نواز شریف کیلئے ڈیل کا راستہ صرف پلی بارگین،بلاول کی تحریک کو ویلکم کرینگے:فردوس عاشق

نواز شریف کیلئے ڈیل کا راستہ صرف پلی بارگین،بلاول کی تحریک کو ویلکم ...

اسلام آباد (صباح نیوز)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے وزیر اعظم عمران خان پرفارم اور ڈلیور کرنا چاہتے ہیں،جب آپ مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کریں گے، آپ چھپتے پھریں گے تو یہ حل نہیں، ہمیں فرنٹ فٹ پر آکر کھیلنا ہے اور عمران خان بیک فٹ کا کھلاڑی نہیں وہ ہمیشہ فرنٹ فٹ پر آکر شارٹ کھیلتا ہے۔ عمران خان 22سال جد وجہد کے بعد عوام کی پرچی سے وزیر اعظم بنے ہیں اور ہمیں مقابلہ کرنا آتا ہے لیکن ہم پارلیمنٹ کوسیاسی اکھاڑا نہیں بنانا چاہتے۔ عمران خان 22 کروڑ عوام کا چہرہ ہیں اور وزیر اعظم پاکستان ہیں، پوری دنیا میں ان کی ایک ساکھ ہے، لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور پوری دنیا میں انہوں نے اپنا مقام بنایا، پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہو کر سیاسی یتیموں کا ٹولہ ان پر انگلیاں اٹھاتا ہے تو اس سے وزیر اعظم کے اپنے و جو د اور شخصیت کا ایشو نہیں، اس عہدے کی تضحیک ہے، وہ جو وزیر اعظم پاکستان کی ساکھ ہے اور فیس ویلیو ہے وہ بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوتی ہے۔پاکستان مخالف قوتیں خصوصی طور پر بھارت، اگر ہماری پارلیمنٹ میں کوئی بات ہوتی ہے تو فوری طور پر بھارت اس کو منفی انداز میں پیش کرتا ہے، اگر اپنی پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس طرح کاغیر ذمہ دارانہ رویہ رکھتی ہے تو اس سے پاکستان کا اپنا مقدمہ بین الاقوامی سطح پر کمزو ر ہوتا ہے۔ اب وزیر اعظم 100فیصد پارلیمنٹ میں آئیں گے۔ گزشتہ روزنجی ٹی وی سے انٹرویو میں انکا کہنا تھا پارلیمنٹ کا کام قانون سا ز ی ہے اور جمہوریت میں پارلیمنٹ ایسے قانون بناتی ہے جو عوام کو ریلیف دیں اور ا ن کے فائدے کیلئے بنیں اور ان قوانین کے ذ ریعہ لو گو ں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، ہمارا بطور حکومت یہ کام ہے کہ ہم اپنے بل پارلیمنٹ میں پیش کریں گے، ہم اپوزیشن کیساتھ مشاورت کریں گے، ہم ا ن کو آن بورڈ لیں گے، ہم ان سے درخواست کریں گے کہ عوامی مفاد کی قانون سازی کیلئے ووٹ دیں۔ کبھی بھی حکومت تصادم نہیں چاہتی۔ جب اپوزیشن وزیر اعظم کے حوالہ سے نازیبا الفاظ استعمال کرے گی، جملے کسے گی اور وزیر اعظم کی کرسی کی عزت کا خیال نہیں کرے گی تو پھر وہاں تصادم پیدا ہوتا ہے۔عمران خان کو وزیر اعظم بنانے میں اور اس گلے سڑے نظام سے لوگوں کا تعلق توڑ کر ایک امید دلانے میں میڈیا کا ایک اہم کردار ہے، ہمارا حکومت میں آنے کے بعد میڈیا کیساتھ جو جارحانہ رویہ رہا اس سے وزیر اعظم کا میڈیا کیساتھ انگیجمنٹ، پارٹنرشپ، اونرشپ کا جو نظریہ تھا، اس کو جب ہم تصادم میں لے گئے تو جو ہمارے دوست تھے جو ہماری جنگ لڑ تے رہے، ہمارے بیانیہ کو عوام تک پہنچاتے رہے وہ دوست بھی ہم نے ناراض کر دیئے اور ان سے ہمارا رابطہ ختم ہو گیا،اب ہمارا یہی ایجنڈا ہے کہ ہم نے میڈیا کیساتھ تعلق بنانا ہے۔ اگر خوا تین کے براہ راست انتخاب لڑنے کیلئے کوئی حلقے مخصوص کرنے ہیں تو اس کیلئے دو تہائی اکثریت سے قانون سازی درکار ہے، مجھے نہیں لگتا شہباز شریف بیرون ملک سے وطن واپس آئیں گے۔ نواز شریف کیلئے ڈیل کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ نیب قوانین کے مطابق پلی بارگین کر سکتے ہیں، قوم کا پیسہ واپس اور اعتراف جرم کریں اور جب اعتراف جرم کر لیا جاتا ہے تو پھر وہ کسی بھی عوامی عہدے کیلئے نااہل ہو جاتے ہیں، اصل ایشو یہ ہے۔ ایک عدالتی پروسیجر ہے یا آپ نے سزا بھگتنی ہے یا پیسہ دینا ہے اور تو درمیانی راستہ ہی نہیں، محفوظ راستہ ہی نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری سڑکوں پر آئیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ بلاول بھٹو احتجاج کا آغاز لاڑکانہ سے کریں جہاں سینکڑوں لوگ ایڈز کا شکار ہیں اور ان کے کا ن پر جوں تک نہیں رینگی۔قیادت کی ترجیحات ہوتی ہیں کہ وہ اپنے ملک اور عوام کیلئے سوچتا ہے،اپنی ذات اور کاروبار کیلئے نہیں۔ بلاول بھٹو کو حکومت کیخلاف احتجاج کرنے کی بجائے اپنے خاندان اور سندھ کے اندر قیادت کیخلاف احتجاج کرنا چاہئے۔

فردوس عاشق

مزید : صفحہ اول