دورہ ازبکستان ہاکی ٹیم پاکستان میں قومی کھیل کی واپسی کیلئے امید کی کرن

دورہ ازبکستان ہاکی ٹیم پاکستان میں قومی کھیل کی واپسی کیلئے امید کی کرن

  

ہاکی کا کھیل تنزلی کا شکار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ قومی ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور پاکستان میںغیر ملکی ٹیموں کا کھیلنے کے لئے نہ آنا ہے ۔پاکستان ہاکی فیڈریشن بھرپور کوششوں میںمصروف ہے کہ کسی طرح سے ایک مرتبہ دوبارہ پاکستان میں ہاکی کے کھیل کی رونقیں بحال کی جاسکے اور اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ازبکستان کی ہاکی ٹیم کا دورہ پاکستان ہے جسے ہاکی شائقین بھی بہت اچھی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں جس طرح ہاکی کا کھیل اہمیت کھورہا ہے اب ضرورت بھی اس بات کی ہے کہ پاکستان میں اس کھیل کے زیادہ سے زیادہ ایونٹس کا انعقاد کیاجائے اور غیر ملکی ٹیمیں پاکستان کادور ہ کریں تاکہ پاکستان میں ہاکی کے کھیل کو جو مشکلات درپیش ہیں اس میں کمی ہوسکے بہرحال یہ بہت اچھی بات ہے کہ ازبکستان کی ہاکی ٹیم پاکستان کے دورہ پر ہے اور امید ہے کہ اسی طرح سے اب دیگر غیر ممالک ٹیمیںبھی پاکستان کادورہ کریںگی۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سربراہ بریگیڈئیر ریٹائرڈخالد سجاد کھوکھر کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کی ہر ممکن کوشش ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا کھیل ایک مرتبہ دوبارہ ماضی کی طرح عروج حاصل کرے اور اس کےلئے ہم اپنی بھرپور کوششیں کررہے ہیں غیر ملکی ٹیمیں جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گی اور اسی طرح سے پاکستان کی ہاکی ٹیم بھی مستقبل میںغیر ملکی دوروں پر عمدہ پرفارمنس کامظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان کی ہاکی ٹیم کادورہ پاکستان کے لئے بہت اہمیت کاحامل ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں اس ٹیم کے دورہ سے دیگر ٹیمیں بھی پاکستان کا رخ کریںگی اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کھیلوں کے لئے پر امن ملک ہے اور جس طرح سے ہم نے ا س ٹیم کے انتظامات کئے ہیں اور بھرپور پروٹوکول دیا ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا بہت اچھا تاثر جائے گا اور مستقبل میں اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے ۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل شہبازسینئر کا کہنا ہے کہ ہمارامقصد ہی پاکستان میں قومی کھیل کو عروج پر لے کرجانا ہے اور یہ مشکل کام نہیں ہے ا س کے لئے ہم سب مل کر کام کررہے ہیں اور ازبکستان کی ہاکی ٹیم کادورہ پاکستان بھی اس سلسلہ کی ہی ایک کڑی ہے اور امید ہے کہ اس دورہ کے بعد دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان کادورہ کریں گی انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور امید ہے کہ قومی ٹیم جلد ہی کھویا مقام حاصل کرنے میںکامیاب ہوجائے گی اور اس کےلئے ہم اپنا کردار بہت اچھے طریقہ سے سر انجام دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کو جن مسائل کا سامنا ہے ہم اس کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ہم ان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور ہم ان کو دور کریں گے شہباز سینئر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہاکی کے کھیل کی واپسی ہمارا ٹارگٹ ہے او ر ہم اس میں جلد ہی کامیاب ہوں گے جبکہ ازبکستان کی ہاکی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرکے ہمارے دل جیت لئے ہیں ہم ان کے شکرگزار ہیں یہاں پر ان کو جو محبت ملی ہے امید ہے کہ وہ اس کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکیں گے اور ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

کرسٹیانو رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑی خرید لی

پرتگال سے تعلق رکھنے والے سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے دنیا کی مہنگی ترین کار خرید لی ہے۔ بگاٹی کمپنی کی جانب سے بنائی جانے والی اس گاڑی کی قیمت ساڑھے 9 ملین پاﺅنڈ یا 18 ملین ڈالر ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً ایک ارب 76 کروڑ 8 لاکھ 58 ہزار روپے بنتی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق ولندیزی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ’ بگاٹی لا ووئچر نوئر‘ نامی کار خریدی ہے۔ کار کی صنعت کے آغاز سے اب تک کی یہ سب سے مہنگی ترین گاڑی ہے جسے مارچ 2019 میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا تھا۔ فرانسیسی کار ساز کمپنی بگاٹی نے اپنی 110 ویں سالگرہ پر خصوصی طور پر یہ کار تیار کی تھی۔بگاٹی کمپنی کی جانب سے 1936 سے 1938 کے دوران ’ بگاٹی ٹائپ 57SC اٹلانٹک ‘ نامی 4 گاڑیاں تیار کی گئی تھیں اور یہ کار اسی ماڈل کی جدید شکل ہے۔اس کار میں 8.0 لٹر ٹربوچارجڈ W16 انجن ہے اور یہ 260 میل (418 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ بگاٹی نے یہ ماڈل فروخت ہونے کی تصدیق تو کی ہے لیکن اس کے مالک کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔ ہسپانوی اخبار ’مارکا‘ کے مطابق یہ کار سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے خریدی ہے ، حالانکہ پہلے یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ یہ گاڑی ووکس ویگن گروپ کے سابق چیئرمین فرڈیننڈ پیچ نے خریدی تھی۔میڈیا رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ گاڑی بیچ تو دی گئی ہے لیکن اس کا مالک اسے 2021 تک چلا نہیں پائے گا کیونکہ کمپنی نے ابھی تک گاڑی کی تیاری کو فائنل نہیں کیا ہے۔

ایشین تھرو بال چمپئن شپ ملائیشیاءمیں کھیلی جائے گی

ایشین تھرو بال چمپئن شپ 26 جولائی سے 29 جولائی تک ملائیشیاءمیں کھیلی جائے گی،قومی ٹیم ایشین تھرو بال چمپئن شپ میں شرکت کرے گی۔ پاکستان تھرو بال فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل مقبول آرائیں کے مطابق قومی ٹیم کے انتخاب کےلئے ٹرائلز گذشتہ ہفتے کراچی میں مکمل ہوگئے تھے اور منتخب شدہ کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ آئندہ ماہ مئی کے آخر میں لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایشین تھرو بال چمپئن شپ 26 جولائی سے 29 جولائی تک ملائیشیاءمیں کھیلی جائے گی جس میں ایشیائی ممالک کے کھلاڑی شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 26 جولائی کو ایشین تھروبال سیمینار بھی منعقد ہوگا جس میں تھروبال کے نئے قوانین کے حوالے سے آفیشلز کو آگاہ کیا جائے گا۔

امریکی قونصلیٹ، پی سی بی اور پشاور زلمی فاو¿نڈیشن کے اشتراک سے کرکٹ ورکشاپ کا انعقاد

پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خواتین کرکٹرز نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں امریکی فنڈنگ سے منعقدہ دو روزہ کرکٹ ورکشاپ میں شرکت کی جس کا مقصد کھلاڑیوں میں قیادت کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور صحت مند طرز زندگی کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔امریکی قونصل جنرل کولین کرینولگی نے کرکٹ کیمپ میں کرکٹ بورڈ کے نمائندوں، پشاور زلمی فاو¿نڈیشن کے اراکین اور بین الاقوامی کرکٹرز کیساتھ کیمپ میں شمولیت کی اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طالبات اب زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کیلئے بہتر طور پر تیار ہیں اور اپنے خاندانوں، سماجی اکایوں اور اپنے ملک کی قیادت کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی کئی بچیاں پہلی مرتبہ لاہور آئی ہیں اور یہاں انہوں نے نئے دوست بنائے ہیں، امید ہے کہ یہ دوستیاں قائم رہیں گی۔مذکورہ کیمپ میں شریک ہونے والوں کو پاکستان کے بہترین کرکٹ کوچز نے تربیت کی اور طالبات نے کئی میچ کھیلنے کے علاوہ ٹیم بلڈنگ، لیڈرشپ اور کمیونی کیشن ورکشاپس میں حصہ لیا جبکہ کھلاڑیوں نے ماہرین اور اتھلیٹس سے گفتگو کی اورکھیلوں کے مثبت اثرات بارے آگاہی بھی حاصل کی۔

پاکستان رگبی ٹیم نے ایشین رگبی چیمپئن شپ ڈویژن تھری سی جیت لی۔

ایشین رگبی چیمپئن شپ ڈویژن تھری سی کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ازبکستان کی ٹیم نے پاکستان کو 38-24 سے ہرا دیا مگر دونوں میچوں کے پوائنٹس جمع کرنے کے بعد پاکستان ٹیم کو ڈویژن تھری سی کا فاتح قرار دے دیا گیا۔ ااس طرح پاکستان رگبی ٹیم کے ڈویژن ٹو کھیلنے کے چانسز روشن ہوگئے مگر اس کا فیصلہ ایشیا رگبی ساری ڈویژنز کے رزلٹس کے بعد کرے گی۔ فائنل دیکھنے کیلئے تماشائیوں کی بڑی تعداد پاکستان رگبی اکیڈمی لاہور کینٹ میں موجود تھی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی پاکستان رگبی یونین کے سرپرست لیفٹیننٹ جنرل (ر)اشرف سلیم تھے۔ اس موقع پر پاکستان رگبی یونین کے چیئرمین فوزی خواجہ، صدر عارف سعید، نائب صدر یحیٰ بھٹی، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران سلمان مظفر، ذوالفقار ملہی، پنجاب رگبی ایسوسی ایشن کے عہدیدار، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خالد محمود، جرمنی کے سفیر اور شائقین کی بڑی تعداد گراﺅنڈ میں موجود تھی۔ازبکستان کی ٹیم نے میچ کے آغاز سے ہی پاکستان پر دباﺅ ڈالا پہلے منٹ میں ہی ازبک کھلاڑی سنجور سعدولو نے ٹرائی سکور کرکے برتری حاصل کرلی۔ چوتھے منٹ میں ازبکستان کی طرف سے اکروم چرسنوے نے دوسری ٹرائی سکور کردی جو رسلن متکرونوے نے کنورٹ کرکے اپنی ٹیم کا سکور 12-0 کردیا۔ 21 ویں منٹ میں ازبکستان نے اکروم چرسنوے نے ایک اور ٹرائی کرکے اپنی ٹیم کی برتری مستحکم کردی۔ پاکستان ٹیم نے اپنی پہلی ٹرائی 22 ویں منٹ میں سکور کی جو سعد عارف نے سکور کی جسے کاشف خواجہ نے کنورٹ کیا۔ پہلے ہاف میں ہی ازبکستان کی ٹیم نے 36 ویں 40 ویں منٹ میں دو ٹرائی سکور کرکے اپنی ٹیم کی برتری مستحکم کردی۔ پاکستانی ٹیم نے دوسرے ہاف میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا۔ 16 منٹ میں محمد علی خان نے ٹرائی سکور کی جسے کاشف خواجہ نے کنورٹ کیا۔ 27 ویں منٹ میں ازبک ٹیم نے ایک اور ٹرائی سکور کرلی ۔ پھر 27 ویں منٹ میں پاکستان کی طرف سے فیصل اسلم نے ٹرائی سکور کی جبکہ 42 ویں منٹ میں کاشف خواجہ نے ایک اور ٹرائی سکور کی اس طرح پاکستانی ٹیم 38-24 سے ہی میچ ہار گئی۔ اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) اشرف سلیم نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ پاکستان رگبی یونین کے صدر عارف سعید نے مہمان ازبک ٹیم اور فیڈریشن کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجی اور امید ظاہر کی کہ پاکستان میں اور بھی انٹرنیشنل رگبی کی ٹیمیں آئیں گی۔ کپتان کاشف خواجہ کا کہنا تھا کہ لڑکوں نے محنت کی مگر کافی اہم مواقع مس ہوئے جس کی وجہ سے ازبک ٹیم کو مواقع ملے۔

سب سے مشکل کام سفر اور شیڈول ہے، ماریہ شیرا پووا

سال سے ٹینس کورٹ میں لوہا منوانے والی روسی ٹینس کوئین ماریہ شیراپووا نے کہا ہے کہ میری زندگی میں سب سے مشکل کام سفر اور شیڈول ہے۔ ہر وقت شیڈول بدلتا رہتا ہے۔ ٹینس پلیئر کا کہنا تھا کہ اپنے کیریئر کے دوران ہمیں راستہ تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ مجھے اپنی فیملی سے پیار ہے۔ جب سے میں پیدا ہوئی ہوں میں اپنی فیملی کیساتھ زیادہ وابستہ ہوں جو میری زندگی کا سب سے حسین لمحہ ہے۔ دوستی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے بہت سارے دوست ہیں جب سے کیریئر شروع ہوا ہے دوستوں کی فہرست لمبی بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دوستوں کا تعلق ٹینس سے ہے، کچھ دوست دیگر کھیلوں سے وابستہ ہیں جبکہ متعدد کاروباری افراد بھی میرے دوستوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ میری پرورش روسی کلچر میں ہوئی جہاں اس طرح کا کلچر ہمارے بہت قریب ہوتا ہے جس سے کافی اچھی یادیں وابستہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران میں نے امریکی کلچر کو اپنایا ہے جہاں میں نے سیکھا ہے کہ یہاں کہ لوگ دوستی میں کافی اچھے ہیں لیکن جب فراغت کے لمحات میں اپنے ملک واپس جاتی ہوں تو سب اچھی چیزیں کھانے کو ترجیح دیتی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس میں موجودگی کے دوران میں بہت زیادہ مذاح پسند کرتی ہوں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -