کسی کے باپ کا…………

کسی کے باپ کا…………
کسی کے باپ کا…………

  


پاکستانی سیاست کا کچھ سمجھ میں آ رہا ہے، نہ معیشت کا،عام آدمی تو کیا،بڑے بڑے ماہرین بھی سر پکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں، بے یقینی کے سائے ہر طرف سایہ کیے ہوئے ہیں، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن اس کچھ میں سے کیا خیر برآمد ہو گی، اس کی کوئی خبر نہیں ہے مسلم لیگ(ن) نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا انجر پنجر ہلا ڈالا ہے۔ نواز شریف تو گرفتارِ بَلا ہیں، ان کے ہاتھ میں لگام کیا ہوتی، کوئی سواری ہی نہیں ہے۔

حالات کے تھپیڑے کس وقت کہاں لے جاتے ہیں اس بارے میں اندازے لگائے جا سکتے ہیں جو دوستوں اور دشمنوں کے الگ الگ ہیں۔دوستوں کو اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید ہے، اور دشمن ہر حربہ آزمانے پر اُدھار(اور شاید نقد بھی) کھائے بیٹھے ہیں۔

توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ ان کی پکی ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ سے منظور ہو جائے گی، اور وہ اپنے پرانے ڈاکٹر کے پاس لندن پہنچ کر علاج کرا سکیں گے۔ لیکن اُمید بر نہیں آئی۔ سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے دلچسپ سوال اٹھایا کہ آپ نے کئی ہفتے ٹیسٹ کرانے ہی میں صرف کر دیے، آپ کو یہ مہلت علاج کے لئے دی گئی تھی، تشخیص کے لئے نہیں، گویا تشخیص کا علاج سے کوئی تعلق نہیں یا یہ کہئے کہ علاج تشخیص کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یوں نواز شریف کی امید پوری ہوئی نہ ان کے جاں نثاروں کی، نہ ان کے مخالفین کو ”ڈیل“ کے طعنے دے کر بھڑاس نکالنے کا موقع ملا۔

چھ ہفتے مکمل ہونے کے بعد نواز شریف کے لئے جیل کا دروازہ کھل جائے گا، وہ جانے اور خدا جانے…… یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں، وہاں کسی نئی درخواست کی نئے سرے سے سماعت ہو یا اپیل ہی کی سماعت شروع ہو جائے،بظاہر ابھی ان کو حوالہ ئ زنداں رہنا ہے، اور اپنا علاج پاکستان ہی کے کسی ہسپتال میں کرانا ہے۔احسن اقبال کہہ رہے ہیں کہ مخالفین کلثوم نواز شریف کی طرح نواز شریف کی بیماری کا بھی مذاق اڑا رہے ہیں،ان کو معاملے کی سنگینی کا احساس نہیں۔

یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ دِل کی خرابی کسی بھی وقت قیامت ڈھا سکتی ہے۔ یہ معاملہ اس حد تک نازک ہے کہ چند ہی روز پہلے ہمارے ایک دانشور دوست جاوید اقبال خواجہ جو لندن میں مقیم تھے، انجیو پلاسٹی کے لیے ایک بڑے ہسپتال میں لے جائے گئے۔لیکن آپریشن ٹیبل پر ہی ان کا ”صفحہ ہستی لپیٹ دیا گیا“۔لندن ہی میں قیام پذیر ایک دانشور دوست ظہور نیازی صاحب نے آخری سفر پر ان کی روانگی کی تفصیل کچھ یوں بیان کی ہے:”ڈاکٹروں سے سُنا تھا کہ دِل کے دورے کا بہترین وقت وہ ہے جب ایک شخص آپریشن ٹیبل پر ہو۔

کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر ڈاکٹر اس کا علاج شروع کر سکتے ہیں لیکن جاوید اقبال خواجہ کے بارے میں یہ مقولہ غلط ثابت ہو گیا۔ وہ جنوبی لندن کے معروف سینٹ جارجز ہسپتال کے آپریشن ٹیبل پر تھے۔ تمام ادویات، آلات، نرسز اور ڈاکٹرز موجود تھے۔

انجیو گرافی ہو رہی تھی، اس دوران میں ان کا بدن بری طرح کانپنے لگا۔دِل کا شدید دورہ پڑا۔ بلڈ پریشر بہت نیچے چلا گیا۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ وہ سٹنٹ ڈال کر دِل کی بند رگ کھول دیں گے،لیکن اس کا موقع نہ آ سکا۔ دِل نے کام کرنا چھوڑ دیا، اور روح خالقِ حقیقی کی جانب پرواز کر گئی جس کی طرف سب نے لوٹ کر جانا ہے“۔ اس افسوسناک واقعے سے قطع نظر، ہر شخص کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دِل کا معاملہ ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔

دو ہچکیوں میں ہو گیا بیمارِ غم تمام

دِل دیکھتے رہے، وہ جگر دیکھتے رہے

نواز شریف دِل کے پرانے مریض ہیں، ان کو کئی سٹنٹ پڑ چکے، ایک سے زیادہ مرتبہ ان کا سینہ کھولا جا چکا، اس لیے اُن کے معاملے میں جس قدر احتیاط ممکن ہو وہ کر گذرنی چاہیے۔بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں پولرائزیشن اس قدر پیدا کر دی جاتی ہے کہ بہت سے لوگ اس کا شکار ہو کر اندھے ہو جاتے ہیں۔ایک دوسرے کے سکھ میں اگر شریک نہیں ہوا جا سکتا، تو دُکھوں کو تو بہرحال سانجھا رہنا چاہیے۔نواز شریف کے بارے میں ان کے مخالف جو بھی کہیں، وہ پاکستان کی ایک بڑی جماعت کے سربراہ ہیں۔

قومی اسمبلی میں نمائندگی کے حوالے سے تو ان کی جماعت دوسری بڑی ہے۔ ایک کروڑ سے زائد رائے دہندگان نے عام انتخابات کے دوران انہیں اپنے اعتماد کا مستحق جانا ہے۔ آج بھی ان کے ووٹر ان کے ایک اشارے پر جان نثاری کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں ان کا اپنا بیانیہ ہے۔ ان کے ”جرائم“ کی فہرست جو ان کے پاس ہے، وہ اس سے یکسر مختلف ہے، جو ان کے اندھے مخالف بیان کرتے ہیں، انہیں دستور کی بالادستی کا سمبل قرار دینے میں کوئی باک محسوس نہیں کی جاتی، اور ان کے نام لیوا اس حوالے سے انہیں ممتاز ہی نہیں، ممتاز تر سمجھتے ہیں۔

اس بیانیے کو رد کیا جا سکتا ہے، اس کے خلاف بھی دلائل لائے جاسکتے ہیں اور لائے جا رہے ہیں، لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور قومی زندگی پر اس کے اثرات بھی واضح نظر آتے ہیں، اِس لئے پاکستانی ریاست پر لازم ہے کہ احتیاط کا مظاہرہ کرے، اس کے تمام ادارے بھی اس کے اجتماعی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھیں، وقتی اشتعال یا ردعمل میں آکر فیصلے کئے جائیں نہ ان کی طرف داری کی جائے ؎

حد چاہیئے سزا میں عقوبت کے واسطے

آخر گناہ گار ہوں، کافر نہیں ہوں مَیں

پاکستانی تاریخ جھگڑوں،تنازعوں، الجھنوں، محاذ آرائیوں اور اداروں کے ٹکراؤ سے بھری پڑی ہے۔ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد جو ”بڑا کام“ ہم نے کر دکھایا ہے، وہ یہی ہے۔ پاکستان دُنیا کا شاید واحد ملک ہے، جس میں نظام حکومت پر بحثیں آج بھی چھیڑی جا رہی ہیں۔

دستور کی اہمیت کو آج بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اسے مٹی کا پیالہ سمجھ کرتوڑنے کی آرزوئیں پالی جا رہی ہیں کہ بازار سے چند روپے میں دوسرا خرید لائیں گے۔ بہت سے عالی دماغ آج بھی یہ سمجھتے توہیں کہ دستور، پاکستان کی بنیاد پر رکھا ہوا وہ پتھر ہے جس پر پوری ریاستی عمارت کھڑی ہے۔ اسے اکیلا ہوا میں اڑایا نہیں جا سکتا، اس کے ساتھ بہت کچھ اڑ جائے گا۔ پاکستان جنگ عظیم کے بعد پہلی ریاست ہے جس کو دستوری جھگڑے نے دولخت کیا ہے۔

آج ہمارے نووارد وزیر خزانہ کومعیشت پریشان کئے ہوئے ہے، اور باقاعدہ سرکاری اہتمام میں مہنگائی کی جو نویدیں دی جا رہی ہیں اور یہ جو فرمایا جا رہا ہے کہ پاکستان عشروں سے بیرونی سرمایہ کاری کے فقدان اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے جان نہیں چھڑا پا رہا، تواس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی کی گاڑی کسی ایک پٹڑی پر رواں نہیں رہی۔ پالیسیاں بار بار بدلی ہیں اور قانون کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

پاکستان کی عدالتوں تک نے (ماضی میں) قانون کو موم کی ناک سمجھا اور سرمایہ کاری کے راستے میں مشکلات کھڑی کی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ قانون سازوں کو قانون سازی، انتظامیہ کو نظم کاری کرنے دی جائے۔آتش انتقام پر پانی نہیں ڈال سکتے، تو تیل بھی نہ ڈالیے۔ بقول ڈاکٹر راحت اندوری ؎

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

اور (ایک لفظی تصرف کے ساتھ) یہ بھی سنتے جایئے ؎

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ”پاکستان“ تھوڑی ہے

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : رائے /کالم