قانون کی من مانی تشریحات اور ٹڈی دل کے خطرات

قانون کی من مانی تشریحات اور ٹڈی دل کے خطرات

  

اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے ایف اے او نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اور ایران سمیت خطے کے کئی ملکوں میں ٹڈی دل کے حملوں سے غذائی بحران آ سکتا ہے ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں ساٹھ فیصد، سندھ میں 25 فیصد اور پنجاب میں 15 فیصد ٹڈی دل کی افزائش گاہیں ہیں، اگر ٹڈی دل کی پیدائش کو محدود کر کے روکا نہ گیا تو پورا ملک اس کے حملے کے خطرات کی زد میں ہوگا۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ایران، پاکستان کے صوبہ بلوچستان، عمان اور مشرقی افریقہ کے سرحدی علاقوں سے ٹڈیوں کے ہجوم پاکستان کا رخ کریں گے۔ وفاقی وزارتِ غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کے ایک اعلامیئے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹڈی دل کے حملے سے نپٹنے کے لئے سرگرم ہے، یہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ دوسرے صوبوں پر بھی ٹڈی دل نے حملہ کیا، ممکنہ خطرے کے پیش نظر وزیر اعظم کی جانب سے ٹڈی دل پر ایک قومی ایمرجنسی شروع کر دی گئی ہے اور صوبوں کے اشتراک سے ایک نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ سندھ میں ایک لاکھ لیٹر سے زیادہ یو ایل وی کیڑے مار دوا ذخیرہ کی گئی ہے اور ضرورت کے مطابق مزید مقدار بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ بارہ ای سی سپرے بھی تعینات کر دیئے گئے ہیں، اعلامیئے میں سندھ کے وزیر زراعت کا بیان مسترد کر دیا گیا ہے۔

ایک جانب کورونا کی وبا سے ہماری معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، مختلف شعبوں میں ایک کروڑ اسی لاکھ افراد کے بے روز گار ہونے کا خدشہ ہے۔ دو کروڑ سے 7 کروڑ تک لوگ خطِ غربت سے نیچے جا سکتے ہیں، لاک ڈاؤن سے 190 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، 10 لاکھ ادارے بند ہونے کا خدشہ ہے، وزیر منصوبہ بندی کے مطابق ہر چوتھے پاکستانی کو خوراک کی کمی ہوئی معاشی بندشیں کورونا سے زیادہ مہلک ہیں، ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ کورونا مزید نہ پھیلا اور جلد ختم ہو بھی گیا تو معاشی اثرات مدتوں محسوس کئے جائیں گے، پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی معیشت ہے اگر ٹڈی دل کے حملے سے فصلیں بھی تباہ ہو گئیں تو خوراک کی قلت کے مسائل بھی پیدا ہو جائیں گے اس لئے سندھ کے وزیر زراعت نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ صنعت اور کاروبار کے ساتھ ساتھ زراعت بھی متاثر ہو جائے۔

رواں سیزن کی گندم کی فصل اگرچہ اچھی ہوئی ہے تاہم سرکاری خریداری کا عمل سست روی کا شکار ہے نجی شعبے کے خریداروں کو مشکل حالات کا سامنا ہے تو بیج کے لئے گندم خریدنے والے بھی پریشان ہیں۔ سیڈ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بیج کمپنیوں کو بیسک اور تصدیق شدہ بیج گندم خریدنے کی اجازت نہیں ہے اور پنجاب کا محکمہ خوراک زمینداروں سے زبردستی وہ گندم بھی خرید رہا ہے جو بیج کے لئے کاشت کی جاتی ہے، بیج کے لئے گندم کے الگ پلاٹ مختص کئے جاتے ہیں اور ان کی خصوصی نگہداشت کی جاتی ہے۔ یہی تصدیق شدہ بیج اگلی فصل کی کاشت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس کی نہ صرف پیداوار زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس بیج سے اگائی گئی فصل حشرات الارض کے حملوں سے بھی بڑی حد تک محفوظ ہوتی ہے، یہ جو پاکستان کئی برسوں سے گندم کی پیداوار میں خود کفیل چلا آ رہا ہے یہ اسی بیج کی معجز نمایاں ہیں ورنہ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہمیں گندم کے بحران سے سابقہ پیش آ گیا تھا اور امریکہ سے پی ایل 480 کے تحت گندم بطور امداد ملتی تھی اور بندرگاہ سے مارکیٹ تک یہ گندم ڈھونے والے اونٹوں کے گلے میں ”تھینک یو امریکہ“ کی تختیاں لٹکائی جاتی تھیں، ان دنوں پاکستان سے بڑی مقدار میں گندم بھارت بھی سمگل ہو جاتی تھی چند برسوں کے بعد زیادہ پیداوار دینے والے بیج متعارف ہوئے تو گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ہو گیا، بھارت سمگل ہو جانے والی گندم بھی یوں بچ گئی کہ بھارتی پنجاب نے اتنی زیادہ گندم پیدا کرنا شروع کر دی کہ سمگلنگ کا کاروبار ہی مندے کا شکار ہو گیا۔ ایسے بہت سے اقدامات نے مل کر پاکستان کو اسی کے عشرے میں اس قابل بنایا کہ وہ گندم برآمد بھی کر سکے پچھلے کئی سال سے تو گندم اتنی وافر تھی کہ سنبھالے نہیں سنبھلتی تھی اور بے احتیاطی سے ذخیرہ کی گئی گندم بڑی مقدار میں ضائع ہو جاتی تھی۔

گندم ایک ایسی فصل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جس کی خرید و فروخت میں کمائی کے بہت سے راستے نکال لئے گئے ہیں، کسانوں اور کاشت کاروں کو تو ان کی محنت کا پورا صِلہ بھی نہیں ملتا لیکن بالواسطہ کمائی کرنے والوں کی بن آتی ہے بار دانہ بھی دیہاڑی لگانے کا ایک ذریعہ ہے جس میں محکمہ خوراک کے اہل کار بھی ملوث ہوتے ہیں۔ وہ غیر مستحق لوگوں کو بار دانہ دے دیتے ہیں اور مستحقین منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں، غرض مفادات کی ایک پوری زنجیر ہے جس سے بہت سے لوگ بندھے ہوئے ہیں۔ جس کا جہاں تک جتنا ہاتھ پہنچتا ہے وہ اتنا ہی فائدہ اٹھا لیتا ہے۔

اس صورتِ حال میں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والی سیڈ کمپنیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، انہیں بیج خریدنے نہیں دیا جاتا اور بیج کے لئے رکھی گئی گندم بھی خرید لی جاتی ہے۔ اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کاشت کے وقت گندم کا تصدیق شدہ بیج دستیاب نہیں ہوگا اور جو ملے گا مہنگے داموں ملے گا، بیج کی تیاری کا ایک سرکل ہے یہ ٹوٹ جائے تو درمیان میں تین سال کا وقفہ آ جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ سیڈ کمپنیوں کو فوری طور پر بیج خریدنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ تصدیق شدہ بیج اگلی فصل کے لئے محفوظ کر سکیں، سیڈ کمپنیوں کو شکایت ہے کہ نہ صرف انہیں بیج خریدنے نہیں دیا جا رہا بلکہ جن زمینداروں نے یہ بیج کاشت کیا اور اب فروخت کے لئے رکھا ہوا ہے انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انہوں نے یہ بھی فروخت نہ کیا تو ان پر ذخیرہ اندوزی کے نئے آرڈی ننس کے تحت مقدمات بنا دیئے جائیں گے۔ یہ نیا قانون بھی خوف و ہراس پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے اور اس کی آڑ میں گندم کی جائز نقل و حمل میں بھی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ پنجاب سے گندم دوسرے صوبوں کو لے جانے پر پابندی ہے اور اسے سمگلنگ کا نام دیا گیا ہے لیکن جو لوگ بہاول نگر سے لاہور گندم لاتے ہیں انہیں بھی روک لیا جاتا ہے جبکہ یہ دونوں شہر ایک ہی صوبے میں واقع ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری اہل کار اس قانون کو بھی جلب زر کا ذریعہ بنا رہے ہیں، قانون کی من مانی تشریح کر کے سادہ لوح کسانوں کو خوف زدہ کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہئ خوراک و زراعت ٹڈی دل کے حملے سے خبردار کر رہا ہے لیکن اس انتباہ پر توجہ دینے کی بجائے سرکاری عمال ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے آئندہ فصل کے لئے بیج ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں ہوگا۔ مجبوراً عام گندم بیج کے طور پر استعمال ہو گی جس کی پیداوار ایک اندازے کے مطابق 15 من فی ایکڑ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ تصدیق شدہ بیج بنانے کے لئے ”پری بیسک“ اور ”بیسک سیڈ“ بنانا پڑتا ہے جس کے لئے کم از کم چار سال کا عرصہ درکار ہے اس لئے بیج کی وافر دستیابی کے لئے اس کی خریداری میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ضروری ہے۔ فوری اجازت نہ ملنے کی صورت میں فیلڈ میں رکھا ہوا بیج خراب ہو سکتا ہے۔ عالمی بینک نے بھی تجویز کیا ہے کہ فلور ملوں کو براہ راست گندم خریدنی چاہئے۔ جس سے حکومت کے بھاری ضمنی اخراجات میں کمی آئے گی ان اخراجات کا 70 فیصد حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی پر مشتمل ہے۔ لیکن حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کو اپنا حریف بنا کر ناجائز کمائی کے جو راستے کھول رکھے ہیں وہ بند کرنے کے لئے تیار نہیں کہ اس طرح بہت سے بڑے لوگوں کے مفادات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -