گلشن کا کاروبار

گلشن کا کاروبار
گلشن کا کاروبار

  

چند سال پہلے میں کچھ دوستوں کے ساتھ دہلی گیا ہوا تھا۔ ہم سب ایک دن حضرت نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری دینے گئے۔ مزار کے راستے میں اس گلی کے اندر غالب کے مزار تک چھوٹے چھوٹے بہت سے ہوٹل ہیں۔ اور گلی کے باہر سے مزار تک بھیک مانگنے والوں کی بھرمار۔ گلی کے موڑ ہی سے ہر ہوٹل کا نمائندہ ہمیں مجبور کر رہا تھا کہ اس سے ٹوکن لے لیں کسی کا ٹوکن پانچ روپے کا تھا اور کسی کا دس روپے کا ، مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ یہ ٹوکن کیا ہے اور ہمیں لینے پر اصرار کیوں کیا جا رہا ہے ایک مقامی شخص سے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ رسم وہاں کے ہوٹل والوں نے چلائی ہے۔زائرین آتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ غریبوں کو کھانا کھلائیں۔ لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر پکی پکائی دیگیں بانٹنے کا فیشن ہے۔امیر، غریب، مزدور اور ہر آنے والا اس سے استفادہ کرتا ہے،مگر یہاں ٹوکن کا فیشن ہے۔ بھکاری آپ سے ٹوکن لے کر ہوٹل والے کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور انہیں کھانا مل جاتا ہے۔

مَیں نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہاں تو ہر بھکاری بیس بیس ٹوکن فی گھنٹہ اکھٹے کر رہا ہے۔ اتنا کھانا وہ کیسے کھاتا ہے۔اس نے ہنس کر کہا، اس کا بھی حل ان لوگوں کے پاس ہے۔ ان کا ایک نمائندہ رات کو ٹوکن لے کر ہوٹل والوں کے پاس چلا جاتا ہے۔ پانچ روپے کے ٹوکن کے بدلے ساڑھے تین یا چار روپے اور دس والے کے بدلے سات آٹھ روپے وصول کر لیتا ہے۔ یوں ہوٹل والوں کا کاروبار بھی پوری طرح چلتا ہے اور اس مافیا کا بھی۔ بھکاری مافیہ کی طاقت کا اندازہ مجھے واپسی پر ہوا۔ہم واپسی پر گلی میں کھڑے سوچ رہے تھے کہ کھانا کس ہوٹل میں کھایا جائے۔ کچھ بھکاری سائے کی طرح ہم سے چمٹے پیسے مانگ رہے تھے۔ ہم نے کئی دفعہ کہا کہ بابا معاف کرو،مگر وہ ٹلنے کو تیار ہی نہ تھے۔ آپس میں بحث کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ یہاں کا پرانا مشہور ہوٹل، کریم ہوٹل ہے۔ سنا ہے اس کا کھانا بھی اچھا ہے وہیں چلتے ہیں۔ کریم ہوٹل کا نام بھکاریوں نے سنا تو ایک زور سے چلایا،”اتنے مہنگے ہوٹل میں کھانا کھاتے ہو اور غریبوں کو معاف کرو کہتے ہو۔ پہلے ہمیں دو پھر ہوٹل جانا“۔ اس کے نعرے کے جواب میں ارد گرد کے تمام بھکاری ایک دم ہمارے پاس تھے۔ انہوں نے عملی طور پر ہمیں گھیرے میں لے لیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہم تیزی سے کریم ہوٹل کی طرف بھاگے۔ بھکاری اسی رفتار سے ہمارے پیچھے تھے۔ ہم ہوٹل میں تیزی سے گھسے تو چوکیداروں نے انہیں روک لیا۔ ایک چوکیدار نے ہمیں کہا کہ جناب یہ بڑے گندے لوگ ہیں بہتر ہے انہیں کچھ دے دیں۔ ہم نے سو روپے دے کر انہیں واپس بھیجا۔

میں اپنی گاڑی میں دس دس روپے کے کچھ نوٹ رکھتا ہوں۔ ہر چوک پردو تین بھکاری آ جاتے ہیں ان کو بانٹ دیتا ہوں کہ مانگنے والے کو واپس بھیجنا میرے مسلک میں اچھا نہیں ہوتا۔ آج وبا کے دور میں عجیب صورت حال ہے۔ میں کئی دنوں بعد گھر سے نکلا۔ اشارے پر گاڑی کھڑی ہوئی تو ایک بھکاری نما شخص آیا، میں نے دس روپے نکال کر اسے دیئے۔ یہ دیکھ کر دور دور سے کئی لوگ بھاگتے ہوئے میری گاڑی کی طرف بھاگے۔ میں نے سب کو دس روپے جتنے میرے پاس اس وقت موجود تھے دینے کی کوشش کی۔

کچھ نے دس روپے رکھ لئے کچھ نے واپس پھینک دئیے اور راشن لے کر دینے کا مطالبہ کیا۔ میں نے گاڑی مکمل لاک کی ہوئی تھی صرف تھوڑا سا شیشہ کھلا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ گاڑی کے دروازے کھولنے کی کوشش میں ہیں۔چند لمحوں میں مجھے گھیر کر شدید نعرے بازی میرے گرد شروع ہو گئی، ہر بندہ راشن لے کر دینے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اتنے میں اشارہ کھل گیا۔ میں نے شور مچا کر بمشکل راستہ لیا۔سوچتا ہوں ابھی یہ ابتلا کے ابتدائی دن ہیں اور کتنی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ مجھے اس دن نظام الدین اولیا کے مزار والا واقعہ یاد آیا۔ وہاں تو ہم بھاگ کر ہوٹل میں گھس گئے تھے۔ یہاں اگر لوگ پوری طرح باہر آگئے تو کھاتے پیتے لوگوں کے لئے اس ٓسمان کے نیچے امان کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔

مشورہ دینا ہمارا قومی خاصہ ہے۔ وہ کام ہمیں جس کی ابجد سے بھی واقفیت نہ ہو،ہم اس پر بھی بے دھڑک بولتے ہیں اور پھر دوستوں کے درمیان خود کو افلاطون سمجھ کر بات کرتے ہیں۔لیکن سچ یہی ہے کہ حکومتی صفوں میں موجود لوگ بھی سوچ کے اعتبار سے بس گزارہ ہی ہیں، کوئی ایسا نہیں کہ جس کی بات کو سن کر لوگ اسے ٹھیک مان لیں۔لوگوں کو بھی ایسے مشورے سننے اور دینے کا ایک نشہ ہے۔ اس انتباہ کے باوجود بھی کہ اپنے گھر میں رہیں، گھر سے باہر مت نکلیں، کہ کرونا آتا نہیں،لایا جاتا ہے، ہمارے لوگ باز نہیں آتے۔

شہر کے پرانے علاقوں میں آج بھی محفلیں سجتی ہیں اور لوگ اپنی مشکلات کا اظہار ایک دوسرے سے کرتے، مشورے دیتے اور مشورے لیتے ہیں۔ حکومتی باتوں پر بھی بحث کرتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتی آراء قبول وہی کرتے ہیں جو انہیں پسند ہوتی ہیں۔ ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کا کوئی طریقہ ممکن نہیں ماسوائے اس کے کہ وبا (اللہ نہ کرے)ان تک پہنچ جائے اور وہ مجبور ہو جائیں۔ ان علاقوں میں بس ایک خوبی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے حالات سے بھی پوری طر ح واقف ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتے ہیں اور کسی کو بھوکا بھی مرنے نہیں دیتے۔ افسوس ہم اپنے نئے علاقوں میں اس کلچر کو فروغ نہیں دے سکے۔

اس وبا کا کچھ پتہ نہیں کب تک چلے۔میرے خیال میں لاک ڈاؤن اگر ہم نہیں کرتے تو کرونا پھیلے گا اور بہت سے لوگوں کو مار دے گا۔ لاک ڈاؤن کرنے سے ہم کرونا سے تو بچ جائیں گے، بھوک دوگنا لوگوں کو مار دے گی۔ حکومت کی طرف سے فی خاندان بارہ ہزار کا پیکیج ایک اچھا اقدام ہے مگر اس ملک میں ایک طبقہ بھیک مانگنا اور بھیک وصول کرنا بہت بہتر انداز میں جانتا ہے۔ ایسے خاندان کا ہر فرد بارہ ہزار وصول کر لے گا مگر سفید پوش اسی حالت میں رہیں گے۔ بہتر طریقہ یہی ہے کہ معمولی لاک ڈاؤن اس محتاط انداز سے کیا جائے کہ اس گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ کچھ ایسا انداز کہ ملک کی معیشت بھی چلے، کاروبار بھی جاری رہیں اور لوگ احتیاط بھی کریں۔ حکومت لوگوں کو احتیاط کی تلقین بھی کرے اور احتیاط نہ کرنے والوں سے سختی سے نپٹا جائے مگر خود دار اور سفید پوش لوگوں کو بھوک کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ سفید پوش لوگ ہر حالت میں محنت سے کمانا بھیک وصول کرنے سے بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں ان کی خود داری کا احترام کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -