پنجاب میں اہم تبدیلیاں دو ماہ بعد ،اگست کا مہینہ سیاسی سرگرمیوں کو مہمیز لگائے گا

پنجاب میں اہم تبدیلیاں دو ماہ بعد ،اگست کا مہینہ سیاسی سرگرمیوں کو مہمیز ...
پنجاب میں اہم تبدیلیاں دو ماہ بعد ،اگست کا مہینہ سیاسی سرگرمیوں کو مہمیز لگائے گا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے این آر او دینے اور مانگے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ پھر بھی چودھری اعتزاز احسن کا اصرار ہے کہ این آر او ہو چکا ہے، ان کا استدلال یہ ہے کہ شہباز اسی صورت باہر گئے تھے جب این آر او ہوگیا تھا اس سے پہلے بعض سیاستدان یہ کہتے ہوئے سنے گئے تھے کہ انہوں نے شہباز شریف کو خود این آر او مانگتے ہوئے سنا اور دیکھا، لیکن کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب وزیراعظم عمران خان کسی نہ کسی جگہ کسی نہ کسی انداز میں یہ اعلان نہیں کرتے کہ وہ این آر او نہیں دیں گے۔ ہمیں تو ان کی بات پر پورا بھروسہ ہے۔ البتہ ایک گنجائش ضرور موجود ہے کہ وہ کسی وقت این آر او کے معاملے پر ایسا یوٹرن لے لیں جس کی یہ توجیہہ ممکن ہوکہ یہ تو ہر بڑے لیڈر کی نشانی ہے اور خان صاحب ٹھہرے ہر لحاظ سے بڑے لیڈر، بلکہ وہ تو یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ہٹلر اور نپولین یوٹرن لے لیتے تو شکست سے دوچار نہ ہوتے، گویا نہ ہٹلر کو ایوابراﺅن کے ساتھ خودکشی کرنی پڑتی اور نہ نپولین کو سینٹ ہیلنا میں زندگی کے آخری ایام گزارنے پڑتے۔ دونوں کا دشمن البتہ مشترک تھا اور وہ تھا ماسکو کا موسم، دونوں کی افواج روس کے دروازے پر کھڑے ہوکر دشمن کو للکارتی تھیں کہ بزدلو باہر نکلو، لیکن برفیلی ہواﺅں کی سائیں سائیں کے سوا ان فاتحین عالم کی صداﺅں کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا، لیکن فاتحین بھی کسی نہ کسی مقام پر ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور اسی کو تاریخ شکست کا نام دے دیتی ہے۔

جنگی لیڈر ہوں یا سیاسی لیڈر، فتح و شکست ان کے نصیبوں میں لکھی ہوتی ہے جس طرح بڑے سے بڑا فاتح عالم کسی نہ کسی وقت شکست سے دو چار ہوتا ہے اسی طرح سیاسی رہنما بھی ناکامیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف اگر آج کل مشکل صورت حال سے دوچار ہیں اور ان کی جماعت تنظیم نو کے مراحل سے گزر کر سیاست میں دوبارہ ابھرنے کی کوشش کر رہی ہے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ جب تک اس محاذ پر خاموشی تھی لوگ یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بولتے کیوں نہیں، اب بعض اقدامات کی صورت میں ”باڈی لینگویج“ سامنے آرہی ہے تو کہا جا رہا ہے ڈیل ہوگئی، چودھری اعتزاز احسن کو تو پختہ یقین ہے کہ ایسا ہو چکا ہے لیکن شاہد خاقان عباسی نے این آر او دینے اور لینے والوں پر بیک وقت لعنت بھیج کر ایک بڑا چیلنج بھی دیدیا ہے اس لئے جن کے پاس اس سلسلے میں کوئی ثبوت ہوں وہ سامنے آئیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ 

مسلم لیگ (ن) نے غیر متوقع اور اچانک فیصلہ کرکے ان لوگوں کو حیران اور ششدر کر دیا ہے جن کا 1999ءہی میں خیال تھا کہ اب اس جماعت کا کوئی مستقبل نہیں، ویسے تو ظاہر ہے کسی بھی فانی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی حیات مستعار کے تمام تر ماہ وسال ایک ہی طرح کی کیفیت میں گزارتا رہے۔ انسان پر ہر طرح کے موسم آتے ہیں اگر بہار کا موسم ہمیشہ نہیں رہتا تو خزاﺅں کی قسمت میں بھی رخصت ہو جانا لکھا ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی عروج و زوال کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے وکیلوں نے عدالت میں بتایا ہے کہ وہ اتنے بیمار ہیں کہ چل نہیں سکتے۔ حتی کہ بول بھی نہیں سکتے، یہ وہی پرویز مشرف ہیں کہ جب ان کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا تو انہوں نے سینکڑوں نہیں شاید ہزاروں مرتبہ کہا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں نوازشریف اور بینظیر بھٹو کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں، انہیں چاہئے کہ وہ کوئی اور کام کرلیں، لیکن انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کی نگرانی میں ہونے والے الیکشن 2008ءمیں بینظیر بھٹو کی جماعت برسراقتدار آگئی، یہ درست کہ الیکشن سے پہلے بینظیر بھٹو کو تشدد کے ذریعے سیاسی منظر نامے سے ہٹایا جا چکا تھا، لیکن ان کی پارٹی نے اپنی حکومت کے دوران جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے مستعفی ہونے پر مجبور کردیا۔ کیا یہ کوئی معمولی واقعہ تھا، اب انہیں سابق صدر ہوئے دس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، اپنی بیماری سے پہلے انہوں نے بچشم وا دیکھ لیا کہ جس نوازشریف کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ پاکستانی سیاست میں ان کا کوئی مقام نہیں رہا وہ کوئی اور کام کریں۔ وہ 2013ءمیں تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ تیسری بار بھی ان کی وزارت عظمیٰ کی مدت پوری نہیں ہوسکی۔ اس لئے وہ ناکام لیڈر ہیں لیکن یہ تو ہماری تاریخ ہے کہ کوئی بھی وزیراعظم (تاحال) اپنی مدت بھی پوری نہیں کرسکا، ہر ایک کی اپنی اپنی وجوہ تھیں۔ نوازشریف کی الگ تھیں، بینظیر کی بھی اپنی وجوہ تھیں اور ان سے پہلے والوں کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ تھی۔ سہروردی جیسے بڑے لیڈر کو بھی اس سلسلے میں ناکامی کا سامنا ہوا اور بھٹو صاحب تو زندگی بھی ہار گئے۔ اس لئے ہار جیت کامیابی اور ناکامی کا واحد پیمانہ نہیں۔

جہاں تک صحت کا تعلق ہے کوئی انسان ہمیشہ صحتمند بھی نہیںرہ سکتا کسی نہ کسی وقت وہ صحت سے ہاتھ دھوتا ہے، پھر زندگی سے، کوئی فطری قانون سے ماورا نہیں رہ سکتا۔ سیاست میں نئے پھول اگتے ہیں تو پرانے مرجھا جاتے ہیں۔ سینئر سیاستدان اگر اپنا کردارادا کرکے سیاسی منظر سے ہٹ جائیں تو اس میں اچنبھے والی کیا بات ہے، ستّر سال سے زیادہ عمر کا ایک شخص اگر دل کی بیماری کے ہاتھوں متحرک سیاست نہیں کرسکتا تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس بات پر یدھ پڑا ہوا تھا کہ نیب کو مطلوب شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف نہیں بنایا جائے گا لیکن انہیں اس منصب پر قبول کرنا پڑا۔ پھر کئی مہینے تک کہا جاتا رہا کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین شہبازشریف کو کسی صورت نہیں بننے دیا جائے گا، لیکن وہ بن گئے، پھر کہا گیا کہ وہ ”شرافت“ سے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیں، ورنہ انہیں ہٹا دیا جائے گا۔ اب شہبازشریف نے ”شرافت“ سے یہ منصب اپنی پارٹی کے رانا تنویر حسین کے سپرد کردیا۔ پارلیمانی لیڈر کا عہدہ بھی خواجہ آصف کو دے دیا تو اگرچہ یہ اچانک فیصلے حیران کردینے والے ہیں لیکن کیا موجودہ حالات میں یہ بات اہم نہیں کہ جس منصب کے لئے لڑائی جھگڑے تک ہوئے وہ شہباز شریف نے اتنی آسانی سے چھوڑ دیا، اگر ایسی تبدیلیوں کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست ختم ہوگئی تو شاید یہ قبل از وقت ہے، کیونکہ سیئر قیادت کا نئے آنے والوں کے لئے جگہ خالی کرنا عین فطری ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اختلاف ہوتے ہیں، رہنماﺅں کی آرا آپس میں مختلف بھی ہوتی ہیں جس جماعت میں اختلاف رائے کو برداشت نہ کیا جائے وہاں درست فیصلے نہیں ہوسکتے۔ شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے اہم کردار ادا کیا تھا، بعض حلقوں کی خواہش تھی کہ یہ عہدہ بلاول بھٹو کو مل جائے لیکن انہوں نے معذرت کرلی، اس لئے بہتر تھا کہ مسلم لیگ (ن) اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے متحدہ اپوزیشن سے مشورہ کرلیتی اور مشاورت کے اس عمل میں اگر ایک دو دن کی تاخیر بھی ہو جاتی تو کوئی مضائقہ نہ تھا۔ اب بھی پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا جاسکتا ہے۔ اس وقت سیاست میں کوئی خاص سرگرمی نہیں، مولانا فضل الرحمن عمرے کی ادائیگی کے لئے جا چکے وہ واپس آئیں گے تو رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہوگا۔ گرمی کے موسم میں سڑکوں پر کوئی سیاسی تحریک نہیں چل سکتی۔ اس لئے امکان یہ ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کا نقطہ عروج اگست کا مہینہ ہوگا جن لوگوں کے نزدیک مسلم لیگ (ن) کی سیاست ختم ہوگئی وہ بھی دیکھ لیں گے کہ سیاست میں نئے شگوفے کھلیں گے اور نئے چہرے سامنے آئیں گے، پنجاب میں اہم تبدیلیاں جولائی میں متوقع ہےں اور وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کی نوید تو خود وزیراعظم نے سنا دی ہے اس لئے ان تبدیلیوں کو غور سے دیکھتے رہیئے آنے والی سیاست کا نقشہ سامنے آتا رہے گا۔

اہم تبدیلیاں

مزید : تجزیہ