فردوس کی جگہ باجوہ کیوں

فردوس کی جگہ باجوہ کیوں
فردوس کی جگہ باجوہ کیوں

  

فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات بنانے کا اقدام اس امر کی گواہی ہے کہ دیگر شعبو ں کی طرح موجودہ حکومت میڈ یا انڈسٹری کے معاملے میں بھی اپنا ٹارگٹ پورے کرنے میں ناکام ہے۔پیپلز پارٹی سے آئی فردوس عاشق اعوان سے قبل اسی جماعت سے آئے فوادچودھری اطلاعات و نشریات کے وزیر تھے۔سیاسی خانہ بدوش فواد چودھری نے پورا پلان عوام اور صحافیوں کے روبروواضح کیا، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اب انٹرٹینمنٹ (فلم،ڈرامے،موسیقی) کو اوپر لایا جائے گااور نیوز کو نیچے کیاجائے گا۔پھراس منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا گیا جو آج تک جاری ہے مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔فواد چودھری پی ٹی آئی حکومت اور اس کے سرپرستوں کے ایما پر اپوزیشن جماعتوں کے لّتے لیتے رہے، مگر اختلافی آوازوں کو دبانے میں کامیاب نہ ہو سکے پھر ایک دن ان کی چھٹی ہو گئی۔ اس کے بعد یہ ٹاسک فردوس عاشق اعوان کو سونپا گیا،جنہوں نے صرف اپوزیشن جماعتوں کے بارے میں بڑھ چڑھ کر غیر پارلیمانی زبان استعمال کی بلکہ حکومت کی نا اہلی،کرپشن وغیرہ کو الٹا کارنامے بنا کر پیش کرتی رہیں۔دن رات ایک کر کے اپنے باسز کو خوش کرنے کی کوشش کی، مگر فواد چودھری کی طرح فردوس عاشق اعوان کا چہرہ بھی عوام کے لئے نا پسندیدہ بن چکا تھا۔

اوپر سے یہ کہ وہ مطلوبہ ٹارگٹ بھی حاصل نہ کر سکیں۔اس طرح انہیں بھی فارغ کر کے گھر بھیج دیا گیا۔فواد چودھری کے برعکس فردوس عاشق کے معاملے میں یہ دھیان رکھا گیا کہ دبنگ خاتون اس حکومتی سیٹ اَپ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کردے جوسبکی کا سبب بنے، چنانچہ ان کو ہٹانے کے ساتھ ”ریاستی ٹی وی چینلوں“ پر ایسی خبریں بھی چلائی گئیں کہ وہ کرپشن میں ملوث ہیں۔یہ واضح پیغام تھا کہ بی بی اب چپ کر کے گھر جاؤ زبان کھولی تو ”خدمت“کے لئے نیب کو حاضرپاؤ گی۔ میڈیا سے ڈیل کرنے کے لئے نئی حکومتی ٹیم سینیٹر شبلی فراز اور لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ پر مشتمل ہے۔ کیا مضحکہ خیز صورتِ حال ہے کہ بظاہر باس کے عہدے پر فائز ہونے والے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اپنے ہی ماتحت معاون کی ماتحتی کرتے نظر آتے ہیں۔یہ عوامی رائے ہی نہیں۔ زمینی حقیقت بھی ہے۔لوگ شبلی کی جگہ باجوہ کو اہمیت دے رہے ہیں۔جہاں تک فن گفتگو کا تعلق ہے تو شبلی فراز نے بھی کنگزپارٹی والا لب و لہجہ ہی پایا ہے۔نجانے اپوزیشن ان کی آمد پر کیوں بغلیں بجا رہی ہے۔کسی ٹاک شو کے دوران جب شبلی فراز کو احسا س ہوتا ہے کہ ا نکا تعلق اشرافیہ کے سیاسی گروہ سے ہے تو وہ سامنے بیٹھی کسی شخصیت کو خاطر میں نہیں لاتے۔

اب ہماری میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی کچھ شخصیات نے اطلاعات کے لئے نئی حکومتی ٹیم کے حوالے سے توقعات باندھ لی ہیں کہ معاملات بہترہونگے۔ہماری دُعا ہے کہ ایسا ہی ہو،مگر حقیقت تصویر کا کوئی اور ہی رخ دکھا رہی ہے،جو ایجنڈا فواد چودھری اور فردوس عاشق اعوان پورانہ کر سکے وہ اس ٹیم کو کر کے دکھانا ہے۔اِس لئے اس پیش رفت سے اپوزیشن اور میڈ یا کے لئے خیر کا کوئی پہلو ڈھونڈنا محال ہے۔ سب سے پہلے تویہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ حالات کچھ بھی ہوں ہر کسی کو اپنا اپنا الو سیدھا کرنا ہوتاہے۔اس حوالے سے سیاسی اور غیر سیاسی کا فرق کرنے والے پر لے درجے کے احمق ہیں۔اب دیکھ لیں پوری دنیا کی طرح پاکستان پر بھی کورونا کی وبا منڈلا رہی ہے، مگر ہماری ریاست کو 18ویں ترمیم کی پڑ گئی ہے۔ کبھی ریٹائرڈ سفارت کاروں تسنیم اسلم اور عبدالباسط کو پرچیاں دے کر نواز شریف کے خلاف میدان میں اتارا جاتا ہے اور کبھی سیاسی شخصیات کو حوالہ نیب کر کے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی جا تی ہے۔ کورونا معاملے پر سندھ حکومت نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ چند دِنوں میں قومی سطح کے لیڈر شمار ہونے لگے تو مقتدر حلقو ں میں خطرے کی گھنٹیاں بج اُٹھیں۔

یہ سب اس لئے ہوا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کا مؤثر تعاون حاصل کیے بغیر صوبائی حکومت نے ایسا کام کر دکھایا کہ ڈبلیو ایچ او بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئی۔یہ بالواسطہ طور پر اس امر کا اعتراف تھا کہ18ویں ترمیم سے ملنے والے اختیارات سے صوبوں کے پاس نہ صر ف فنڈز کے استعمال،بلکہ استعدادکار کو بہتر بنانے کے مواقع بھی آگئے ہیں،یہ صورتِ حال اوپرو الوں کے لئے قابل قبو ل نہ تھی۔ وفاقی حکومت کو ہدایت کی گئی کہ سندھ حکومت پر پل پڑے،اور تو اور عرصہ دراز سے غائب فیصل واوڈا کو بھی لا کر غصہ نکالنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ ہونا تویہ چاہئے تھا کہ کورونا وبا میں ناقص کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے پر باقی تین صوبوں کی سرزنش کی جاتی،مگریہاں الٹ ہو گیا۔ میڈیا انڈسٹری اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔حکومت نے دیگر شعبوں کی طرح اخبارات اور چینلوں کے حوالے سے بھی یہ پالیسی بنا کر رکھی ہے کہ خالی اعلانات کر تے جاؤ، دینا کسی کو کچھ نہیں، تاکہ مختلف ادارے اپنی موت آپ مرتے جائیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ کورونا وبا کے بعد ہر لاک ڈاؤن کے آغاز پر اعلیٰ سطح سے حکم دیا گیا کہ اخبارات بند کر دیئے جائیں۔محکمہ اطلاعات کے ایک بڑے نے بڑی مشکل سے منت سماجت کر کے سمجھایا کہ ایسا کرنے سے نہ صرف اخبارات کے صحافی بلکہ ہزار وں اخبار فروش بھی سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر آ جائیں گے۔

یوں ایک مرتبہ تو یہ خطرہ ٹل گیا۔اگر اس تجویز پر عمل ہو جاتا تو آج پرنٹ میڈیا کا قصہ تو بڑی حد تک پاک ہوجانا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ میڈیا سے متعلق امور کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات وفاقی وزیر شبلی فراز دیکھیں گے، جبکہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری عاصم سلیم باجوہ کے پاس ہو گی۔ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے پاس بہت زیادہ تجربہ ہے، لیکن اس حیثیت میں جو کچھ وہ کر رہے تھے اسے ان کے ادارے کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ٹویٹ کرنے سے لے کر سوشل میڈیا سیل بنانے تک اور مین سٹریم میڈیا کو اپنی پالیسیوں کے تحت چلانے کے لئے ان کے ہاتھ میں کئی ایک ٹول تھے۔ ا س کے باوجود میڈیا میں اب تک جوفتوحات بھی ہوئیں وہ ملک کے اندر ہی رہیں۔ عالمی سطح پر تو یہ عالم ہے کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کیاتو کہیں کوئی خبر تھی نہ رد عمل، کوئی ادارہ اپنے ملک کے اندر خواہ کتنا ہی مضبوط اور مالک کل کیوں نہ ہو اس کی عالمی سطح پر کسی بھی میدان میں کارکردگی کا معیارملک کی مجموعی ساکھ کے ساتھ جڑا ہو تاہے۔ 2014ء کے دھرنوں میں آئی ایس پی آر کی وہ پریس ریلیز اب تاریخ کا حصہ ہے، جس میں منتخب وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اسلام آباد پر یلغار کرنے والوں کے مطالبات سنیں اور سیاسی حل نکالیں۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ کسی نے مجھ سے پوچھا اس کا مطلب کیا ہے؟ مَیں نے کہا کہ صاف سی بات ہے کہ عمران اور طاہر القادری،نوازشریف کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔یہی وہ سیاسی حل ہے، جس پر عمل درآمد کا مشورہ دیا گیا ہے۔ہمارے منصوبہ سازوں کے ذہن میں چین،ایران اور سعودی عر ب والا میڈیا ماڈل موجود ہے۔سرکاری سطح پر ایک طرف سے خبر جاری ہو اور سب اسے نشر کرنے اور شائع کرنے پر لگ جائیں۔ اپوزیشن کے متعلق یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ وہ صر ف بیانات ہی دیتی رہی تب بھی ریاست کے لئے مشکلات پیدا کرے گی چناچہ نیب وغیرہ کے ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی اس کا مکو ٹھپ دیا جائے۔ اگر کسی میڈیا ہاؤس کے مالک کو آزادی صحافت کی زیادہ ہی تکلیف ہو تو اسے میر شکیل الرحمن بنا دیا جائے۔ حکومت کی نئی میڈیا ٹیم صرف عمران کا امیج بڑھانے یا شکریہ عمران خان کی مہم چلانے کیلئے نہیں آئی۔ اس کا م کے لئے سینکڑوں حکومتی ترجمان ادارے اور سوشل میڈیا سیل موجود ہیں۔ عدالتوں سے بھی صادق اور امین سرٹیفکیٹ جاری ہوتے رہے ہیں، حکمرانوں سے روابط رکھنے والے علماء بھی کسی سے پیچھے نہیں مولانا طارق جمیل تو حد سے گزر گئے اور عمران خان کو ملک کا واحد دیانتدار شخص قرار دے ڈالا۔اس کا اصل کام عوام کو اپوزیشن کے ”گھناؤنے کردار“ سے آگاہ کرنا ہے۔یہ بھی بتانا ہے کہ سی پیک، اورنج لائن ٹرین اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی طرح ملک میں بجلی کی کمی پورا کرنے کے معاملات سے اس وقت کی حکومت کا کچھ خاص تعلق نہیں تھا۔

محب وطن حلقوں کی موجودگی کے باعث سب کچھ اپنے ہی آپ ہوتا چلا گیا،لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں وہ ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرکے حکمران طبقات کے لئے داد و تحسین کا اہتمام کرتے رہیں گے۔اس دوران اگر اپوزیشن میں سے کسی نے اپنا لچ تلنا چاہا تو ”توہین اسٹیبلشمنٹ“ کے قانون کے تحت اسے نیب ایف آئی اے یا پولیس کے حوالے کیا جا سکتا ہے یا پھر راہ چلتے ”فوری انصاف بھی فراہم کیا جا سکتا ہے“پہلے سے مسائل کے گرداب میں پھنسے ہوئے سیاست دان اور سیاسی جماعتوں کے لئے یہ ایک امتحان ہوگا کہ وہ عاصم سلیم باجوہ کی باتوں کا جواب کیسے دیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ہر طرح کی سہولتیں اور تحفظ فراہم کرنے کے باوجود وزیراعظم عمران خان اپنے لانے والوں سے بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔ تقریر کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ لاک ڈاؤن اشرافیہ نے کرایا۔انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ خود وہ کئی بار لاک ڈاؤن کی حمایت کر چکے ہیں،بلکہ اسے اپنا کارنامہ بتا چکے ہیں۔اشرافیہ بھی ہنستی ہو گی کہ کتنا معصوم وزیر اعظم ہے۔

رب کا شکر ادا کر بھائی

جس نے ہماری گا ئے بنائی

مزید :

رائے -کالم -