یسین ملک تجھے سلام

یسین ملک تجھے سلام
یسین ملک تجھے سلام

  

تقریباََ دو ہفتے پہلے کی بات ہے کہ کشمیری رہنما یسین ملک،ایک دھماکے میں شہید ہونے والے زاہد رسول بٹ کے گھر سے واپس آرہے تھے کہ بھارتی فوج نے ان کے ٹرک کا تعاقب کرنا شروع کر دیا،اس کے ردّ عمل میں یسین ملک کے ساتھیوں نے نعرے بلند کئے۔اور اس بات کے نتیجے میں یسین ملک کو حراست میں لے لیا گیا۔

اس کے چند دن بعد ان کی اہلیہ مشعال ملک نے ایک پریس کانفرنس بلائی،اس میں انھوں نے کہا کہ ان کے شوہر کی زندگی کو خطرہ ہے،انھوں نے کہا کہ بھارت نے اس حد تک ظلم کی داستان رقم کی ہیکہ ان کی معصوم بیٹی کو بندوق دکھا کا پوچھا جاتا ہیکہ پاکستان کو پسند کرتی ہو یا انڈیا کو۔انھوں نے پاکستان سے پیل کی تھی کہ بطور پاکستانی شہری حکومت ان کا کیس بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے کے جائے۔

تقریب اََ دو دن پہلے بھی انھوں نے ایک دوڈیو پیغام میں کشمیریوں سے کہا کہ وہ یسین ملک کیلئے سوشل میڈیا پر مہم چلائیں،انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے شوہر کی زندگی کو خطرہ ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں کہ مشال ملک اور یاسین ملک کی داستان نے کشمیریوں کو رولا دیا، تحریک آزادی کشمیر کی دل سوز اور پر آشوب داستان تو تین صدیوں سے بیان کی جا رہی ہے۔

کشمیر کی وادی جو کبھی امن کا گہوارا تھی،جو کبھی علم و فنون کا مرکز تھی،دو تین دھائیوں سے اس وادی میں خون ہے،درد ہے،بے بسی ہے،ظلم و بربریت ہے۔

مسئلہ کشمیر کے تین اہم فریق پاکستان،بھارت اور کشمیری ہیں۔پاکستان مذہب کی ایماء اور جغرافیہ کی بنیاد پر کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے۔بھارت اس اکھنڈ بھارت کے نام سے یاد کرتا ہے۔گو کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے رہنماؤں نے بہت سے اقدامات بھی کئے۔پاکستان کی عوام کشمیریوں سے بے پناہ محبت کرتی ہے مگر مسئلہ کشمیر پر جب بھی مذاکرات ہوئے کشمیری قیادت کو اس ٹیبل پر نہیں دعوت دی گئی۔

اس وقت تک اسّی ہزار سے بھی زیادہ کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔اتنی قربانیاں دینے کے باوجود بھی کشمیر آزادی سے محروم ہے۔کیونکہ یاسین ملک جیسے چند ایک حکمران کشمیریوں کو ملے۔یاسین ملک ان دو چار قائدین میں شامل ہیں کہ جنہوں نے مقبوضہ وادی میں آزادی کی تحریک چلائی۔ یاسین ملک ہی وہ حکمران ہیں کہ جن کو مقبوضہ وادی مین بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے،کہ جن کے ایک اشارے پر ہزاروں کشمیری ان کے ساتھ چل پڑھتے ہیں۔یاسین ملک قوم پرستی کے جزبے کو خوب سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پرا نھیں آئی ایس کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔حالانکہ ان کے نظریات سے پوری عوام آگا ہ ہے۔

یہ وہ شخص ہے کہ جن پر ہزار بار مقدمات چلائے گئے کہ جن کی ساری زندگی ہی آزادی کے نام وقف ہے۔جب بھی ان کو قید کیا جاتا ہے،جب بھی ان کو نظر بند کیا جاتا ہے،پوری کشمیری قوم کے ہاتھ ملک کی سلامتی کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔قوم پرستی کے لحاظ سے یاسین ملک سب سے مقبول کشمیری لیڈر ہیں۔

جس وادی کوجنت نظیر کہا جاتا ہے،کہ جو خوبصورتی میں سوئٹزرلینڈ سے مماثلت رکھتا ہے،جس کے خوبصورت مناظر پوری دنیا کو مسحور کر دیتے ہیں،اب وہاں خون ہے۔اب تو اکژ وادی میں کوفیو لگا رہتا ہے،وادی کے بازار سنسان رہتے ہیں۔

انڈین ایجنسیاں آزادی کے متوالوں کے دہشت گرد قرار دیکر انھیں غائب کر دیتی ہیں ان کے لیڈروں کو حراست میں رکھا جاتا ہے۔ان کو گولیوں اور آنسو گیس سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔

اگر دنیا کی تاریخ سے سب سے باغی قوم کا نام لیا جائے تو اس میں سر فہرست بھارت کا ہی نام آتا ہے،تحریک آزادی ہندوستان کے باغیوں کے نام سے بھی انگریز کانپتے ہیں۔بھارتی عوام ان فلموں کو خوب پسند کرتی ہے کہ جو جنگ کے موضوع پر بنائی جاتی ہیں۔رنجیت سنگھ اور جھانسی کی رانی پر بنائی جانے والی فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہیں۔بھارت کے مصنفین آج بھی ان انیس جوانوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں کہ جنہوں نے دس ہزار انگریزوں سے ٹکر کی تھی۔

تحریک آزادی ہندوستان کے سپاہیوں کو ہیرو اور پر امن کشمیر کے پر امن شہریوں کو دہشت گرد قرار دینا بھارت کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بھارت دنیا میں اٹھنے والی علیحدگی کی تحریکوں کو بڑا حامی رہا ہے،مگر کشمیر میں اٹھنے والی تحریکوں کو طاقت کے بل بوتے پرکچل دیتا ہے۔دلائی لامہ کئی بار چین سے بھاگ کر بھارت آیا،مکتی باہنی نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بھارت کبھی آرٹیکل ۵۳ اور کبھی آرٹیکل ۰۷۳ کو ختم کرنے کی بات کرتا ہے۔کشمیر کو تقریر،تحریر اور تبلیغ کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔بھارت یاسین ملک کو اس لئے حراست میں لے لیتا ہیکہ اس میں صلاحیت ہے کہ جتنی کسی حکمران میں ہونی چاہیے،کیونکہ بھارت کو نظر آتا ہیکہ یاسین ملک ایک نڈر اور بہادر لیڈر ہے۔

بھارت چاہے جو ظلم کرئے،یاسین ملک نہ تو بکا ہے،نہ بکاتھا اور نہ کبھی بکے گا۔وہ نہ تو آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے نہ ہی را کا۔وہ تو ایجنٹ ہے کشمیر کی عوام کا۔

کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہونا چاہیے،کیونکہ جنگ ہوئی تو ہر خس و خاشاک کو بہا کر لے جائیگی،کشمیر کی عوام جنگ نہیں چاہتی،اگر کشمیر کی لیڈر شپ کو مذاکرات کی ٹیبل پر لایا گیا تو پاکستان،بھارت اور کشمیر کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔محض مذاکرات سے پاکستان اور بھارت دفاعی بجٹ میں کمی کر کے وہ پیسہ اپنی عوام پر خرچ کر سکتے ہیں۔اس کیلئے ضروری ہیکہ کشمیری ایسی لیڈرشپ کو چنیں کہ جو کشمیریوں کی صحیح معنوں،میں ترجمانی کرئے۔ذہین،ویژنری اور اہل قیادت ہی کشمیر کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ