مریم نواز کو نائب صدر بنانا آئین قانون و الیکشن قوانین کے منہ پر طمانچہ ،فردوس عاشق

مریم نواز کو نائب صدر بنانا آئین قانون و الیکشن قوانین کے منہ پر طمانچہ ...

  

لاہور،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزےراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے مرےم نواز کو مسلم لےگ( ن) کا نائب صدر بنانا آئےن سے مذا ق ہے، سزا ےافتہ شخص، پارٹی عہدہ نہےں رکھ سکتا، مرےم نواز کو عہدہ دےنا الےکشن کمےشن قوانےن کی بھی خلاف ورزی ہے، (ن) لیگ انتشار اور تتر بتر کا شکار ہے جو عہدے بانٹے گئے سب جانتے ہیں، عالمی مارکےٹ مےں پٹرولےم مصنوعات کی قےمتےں بڑھنے سے حکومت نے نہ چاہتے ہوئے قےمتوں مےں اضافہ کےا، جسکا بوجھ حکومت اور عوام کو ملکر برداشت کرنا پڑے گا ۔ ینگ ڈاکٹرز مریضوں کا اور حکومت انکاخیال رکھے گی۔وزےراعظم نے رمضان سے قبل نےا پاکستان ہا¶سنگ سکےم کا آغاز کر کے مثال قائم کی جس سے عوام کو رےلےف ملے گا ،اپوزےشن قانون سازی کےلئے حکومت کا ساتھ دے اور پارلےمنٹ مےں مثبت کردار ادا کرے، ہفتے کے روز مےڈےا سے گفتگومیں انکا مزید کہنا تھا وزےراعظم پسے ہوئے طبقات کو اوپر اٹھانا چاہتے ہےں ، نواز شر ےف کی بیرون ملک علاج کیلئے ضمانت مےں توسےع کی درخواست ” ےوٹرن “کی ماں تھا۔اپوزیشن اپنی سوچ بدلے ۔ہمارے مخالفین اوورسیز سرمایہ کاروں کی بات کررہے تھے ،ہم نے بیرونی سرمایہ کاری سے کار پلانٹ کا افتتاح کیا ،اس سے ایک ہزار خواتین اور لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ ہم امن اور ترقی کا مشن لیکر نکلے ہیں ،اپوزیشن قانون سازی میں مدد کرے اور اپنی سوچ کو بدلے کیونکہ کرپشن سے پاک سوچ ضروری ہے ،اپوزیشن میں جو کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں وہ اپنے لوگوں کو سامنے لائیں۔قبل ازیں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا وزیر اعظم عمران خان پرفارم اور ڈلیور کرنا چاہتے ہیں،جب آپ مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کریں گے ، آپ چھپتے پھریں گے تو یہ حل نہیں ، ہمیں فرنٹ فٹ پر آکر کھیلنا ہے اور عمران خان بیک فٹ کا کھلاڑی نہیں وہ ہمیشہ فرنٹ فٹ پر آکر شارٹ کھیلتا ہے۔ عمران خان 22سال جد وجہد کے بعد عوام کی پرچی سے وزیر اعظم بنے ہیں اور ہمیں مقابلہ کرنا آتا ہے لیکن ہم پارلیمنٹ کوسیاسی اکھاڑا نہیں بنانا چاہتے۔ عمران خان 22 کروڑ عوام کا چہرہ ہیں اور وزیر اعظم پاکستان ہیں ، پوری دنیا میں ان کی ایک ساکھ ہے ، لوگ ان کی عزت کرتے ہیںاور پوری دنیا میں انہوں نے اپنا مقام بنایا ، پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہو کر سیاسی یتیموں کا ٹولہ ان پر انگلیاں اٹھاتا ہے تو اس سے وزیر اعظم کے اپنے و جو د اور شخصیت کا ایشو نہیں ، اس عہدے کی تضحیک ہے ، وہ جو وزیر اعظم پاکستان کی ساکھ ہے اور فیس ویلیو ہے وہ بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوتی ہے ۔پاکستان مخالف قوتیں خصوصی طور پر بھارت ، اگر ہماری پارلیمنٹ میں کوئی بات ہوتی ہے تو فوری طور پر بھارت اس کو منفی انداز میں پیش کرتا ہے، اگر اپنی پارلیمنٹ میں اپوز یشن اس طرح کاغیر ذمہ دارانہ رویہ رکھتی ہے تو اس سے پاکستان کا اپنا مقدمہ بین الاقوامی سطح پر کمزو ر ہوتا ہے۔ اب وزیر اعظم 100فیصد پارلیمنٹ میں آئیں گے ۔پارلیمنٹ کا کام قانون سا ز ی ہے اور جمہوریت میں پارلیمنٹ ایسے قانون بناتی ہے جو عوام کو ریلیف دیں اور ا ن کے فائدے کےلئے بنیںاور ان قوانین کے ذ ریعہ لو گو ں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، ہمارا بطور حکومت یہ کام ہے کہ ہم اپنے بل پارلیمنٹ میں پیش کریں گے ، ہم اپوزیشن کےساتھ مشاورت کریں گے، ہم ا ن کو آن بورڈ لیں گے ، ہم ان سے درخواست کریں گے کہ عوامی مفاد کی قانون سازی کےلئے ووٹ دیں۔ کبھی بھی حکومت تصادم نہیں چاہتی ۔ جب اپوزیشن وزیر اعظم کے حوالہ سے نازیبا الفاظ استعمال کرے گی، جملے کسے گی اور وزیر اعظم کی کرسی کی عزت کا خیال نہیں کرے گی تو پھر وہاں تصادم پیدا ہوتا ہے۔عمران خان کو وزیر اعظم بنانے میں اور اس گلے سڑے نظام سے لوگوں کا تعلق توڑ کر ایک امید دلانے میں میڈیا کا ایک اہم کردار ہے ، ہمارا حکومت میں آنے کے بعد میڈیا کےساتھ جو جارحانہ رویہ رہا اس سے وزیر اعظم کا میڈیا کےساتھ انگیجمنٹ، پارٹنرشپ ، اونرشپ کا جو نظریہ تھا، اس کو جب ہم تصادم میں لے گئے تو جو ہمارے دوست تھے جو ہماری جنگ لڑ تے رہے ، ہمارے بیانیہ کو عوام تک پہنچاتے رہے وہ دوست بھی ہم نے ناراض کر دیئے اور ان سے ہمارا رابطہ ختم ہو گیا ،اب ہمارا یہی ایجنڈا ہے کہ ہم نے میڈیا کےساتھ تعلق بنانا ہے۔ اگر خوا تین کے براہ راست انتخاب لڑنے کےلئے کوئی حلقے مخصوص کرنے ہیں تو اس کےلئے دو تہائی اکثریت سے قانون سازی درکار ہے، مجھے نہیں لگتا شہباز شریف بیرون ملک سے وطن واپس آئیں گے۔ نواز شریف کےلئے ڈیل کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ نیب قوانین کے مطابق پلی بارگین کر سکتے ہیں ، قوم کا پیسہ واپس اور اعتراف جرم کریں اور جب اعتراف جرم کر لیا جاتا ہے تو پھر وہ کسی بھی عوامی عہدے کےلئے نااہل ہو جاتے ہیں ، اصل ایشو یہ ہے۔ ایک عدالتی پروسیجر ہے یا آپ نے سزا بھگتنی ہے یا پیسہ دینا ہے اور تو درمیانی راستہ ہی نہیں ، محفوظ راستہ ہی نہیں ۔ بلاول بھٹو زرداری سڑکوں پر آئیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ بلاول بھٹو احتجاج کا آغاز لاڑکانہ سے کریں جہاں سینکڑوں لوگ ایڈز کا شکار ہیں اور ان کے کا ن پر جوں تک نہیںرینگی۔قیادت کی ترجیحات ہوتی ہیں کہ وہ اپنے ملک اور عوام کےلئے سوچتا ہے ،اپنی ذات اور کاروبار کےلئے نہیں ۔ بلاول بھٹو کو حکومت کےخلاف احتجاج کرنے کی بجائے اپنے خاندان اور سندھ کے اندر قیادت کےخلاف احتجاج کرنا چاہئے ۔ 

فردوس عاشق

مزید :

صفحہ اول -