گورنر سٹیٹ بینک کو دراصل کیوں ہٹایا گیا ؟ انتہائی شرمناک وجہ سامنے آ گئی

گورنر سٹیٹ بینک کو دراصل کیوں ہٹایا گیا ؟ انتہائی شرمناک وجہ سامنے آ گئی
گورنر سٹیٹ بینک کو دراصل کیوں ہٹایا گیا ؟ انتہائی شرمناک وجہ سامنے آ گئی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت نے گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ سے استعفیٰ مانگ لیا ہے اور اس حوالے سے ہر طرف ہنگامہ سا برپا ہے تاہم کسے سٹیٹ بینک لگانا ہے اور کسی نہیں یہ وزیراعظم اور ان کی حکومت کا اختیار ہے تاہم انہیں ہٹانے کی انتہائی حیران کن وجہ بھی سامنے آ گئی ہے ۔

نجی اخبار ’جنگ نیوز ‘ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے طارق باجوہ نہ صرف آئی ایم ایف کیلئے انتہائی سخت ثابت ہوئے بلکہ وہ سنگین مالی بے قاعدگیوں کے چند کیسز میں موزوں دستاویزات فراہم کرنے کیلئے بھی دباﺅ میں رہے جس میں تحریک انصاف کے نیب میں زیر حراست رہنما سے متعلق مالی معاملات بھی شامل تھے ۔نجی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک سے کہا گیاتھاکہ وہ کچھ ایسا لکھ کر دیں جس سے حکومت کے منظور نظر مالیاتی نوعیت کے مجرمانہ مقدمات سے بچ جائیں تاہم اس بارے میں علم نہیں ہو سکا کہ وزیراعظم ان معاملات سے آگاہ تھے یا نہیں ۔تاہم سٹیٹ بینک ایکٹ کی خلاف رزی کرتے ہوئے طارق باجوہ کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

جب ان سے کہا گیا تو انہوںنے فوراً استعفیٰ دیدیا تاکہ حکومت اور گورنر اسٹیٹ بینک کے درمیان کسی تصادم سے بچا جا سکے۔ ایسے وقت جب ملک کی اقتصادیات مشکل وقت سے گزر رہی ہے ایک ذریعہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ طارق باجوہ آئی ایم ایف کے مخصوص مطالبات کی راہ میں مزاحم تھے۔ ان کے خیا ل میں آئی ایم ایف کے یہ مطالبات قومی مفاد میں نہیں ہیں تاہم رابطہ کرنے پر کابینہ کے ایک وزیر نے کہاکہ حکومت ان تبدیلیوں پر جلد ایک پالیسی بیان جاری کرے گی۔ اپنا نام ظاہر کئے بغیر ان کا کہنا تھا کہ انہیں شک ہے عمران خان کی حکومت میں کوئی غیرقانونی مراعات کے حصول کی کوشش کر سکتا ہو۔

ذرائع نے کہا کہ طارق باجوہ نے روپے کی قدر مزید گھٹانے اور بھاری ٹیکس عائد کرنے کے آئی ایم ایف مطالبے کی مزاحمت کر رہے تھے۔ خدشہ ہے کہ اب ورلڈ بینک کے ایک سابق ملازم کو مشیر خزانہ اور آئی ایم ایف کے موجودہ ملازم کو سینٹرل بینک ریگولیٹر بنانے کے بعد موجودہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے لئے تیار ہے۔

مزید :

قومی -