مغل بادشاہ شاہ جہاں کو جب ان کے بیٹے عالمگیر نےمعزول کر کے شاہی قید خانے میں رکھا تو انہوں نے جیل میں کونسے مشاغل کا انتخاب کیا؟

مغل بادشاہ شاہ جہاں کو جب ان کے بیٹے عالمگیر نےمعزول کر کے شاہی قید خانے میں ...
مغل بادشاہ شاہ جہاں کو جب ان کے بیٹے عالمگیر نےمعزول کر کے شاہی قید خانے میں رکھا تو انہوں نے جیل میں کونسے مشاغل کا انتخاب کیا؟

  

اسلا م آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق حکمران ان دنوں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور مختلف مقدمات زیرسماعت ہیں جبکہ سابق وزیراعظم نوازشریف دو دن بعد جیل میں دوبارہ جارہے ہیں ، ایسے میں کالم نویس خلیل احمد نینی تال والا مغل بادشاہ شاہ جہاں کی بھی ایک داستان سامنے لے آئے۔

روزنامہ جنگ میں لکھا کہ ’’تو داروغہ زندان نے معزول بادشاہ سے پوچھا کہ جیل میں آپ کیا کھانا پسند کریں گے اور آپ کے کیا مشاغل ہوں گے؟ شاہ جہاں نے کہا کہ مجھے کھانے میں چنے اور مشغلے کیلئے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہوں، داروغہ کی سمجھ میں نہیں آیا اس نے آکر اورنگزیب عالمگیر کو بتایا تو عالمگیر نے کہا کہ جیل میں بھی بادشاہی کی خو نہیں گئی۔ یعنی اناجوں کا بادشاہ چنا ہوتا ہے جو 100طریقہ سے پکایا اور کھایا جا سکتا ہے اور پڑھانے سے مراد استاد کی حاکمیت ہے کیونکہ استاد ہمیشہ حکم دیتا ہے جو بادشاہوں کا وتیرہ ہے۔

میاں نواز شریف جب مشرف دور میں جیل گئے تھے تو انہوں نے مسلم لیگ کی صدارت چھوڑنے کے بجائے اپنی بادشاہت قائم رکھی اور طویل سزا سننے کے بعد بھی کسی کو قائم مقام صدر نہیں بنایا جبکہ پارٹی میں درجنوں نائب صدر بن چکے تھے اور ظفر الحق جو سینئر نائب صدر تھے، بار بار بیان دیتے رہے کہ وہ اس عہدے کے صحیح حقدار ہیں اور سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے کہ صدر حاضر نہ ہو تو نائب صدر ہی صدارت کرتا ہے۔ راجہ ظفر الحق نے تو پارٹی کو متحد رکھ کر اپنی اہلیت ثابت بھی کر دی تھی۔ وہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں غیر متنازع شخصیت بن کر ابھرےتھے مگر نواز شریف صاحب نے جیل سے خط بھیج کر پار ٹی لائن بنائی تو اس میں ان چہیتوں کا ذکر اور خراجِ تحسین پیش کیا تھا، جن کی غلط اور خوشامدانہ پالیسیوں اور چاپلوسیوں کی وجہ سے ان کو یہ دن دیکھنا پڑا تھا، مگر ظفر الحق کے لئے ایک جملہ بھی لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ بات سب سے زیادہ جن لیڈروں نے محسوس کی ان میں چوہدری شجاعت، میاں اظہر، شیخ رشید، عابدہ حسین، فخر امام و دیگر قائدین شامل تھے، اسی وجہ سے راجہ ظفر الحق نے میٹنگ شروع کرتے ہی استعفیٰ دیدیا تھا، جس کو متفقہ طور پر نامنظور کرکے ان سے درخواست کی گئی کہ وہی اجلاس کی صدارت کریں۔ مسلم لیگ کی صدارت کیلئے تو ایک درجن سے بھی زیادہ امیدوار آپ کو مل جائیں گے۔ یہاں میں شہباز شریف صاحب کے اس مشورہ کا نہ صرف حامی ہوں بلکہ داد بھی دیتا ہوں کہ انہوں نے فوج سے محاذ آرائی اور کشیدگی کو کم کرنے کیلئے نواز شریف صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ پارٹی الیکشن کروا کر پانچ دس سال کیلئے شریف فیملی کو صدارت سے الگ کر کے نئے لوگوں کو لائیں۔

میاں صاحب نے اپنے دونوں ادوار میں کارکنوں کو کچھ نہیں دیا اور جب ان پر مصیبت آتی ہے تو کارکن یاد آتے ہیں، اب جبکہ میاں صاحب دوبارہ پھنس گئے تو انہوں نے صدارت شہباز شریف کے حوالے کر دی مگر اندورنی طور پر وہ تمام اختیارات مریم نواز کو دینا چاہتے ہیں،  سیاست میں ہمیشہ فتح کا خواب نہیں دیکھا جاتا، شطرنج کی طرح بازی ہاری اور ہاری ہوئی جیتی بھی جاتی ہے، اب میاں شہباز شریف نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے جو شریف فیملی کو 2عہدوں سے دستبردار کروا دیا ہے‘‘۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -