پاکستانی بچے بڑے کب ہوں گے؟؟(1)

پاکستانی بچے بڑے کب ہوں گے؟؟(1)
پاکستانی بچے بڑے کب ہوں گے؟؟(1)

  

ہمارے ہاں اکثر یہ کہا جاتا ہے بلکہ کیا جاتا ہے کہ بچوں کو ذرا بہلا دیں۔ یعنی بچوں کو چکر دے دیں۔ اس کے پیچھے فلاسفی یہ ہوتی ہے کہ بچہ اگر کچھ مانگتا ہے یا کسی چیز کی ضد کرتا ہے تو اس کو وقتی طور پر ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر اس کا مطالبہ اسے بھلا دیتے ہیں۔کیونکہ بچوں کی یاداشت کمزور ہوتی ہے یا کمزور سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح بچے کبھی کبھار آپس میں لڑ بھی پڑتے ہیں لیکن تھوڑی ہی دیر بعد پھر اکٹھے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ دل میں رنجش نہیں رکھتے۔

یہ تو بچوں کی نفسیات کی بات ہے۔ لیکن پاکستانی قوم بھی کیا بچوں پر مشتمل نہیں ہے؟ کیونکہ اس قوم کو بھی بہت ہی آسانی سے بہلایا جا سکتا ہے۔ اور بار بار بہلایا جا سکتا ہے۔ اتنی جلدی تو بچوں کو بھی بہلانا مشکل ہوتا ہے جتنی جلدی پاکستان کے عوام بات بھول جاتے ہیں ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کو بنیادی جمہوریتیوں کا لولی پاپ دے کر مارشل لاء کو دوام بخشا گیا، پھر 65 کی پاک بھارت جنگ کو تاشقند کی میز پر ہارا گیا، جس پر باقاعدہ تحریک بھی چلی اور اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے وزارت سے استعفی دیکر پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور قوم کو تاشقند کی پٹاری میں بند سانپ بہت جلد نکال کر دکھانے کا چکر دیا 70 کے عام انتخابات، 71 کی خانہ جنگی اور پھر پاک بھارت جنگ تک تاشقند پٹاری کو کھولنے کا کسی نے مطالبہ ہی نہ کیا بلکہ یوں سمجھیں کہ بچے بھول گئے کہ 65 کی جنگ اور معاہدہ تاشقند میں کیا ہوا تھا۔

بچوں کو پہلے انتخابات کی رونق میں دل لگانے کا چکر دے دیا گیا جب ان انتخابات کے نتائج نے ایک نیا طوفان سامنے لا کھڑا کیا اور پھر سقوط ڈھاکہ ہوا اور باقی ماندہ پاکستان میں پیپلز پارٹی نے حکومت قائم کر لی، اور اس کے بعد پھر ایک کمیشن حمود الرحمن کے نام سے بنا جس نے اپنی رپورٹ میں یہ بتانا تھا کہ پاکستان کو دو لخت کرنے میں کس کس کا ہاتھ ہے یا تھا۔ کہاں کس نے غلطی کی اور وعدوں کو توڑنے والے کون تھے۔ لیکن چونکہ پاکستانی بچوں کی یا دداشت چند ماہ سے آگے نہیں جاتی پھر کسی نے مڑ کر دیکھا نہ سوال اٹھایا۔ لوگ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے سحر میں ایسے مدہوش ہوئے کہ سقوط ڈھاکہ کو ہی بھول گئے اور کسی نے حمو د ا لر حمان کمیشن کی بابت سوال ہی نہ اٹھایا، یہاں تک کہ یہ رپورٹ 36 برس بعد تب شائع کی گئی جب اس سانحہ کے ذمہ دار کرداروں کی اکثریت اللہ کو پیاری ہو چکی تھی۔

پھر آیا 77 جب پیپلزپارٹی کی حکومت نے قبل از وقت انتخابات کروا دیئے، اور دو تہائی اکثریت سے جیت بھی لیے، لیکن پاکستان قومی اتحاد جو پیپلزپارٹی کا مد مقابل تھا،نے دھاندلی کا الزام لگا کر دوبارہ انتخابات کروانے کے لیے تحریک شروع کر دی جو آگے چل کر نظام مصطفی کی تحریک میں بدل گئی جس کی قیادت نو چمکتے ستاروں کے ہاتھ میں تھی جن کے سروں پر دستار بھی بندھی تھیں اور قوم کی امیدیں بھی انہی سے جڑی ہوئی تھیں۔ اس تحریک نے پورا ملک ہلا کر رکھ دیا اور ہر طرف اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے اور ان نعروں کی کٹھڑیوں میں بندھے امریکی ڈالر تھے بلاآخر نظام مصطفی دینے کے لیے فوجی وردی میں ایک مینجر نمودار ہوا جس نے کلمہ طیبہ کے ساتھ 90 دن میں نئے عام انتخابات کروانے کا وعدہ کیا اور 11 سال خود حکومت کی پھر کسی نے نظام مصطفی کا سوال اٹھایا نہ 77 کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا کیونکہ بچے آخر بچے ہی ہوتے ہیں بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے پہلے ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کا مقدمہ بنوایا اور پاکستان کی تاریخ کا پہلا عدالتی قتل کروا کر عدلیہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ثبت کر دیا۔

اس کے بعد عوام سے اسلامی شریعت نافذ کرنے کا وعدہ کیا اور عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے سوال پوچھا کہ ملک میں اسلام چاہتے ہو نا؟ ہاں کی صورت میں اسے 5 سال کی حکومت کا اختیار خود بخود ہی مل گیا۔ اور وہ سیاہ و سفید کا مالک بن گیا جنرل ضیاء نے پہلے مجلس شوری بنائی پھر اسلامی جمہوریت کا نظام متعارف کروانے کا وعدہ کیا اور 85 میں غیر جماعتی انتخابات کروا کر سیاست میں پیسے کے استعمال کا راستہ کھولا اور برادری ازم کی سیاست کو فروغ دیا جس سے نئی سیاسی قیادت سامنے آئی۔ اسی دوران 79 سے شروع ہونے والے افغان جہاد جس نے آگے چل کر نیو ورلڈ آرڈر کی بنیاد رکھنا تھی میں پاکستان اور پاکستان کی فوج نے بہت اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جہاں پاکستان کو 25 لاکھ افغانی بہن بھائیوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا وہاں کلاشنکوف کلچر اور منشیات کو کبھی نہ ختم ہونے والا فروغ ملا۔

لیکن جب ضیاء صاحب نیو ورلڈ آرڈر والوں کے کام کے نہ رہے تو پھر اپنے ہی منتخب کیے ہوئے وزیراعظم محمد خان جونیجو صاحب کی حکومت اور اسمبلیوں کو فارغ کر کے نئے انتخابات کی تاریخ بھی دے چکے تو ساتھی جرنیلوں اور امریکن ایمبیسیڈر سمیت ہوا ہی میں تحلیل ہو گئے۔ اور پاکستان کے افق پر پھر سے جمہوریت کا سورج بغیر آب و تاب طلوع ہوا جس کی چمک اور کرنیں ابھی ملک کو پوری روشنی بھی نہ دے سکی تھیں کہ پھر اس بچگانہ یاداشت والی قوم کو بتایا گیا کہ جمہوری لوگ بدعنوان ہیں اور ملک لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ مزید برداشت کیا تو ملک ہی نہیں رہے گا کیونکہ یہ سیکیورٹی رسک بھی ہیں۔ لہذا قوم نے ہاتھ کھڑے کیے اور صدر پاکستان جناب اسحاق خان صاحب نے حکومت کو چلتا کیا، پھر ایک ایماندار کاروباری خاندان پر عوام نے اعتماد کیا لیکن 3 سال بعد وہ بھی بد دیانت ٹھہرے اور اپنی یا دداشت دیکھو، پہلے والے کرپٹ قرار دیئے گئے ایک بار پھر قابل اعتماد ٹھہرے اور جیلوں سے سیدھے وزارتوں پر براجمان ہوئے،

یہ بچے لوگ صرف 3 برس میں بھول چکے تھے کہ ان کو تو حکومت سے نکالا ہی کرپشن کی وجہ سے گیا تھا۔ اس کے 3 سال بعد پھر تاریخ دہرائی گئی اور ان کو پھر دوسری مرتبہ انتہائی کرپٹ قرار دیکر مسٹر 10% کے خطاب کے ساتھ پھر چلتا کیا اور میاں کرپٹ دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہمارے امیر المومنین ٹھہرے۔

پھر کارگل جنگ اور اس کے نتائج پر بھی بہت کچھ کہا اور لکھا گیا، کارگل کی جنگ میں دشمن کو تو ہم شکست سے دوچار نہ کر سکے لیکن آپس میں سول اور فوجی کی تکرار میں ایک دوسرے کو مات کرتے 12 اکتوبر 1999 میں ایک بار پھر جیت انہی کی ہوئی جن کی سپرمیسی پر کبھی کسی کو شک ہی۱ نہیں رہا نہ رہنا چاہیے۔

پھر سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ مشہور ہوا اور خارجہ پالیسی کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ (جاری ہے۔)

مزید :

رائے -کالم -