اونٹوں کی دوڑ میں اب بچوں کی جگہ کس کو استعمال کیا جائے گا؟

اونٹوں کی دوڑ میں اب بچوں کی جگہ کس کو استعمال کیا جائے گا؟
اونٹوں کی دوڑ میں اب بچوں کی جگہ کس کو استعمال کیا جائے گا؟

  

دبئی (ویب ڈیسک) عرب ممالک میں اب اونٹوں کی دوڑ میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ اونٹوں کی دوڑ کیلئے اب بچوں کی جگہ نئی اور جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے گا۔ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح اونٹ کی مشہور اور قدیم دوڑ میں بھی جدت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق اونٹوں کی دوڑ میں اب بچوں کے بجائے روبوٹس کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اونٹوں کے پیٹ پر روبوٹس کو ایسے ہی استعمال کیا جائے گا، جیسے بچوں کو کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں میں کہا گیا ہے کہ عربوں نے ریس کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے یہ قدم اٹھایا۔اب اس دوڑ میں انسانوں کی جگہ روبوٹس اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ کر اونٹ سوار کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ریس کے آغاز کے وقت اونٹوں کی پیٹھ پر ان روبوٹس کو مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے، جنھیں اونٹ کا مالک ریس میں دوڑتے اونٹوں سے کچھ فاصلے پر چلتی گاڑی سے ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کرتا ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی این جی اوز کی جانب سے بھی کئی سالوں سے اونٹوں کی دوڑ میں بچوں کے استعمال اور ان کی ہلاکت پر شدید غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عرب ممالک میں اونٹوں پر نو عمر بچوں کو سوار کر کے اس ریس کا حصہ بنایا جاتاتھا لیکن متحدہ عرب امارات میں 16سال سے کم عمر بچوں کی اونٹ دوڑ میں شمولیت پر پابندی کے بعد اب یہ روبوٹس با کمال طریقے سے اونٹ سوار کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ایک روایت کے مطابق اونٹوں کی دوڑ میں بچوں کا استعمال اس لئے کیا جاتا ہے کہ جب اونٹ دوڑتا ہے تو بچے ڈر سے چیختے اور چلانے لگتے ہیں اور بچوں کے رونے اور چیخ کی آواز پر اونٹ مزید تیز دوڑتا ہے۔ اس لیے عرب ممالک میں اونٹوں کی دوڑ کیلئے ایک لمبے عرصے تک کم سن بچوں کا استعمال کیا جاتا تھا، جنہیں ترقی پذیر غریب ممالک یا ضرورت مندوں سے کم رقم کے عوض خرید کر یہاں لا کر بیچا جاتا تھا۔

مزید : عرب دنیا /سائنس اور ٹیکنالوجی