنا تھا 800 کیسز کی تحقیقات کی منظوری مل گئی ہے۔ گریڈ 17 تا 22 تک کے بڑے افسروں اور ملازمین کیخلاف بھی تحقیقات کی منظوری مل چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ جو بھی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے خزانے کو نقصان پہنچایا ان کیخلاف ایکشن لوں۔ پہلے 50 فیصد کیسز پٹواری اور کانسٹیبل تک محدود تھے۔ اس سے قبل کسی بڑے پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا تھا۔ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب اعجاز حسین شاہ کا مزید کہنا تھا پنجاب میں جس بھی افسر کےخلاف کیس ہو گا اسے اپنی صفائی کا مکمل موقع دیں گے۔ 

وزیر اعظم منظوری

لاہور،اوکاڑہ،رینالہ خورد( سپیشل رپورٹر،بیورورپورٹ ،تحصیل رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں پانچ سال میں 50 لاکھ گھر بنانے ہیں، میاں محمودالرشید کہتے ہیں یہ 50 لاکھ گھر بنانامشکل ہے، اگر مشکل نہ ہوتا تو پچھلی حکومت یہ کام کرچکی ہوتی۔ معا شرہ کمزور لوگوں کی فکر کرتاہے، ریاست غریبوں کو چھت فراہم کرنے کی ذمہ داری لے اور جب ریاست کمزور طبقے کی ذمے داری لیتی ہے تو اللہ اس کی مدد کرتا ہے ، مدینے کی ریاست دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی جہاں جانوروں کا بھی خیال رکھا جاتا تھا، اسوقت پاکستان کے معا شی طور پر سب سے مشکل حالات ہیں، ہم نے تب یہ ذمہ داری لی کہ اس طبقے کےلئے گھر بنائیں گے جو گھر نہیں خرید سکتا، اس کےلئے ہم قانون بد لیں گے اور بینکوں کو تیار کریں گے، ہاو¿سنگ سارے پاکستان میں شروع کررہے ہیں، پچاس لاکھ گھر پرائیوٹ سیکٹر بنائے گا حکومت صرف مدد کرے گی، اس میں نوجوانوں کو زبردست موقع ملے گا کہ وہ چھوٹی کنسٹریکشن کمپنیاں بنائیں۔ شہروں میں اب تک کچی آبادیاں ہیں اور لو گ برے حالات میں رہتے ہیں، اس کےلئے زبردست پروگرام لارہے ہیں، کچی آبادیوں کےلئے فلیٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگ آ ر ا م سے رہ سکیں ،اس کےلئے چائنا سے مدد لیں گے۔ پہلی بارپاکستان میں مکمل طورپرگاڑی تیار ہوگی،غیرملکی سرمایہ کاری سے ہی ملک کا معاشی بحر ان دورہوگا،اب پاکستان میں گاڑیاں بنیں گی اور بر آمد بھی ہونگی، سرمایہ کاروں کیلئے ہر ممکن آسانیاں پیدا کرینگے،کاروبار میں مشکلا ت کی وجہ سے ملک میں بےروزگاری بڑھی ہے۔ معاشی بحران سے نکلنے کے حوالے سے قوم سوال پوچھتی ہے، اس کا جواب ہے غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہی معاشی بحران دورہوگا، پہلی بارپاکستان میں گاڑی تیارکرنےوالی بلواسطہ طور پر اس فیکٹری سے چالیس ہزار افراد کوروزگارملے گا،سرمایہ کاری میں اضافے سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، مستقبل میں الیکٹرک کار کی تیاری سے ماحولیاتی آکودگی کم ہوگی، گزشتہ روز ان خیالات کا اظہاروزیراعظم عمران خان نے لاہور میں ایچی سن کالج کی تقریب ،جے ڈبلیو لینڈ کار پلانٹ اور بعدازاں رنیالہ خورد اوکاڑہ میں نیا پاکستان ہاو¿سنگ سکیم کی افتتاحی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انکا مزید کہنا تھا جو لوگ کہتے ہیں 50 لاکھ گھر ناممکن ہے وہ دیکھیں گے یہ کام ہر سال تیز ہوگا، شروع میں ہمیں دیر لگے گی لیکن پھر جلدی ہوگا، اس سکیم سے ان لوگوں کو گھر بنانے کا موقع ملے گا جو تنخواہ میں گھر بنانے کا سوچ نہیں سکتے تھے، میرا خواب ہے ہر پاکستانی کے سرپر چھت ہو۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا میری زندگی کا اصول ہے ، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ آدھے پاکستانی دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے، قائد اعظم کو سیاست کی ضرورت نہیں تھی، انہوں نے آزادی کےلئے 40 سال جدوجہد کی۔ پیسے کمانے سے نہیں بلکہ بڑی ذمہ داری نبھانے سے بڑا آدمی بنتے ہیں، بڑے لوگ وہ بنیں گے جو اپنی قوم کےلئے آ گے جا کر کام کریں گے کیونکہ دنیا ان کو یاد رکھتی ہے جو انسانوں کےلئے کام کرتی ہے۔ قائد اعظم کو اسلئے یاد رکھا جاتا ہے انہوں نے آزادی کےلئے کام کیا، چیمپیئن وہ ہوتاہے جو برے وقت کو ہینڈل کرتاہے، دنیا میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ۔رنیالہ خورد اوکاڑہ شیر گڑھ روڈپر نیا پاکستان ہاﺅ سنگ سکیم کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا مشکل کام تحریک انصاف کی حکومت کرےگی ،مغربی معا شر ہ کمزور طبقہ کی فکر اور احساس کرتا ہے علاج ،تعلیم ، صحت، انصاف کی سہولتیں دیتا ہے ،یہ مدینہ کی ریاست میں دنیا میں پہلی مرتبہ ماڈل متعا ر ف کرایا گیا جس میںاحساس تھا،مدینہ کی ریاست میں پیسہ نہیں تھا ،لیکن نیت تھی ، خلوص تھا ، اسلئے اللہ کی طرف سے ان کی مدد بھی ہوئی ، ، ا للہ تعالیٰ اس معاشرے کو عزت دیتا ہے جونبی کریم کے اسوہ حسنہ پر چلتا ہے ، انشا اللہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر پر رینالہ خورد اور لودھراں کی طرح ملک بھر میں بھی کام جلد شروع ہو جائےگا ۔پاکستان کے ترقی پسند عوام چھوٹی موٹی قربانیوں کےلئے تیار رہیں ، تقریب سے خطاب سے پہلے انہوں نے رینالہ خورد نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا اس موقع پر وزیراعلی عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر اطلاعات و نشریات صمصام شاہ بخار ی ،فردوس عاشق اعوان ،میاں محمود الرشید،جہانگیر ترین، ترجمان وزیراعظم ندیم افضل چن ودیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔بعدازاں لاہور میں شاہی قلعہ میں تصویری دیوار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا سابق حکمران گرمیوں کی چھٹیاں لندن و امریکہ میں گزارتے تھے اسلئے انہیں معلوم ہی نہیں پاکستان میں کیسے شاندار مقامات ہیں ، ماضی کے حکمرانوں کو احساس ہی نہیں تھا کہ ہم نے اپنی تاریخ و ثقافت کو محفوظ بنانا ہے لیکن موجودہ حکومت نے اس طرف توجہ مرکوز کی ہے ،پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 19ارب ڈالر جبکہ ترکی کی صرف سیاحت سے آمدن 40ارب ڈالر اور ملائیشیاءکی ساحلی سیاحت سے آمدن 20ارب ڈالر ہے ،پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں بڑا پوٹینشنل ہے اسلئے ہم نے اس کی ٹاسک فورس بنائی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کامران لاشاری کو بہترین کام کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے پشاور میں بھی اس سلسلہ میں مدد لینے کا عندیہ دیا اور کہا دنیا بھر میں اپنے تاریخی ثقافت اور تاریخی مقامات کو محفوظ بنانے سے قومیں فخر محسوس کرتی ہیں لیکن ہمارے یہاں ماضی میں کسی نے اس سے متعلق سوچا ہی نہیں کہ آئندہ آنےوالی نسلوں کےلئے ایسے مقامات کو محفوظ کیا جانا ضروری ہے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے ہم کیا تھے اور کس طرح سولاائزیشن کی طرف گئے ۔ فروغ سیاحت سے ہی ہم غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بد ھ ، ہندو مت او ردیگر مذاہب کے بے شمار مذہبی مقامات موجود ہیں ، مذہبی سیاحت کے حوالے سے پاکستان کا منفرد مقام ہے ، صرف شمالی علاقہ جات ہی سوئٹرز لینڈ سے کئی گنا پر کشش ہیں ۔انگریزوں کے بعد کسی نے یہاں اسے ڈویلپ نہیں کیا ،اب ہماری حکومت نے تاریخی اور سیاحتی مقامات کو پر کشش بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، ہم 20ریزارٹس کو ڈو یلپ کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں بے شمار تاریخی تہذیبیں موجود ہیں، وقت آ گیا ہے کہ آرکیالوجی کواپنے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے ۔آغا خان فاﺅنڈیشن نے سیاحت کےلئے شمالی علاقہ میں زبردست کام کیا ہے ۔ ہندوستان نے بھی تاریخی مقامات کو محفوظ کر کے کمرشل مقا صد کےلئے استعمال کیا ۔ ہمیں بھارت سے سیکھنا چاہیے ۔ اس نے اپنے پیلسز کو ہوٹلز میں تبدیل کر کے انہیں محفوظ کیا جس سے اسے آمدن بھی ہوتی ہے ۔ ہمیںبھی اپنے پیلسز کےلئے ایسی ہی پالیسی بنانی چاہیے ۔بعدا زاں وزیر اعظم عمران خان نے عشائیے میں بھی شرکت کی ۔

عمران خان 

مزید :

صفحہ اول -