غلط وقت پر اچھی بات

غلط وقت پر اچھی بات
غلط وقت پر اچھی بات

  

دنیا میں جس ملک کا آئین تحریری شکل میں موجود ہے اس میں ترامیم ضرور ہوئی ہیں۔ نئے حالات میں درپیش نئے مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے نئی آئینی راہیں تلاس کرنے کو ہی ترامیم کہتے ہیں۔ وطن عزیز کے موجودہ متفقہ کہلانے والے آئین 1973ء میں بھی اب تک 26ترامیم ہو چکی ہیں۔ ہمارا وطن اس حوالے سے خاصا بدقسمت رہا ہے کہ اسے ایک عرصہ تک سرزمینِ بے آئین کہا جاتا رہا۔ اگرچہ 1949ء میں قومی اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کر لی تھی جس کو اسلامی مملکت پاکستان کے ائین کے بنیادی خدو خال کا نام بھی دیا گیا، مگر آئین 1956ء تک نہ بن سکا اور جو آئین بنا وہ چل نہ سکا۔ 1958ء میں ایوب خان کے فوجی انقلاب نے اس آئین کی بساط لپیٹ دی۔ ملک کا دوسرا آئین ایوب خان کی فوجی حکومت کے دور میں 1962ء میں بنایا گیا۔ اس میں بنیادی جمہوریت کا بالواسطہ نظام دیا گیا جو صدارتی نوعیت کا تھا۔ اس میں وزیراعظم کا کوئی وجود نہ تھا۔تمام اختیارات صدر مملکت کے پاس تھے۔ تبھی یہ پھبتی کسی گئی کہ آئین میں صدر تو فیصل آباد (تب لائل پور) کا گھنٹہ گھر ہے۔ اس کے علاوہ فوج کا باضابطہ آئینی کردار بھی رکھ دیا گیا کہ صدر اور وزیر دفاع وہی ہو سکتا ہے جس نے کم از کم لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دی ہوں۔

یہ آئین عوامی تحریک کے نتیجے میں صدر ایوب خان کے استعفے کے ساتھ ہی 1969ء میں معطل ہو گیا اور بالآخر 1972ء میں ختم(منسوخ) کر دیا گیا۔ صدر ایوب خان نے اپنی ہی بنائے گئے آئین کے برخلاف استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کو دینے کی بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کو دیا اور حکومت بھی انہی کے سپرد کر دی۔ انہوں نے پہلے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا،جس کے تحت ون یونٹ توڑ کر چار صوبے بحال کر دیئے گئے۔ ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ انتخابات کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ نے شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں دو تین کے علاوہ تمام نشستیں جیت لیں، مگر پنجاب، سندھ، سرحدا ور بلوچستان میں اسے کوئی کامیابی نہ ملی۔ پیپلزپارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پنجاب اور سندھ میں کامیابی حاصل کی، مگر آئین بنانے کا اعلان کر دیا۔ اس سے جو آئینی بحر ان پیدا ہوا اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہو گیا۔ بھارت نے اس موقع پر فوجی مداخلت کی اور مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، باقی ماندہ مغربی پاکستان کے ارکان قومی اسمبلی میں اکثریت پیپلزپارٹی کی تھی، چنانچہ اس کو حکومت حوالے کر دی گئی۔ صدر ذوالفقار علی بھٹو بنے۔ نائب صدر مشرقی پاکستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی نورالامین بنائے گئے۔ اس باقی ماندہ قومی اسمبلی نے پاکستان کا آئین بنایا جس کو 1973ء کا آئین کہا جاتا ہے۔ یہ آئین تقریباً متفقہ تھا۔ صرف دو یا تین ارکان کے دستخط اس پر نہیں تھے۔

اس قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مفتی محمود، خان عبدالولی خان، پروفیسر غفور احمد جیسے زعماء اپوزیشن میں تھے، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو، مولانا کوثر نیازی، عبدالحفیظ پیرزادہ، ملک غلام مصطفےٰ کھر جیسے رہنما حکومت میں تھے۔ اس متفقہ آئین پر 10اپریل 1973ء کو دستخط ہو گئے اور 14 اگست 1973ء کو نافذ العمل ہو گیا۔ اس آئین میں پہلی ترمیم 4مئی 1974ء کو کی گئی جس کے تحت مشرقی پاکستان کو پاکستان کی حدود سے منہا کر دیا گیا۔ دوسری آئینی ترمیم اسی سال 7ستمبر کو کی گئی، جس کے تحت قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ تیسری ترمیم 18فروری 1975ء کو کی گئی،جس کے تحت نظر بندی کی مدت میں اضافہ کیا گیا۔ اس ترمیم کے ذریعے بھٹو صاحب نے یہ اختیارات حاصل کر لئے کہ سیاسی قیدیوں کو غیر معینہ مدت تک نظر بند رکھا جا سکتا ہے۔ اسی ترمیم کے ذریعے صدر کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے اختیار کو بھی چھ ماہ سے بڑھا کر غیر معینہ مدت تک کر دیا گیا۔ چوتھی ترمیم 21نومبر 1975ء کو کی گئی جس کے تحت اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا اور عدالتوں کو نظر بندوں کی ضمانت لینے کے اختیار سے محروم کر دیا گیا۔ ان میں ہائی کورٹ بھی شامل تھے۔ پانچویں ترمیم بھی بھٹو دور میں ہی 5ستمبر 1976ء کو کی گئی،جس کے تحت ہائی کورٹس کے اختیارات محدود کر دیئے گئے۔ چھٹی ترمیم بھی اس دور میں 22دسمبر 1976ء کو کی گئی، جس کی رو سے چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت میں توسیع کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال کر دی گئی۔

اس دور کی آخری ترمیم ساتویں تھی جو16مئی 1977ء کو کی گئی۔ اس کی رو سے وزیراعظم کو عوام سے بذریعہ ریفرنڈم اعتماد کا ووٹ لینے کا اختیار دے دیا گیا، جبکہ آئین میں تھا کہ کسی آئینی بحران یا پیچیدگی کی صورت میں وزیراعظم کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا۔ اس ترامیم کے ڈیڑھ ماہ بعد جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ 7جولائی 1977ء کو اس مارشل لاء کی وجہ سے آئین معطل کر دیا گیا۔ مارشل لاء دور میں بھی 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں جو قومی اسمبلی وجود میں آئی اس سے آٹھویں آئینی ترمیم کرائی گئی۔یہ ترمیم 11نومبر 1985ء کو کی گئی جس کی رو سے آئین کو پارلیمانی سے نیم صدارتی بنا دیا گیا۔ وزیراعظم تو رکھا گیا مگر بیشتر اختیارات صدر کو سونپ دیئے گئے۔9ویں ترمیم نفاذ شریعت کی تھی۔

یہ ترمیمی بل سینیٹ سے منظور ہو گیا، مگر اس دوران قومی اسمبلی تحلیل ہو جانے کے باعث آئین کا حصہ نہ بن سکا۔ دسویں ترمیم 29مارچ 1987ء کو ہوئی، جس کے ذریعے قومی اسمبلی کے اجلاسوں کی درمیان مدت کا تعین کیا گیا۔ گیارہویں ترمیم کا معاملہ بھی 9ویں ترمیم جیسا تھا، مگر دوسرے انداز میں۔ ترمیمی بل خواتین کی نشستوں کے حوالے سے تھا، مگر یہ واپس لے لیا گیا۔ بارہویں آئینی ترمیم 1991ء میں ہوئی، جس کے تحت تیز رفتار سماعت کی خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تیرہویں ترمیم 1997ء میں ہوئی، جس کی رو سے صدر کے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیارات ختم کئے گئے۔ (شق 58(2)B کا خاتمہ ہو گیا) 14ویں ترمیم 3جولائی 1997ء کو منظور ہوئی، جس کے تحت پارٹی بدلنے والے ارکان اسمبلی کی نشست ختم ہو جائے گی۔

پندرہویں ترمیم 1998ء میں لائی گئی مگر منظور نہ ہوئی۔ اس کے تحت شریعت کو ملک کا سپریم لاء بنایا جانا تھا۔1999ء میں لائی گئی 16ویں ترمیم کے تحت ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کی مدت مزید بیس سال بڑھا دی گئی۔2003ء میں منظور ہونے والی سترہویں ترمیم کا مقصد 13ویں ترمیم کے بعض اثرات کو کم کرنا تھا۔ 18ویں ترمیم 8اپریل 2010ء کو منظور ہوئی۔ اس مشہور ترمیم کے تحت ایک طرف صدر کے اسمبلی توڑنے سمیت متعدد اختیارات ختم کئے گئے تو دوسری طرف وزیر اعظم کو مکمل بااختیار بنایا گیا اور صوبوں کو وسیع خود مختاری دی گئی۔ اسی کے تحت صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے صوبہ خیبرپختونخوا رکھ دیا گیا۔ یہ کہنے کو ایک ترمیم (18ویں) کہلاتی ہے، مگر یہ پورا پیکیج ہے، جس کی 102شقیں ہیں۔ یا یوں کہیں کہ سو ترامیم کی ترمیم ہے۔ 19ویں ترمیم سپریم کورٹ کے ججوں، الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی سے متعلق ہے جو 22دسمبر 2010ء کو منطور ہوئی۔20ویں ترمیم 14فروری 2012ء کو منظور ہوئی جو آزادانہ انتخاب سے متعلق ہے۔21ویں ترمیم فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق ہے جو 7جنوری 2015ء کو منظور ہوئی۔22ویں ترمیم 8جون 2016ء کو منظور ہوئی جو چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات سے متعلق ہے۔7جنوری 2017ء کو منظور ہونے والی 23ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں مزید دو سال کے لئے قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ 24ویں ترمیم صوبوں کو ملنے والی قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد از سر نو مقرر کرنے سے متعلق ہے۔ یہ ترمیم 22دسمبر 2017ء کو منظور ہوئی۔

25ویں ترمیم 2018ء میں آئین کا حصہ بنی، جس کے تحت قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں شامل کیا گیا اور اسمبلیوں میں اس علاقے کی نشستوں کا تعین کیا گیا۔ یہ ترمیم صوبہ خیبرپختونخوا کی اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہو چکی تھی۔ یہ تمام ترامیم موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی ہیں۔ گزشتہ پونے دو سال سے تو قومی اسمبلی اور سینیٹ مین ایسا ماحول ہی نہیں بنا کہ آئینی ترامیم ہو سکیں۔ آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت چاہیے اور موجودہ حکومت بنانے کے لئے تو سادہ اکثریت بڑی مشکل سے بنائی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے تعاون کے بغیر کوئی آئینی ترمیم ہو بھی نہیں سکتی۔ اس وقت حکمران تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے ان دونوں جماعتوں کے ساتھ دستِ تعاون کی کوئی کوشش دکھائی دیتی ہے نہ موڈ۔ ان حالات میں اگر حکومتی پارٹی کے کسی رکن یا رہنما نے 18ویں ترمیم میں کسی اصلاح یا تبدیلی کی بات کرلی ہے تو اس پر ہاہا کار مچانے کی ضرورت سمجھ سے بالاتر ہے۔

یہ کوئی سنجیدہ بات نہیں لگتی، محض زبان کا ذائقہ تبدیل کرنے کی حرکت لگتی ہے۔ یوں بھی یہ اتنا نازک مسئلہ ہے کہ دوتہائی اکثریت ہو بھی تو اس کی طرف پھونک پھونک کر بڑھنا ہوگا۔ کالاباغ ڈیم کے معاملے کا حشر سب کے سامنے ہے۔ اس پر بھی چھوٹے صوبوں کی حکومتیں خم ٹھونک کر کھڑی ہوں گی اور صوبائی خود مختاری کے حوالے سے ملکی سلامتی کے لئے نئے خطرات جنم لے لیں گے۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے دہشت گردی پر قابو پایا گیا ہے اور کورونا کی ہلاکت آفرینیاں ابھی جاری ہیں۔ ایسے میں نیا پنگا لینے کا کوئی سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟ یہ الگ بات کہ آئین میں ترمیم یا توسیع پر نظرثانی کی کوئی ضرورت نہیں پارلیمانی نظام کی اچھی روایت ہے۔ اصولاً اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن غلط وقت پر اچھی بات بھی اچھے نتائج نہیں دیتی۔

مزید :

رائے -کالم -