دہشتگردانہ حملوں کے بعد سری لنکا نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے خلاف کارروائی کردی

دہشتگردانہ حملوں کے بعد سری لنکا نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے خلاف کارروائی ...
دہشتگردانہ حملوں کے بعد سری لنکا نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے خلاف کارروائی کردی

  


کولمبو (ڈیلی پاکستان آن لائن)سری لنکا نے ایسٹر کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں کے بعد کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے 2 سو مسلمان مبلغین سمیت 6 سو غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کردیا۔واضح رہے کہ سری لنکن آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ایسٹر کے موقع پر دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں نے بھارت میں تربیت حاصل کی تھی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکا کے وزیر داخلہ وجیرہ ابے وردینا نے کہا کہ مذہبی رہنما قانونی طور پر آئے تھے لیکن حملوں کے بعد سیکیورٹی کریک ڈاؤن سے قبل یہ تمام افراد ویزوں کی مدت سے زیادہ عرصے تک قیام کرتے ہوئے پائے گئے، جس کی وجہ سے ان پر جرمانہ عائد کیا گیا اور ملک بدر کردیا گیا۔ابے وردینا نے کہا کہ  ملک کی موجوہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ویزا سسٹم میں نظرثانی کی ہے اور مذہبی رہنماؤ ں کے لیے ویزا کی پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ  جن لوگوں کو ملک بدر کیا گیا ان میں 2سو اسلامی مبلغ شامل تھے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 21 اپریل کو سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں  349 افراد ہلاک اور پانچ پاکستانی خواتین سمیت 500 سے زائد زخمی ہو گئے تھے، 8 خودکش دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی، ان حملوں میں مقامی مذہبی رہنما ملوث تھا جس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ پڑوسی ملک بھارت گیا اور وہاں جنگجوں سے رابطے قائم کیے۔جبکہ گذشتہ روز ہی سری لنکن آرمی چیف نے کہا  ہے کہ ایسٹر کے موقع پر دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں نے بھارت میں تربیت حاصل کی تھی،خود کش حملہ آوروں نے کشمیر، بنگلور اور کیرالہ کی ریاستوں کا سفر کیا، ہمارے پاس اب تک یہی معلومات موجود ہیں۔

دوسری طرف سری لنکن وزیر داخلہ نے ملک بدر کیے جانے والے افراد کی شہریت سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں میں بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور مالدیپ کے شہری شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ  یہاں مذہبی انسٹی ٹیوٹ ہیں جہاں دہائیوں سے غیر ملکی مبلغ آرہے ہیں،ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن یہاں کچھ ایسے ہیں جو یہاں تیزی سے پھیل گئے، ہم ان پر زیادہ توجہ دیں گے۔سری لنکن وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ویزا پالیسی سے متعلق خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ غیر ملکی مذہبی 21 اپریل کو ہونے والے خود کش بم دھماکوں کو دہر اسکتے ہیں جس میں 3 گرجا گھروں اور ہوٹلز کو نشانہ بنایا گیا تھا،ان حملوں کے بعد سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ ہے اور مشتبہ افراد کو ڈھونڈنے اور ان کی گرفتاری کے لیے پولیس اور فوج کو اختیارات دیے گئے ہیں۔اس حوالے سے ملک بھر میں دھماکا خیز مواد اور انتہا پسندوں کو ڈھونڈنے کے لیے گھر گھر تلاشی جاری ہے۔

مزید : بین الاقوامی