سلطان ٹیپو شہید (1)

سلطان ٹیپو شہید (1)
سلطان ٹیپو شہید (1)

  

کل (4مئی 2020ء)سلطان ٹیپو شہید کی 221ویں برسی تھی۔ ارادہ تھا کہ کل کا کالم سلطان شہید پر لکھوں۔ اس کے لئے مجھے جس مواد کی تلاش تھی اس میں میجر میر ابراہیم مرحوم کا وہ خط تھا جو انہوں نے مجھے میری ایک کتاب ”اقبال کے عسکری افکار“ موصول ہونے پر بطور شکریہ ارسال فرمایا تھا اور ساتھ ہی ایک نسخہ اپنی اس کتاب کا بھی بھیجا تھا جو انہوں نے بڑی تحقیق کے بعد لکھی تھی……

میں مارچ 1999ء میں جب بعد از ریٹائرمنٹ راولپنڈی سے لاہور شفٹ ہوا تھا تو اپنی متذکرہ بالا کتاب کا ایک نسخہ ان کی خدمت میں بھی پیش کیا تھا۔ ان سے غائبانہ خط و کتابت تو 1980ء کے عشرے میں اس خط سے شروع ہوئی تھی جو انہوں نے پاکستان آرمی کے ایک پروفیشنل میگزین میں کیپٹن سہیل عامر خان کا ایک مضمون دیکھ کر مجھے ارسال کیا تھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا: ”ٹیپو سلطان کے خواب“…… انہوں نے اس خط میں اپنا مختصر تعارف بھی کروایا تھا اور بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ محترمہ سلطان شہید کی اولاد میں سے ہیں اور خود ان کا تعلق بھی سلطان ہی کے خاندان سے ہے، وہ ”حیدر علی اور ٹیپو سلطان ٹرسٹ“ لاہور کے چیئرمین ہیں اور ان کے پاس سلطان کے بارے میں مختلف نوادرات اور مخطوطات موجود ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب میں لاہور آیا اور اپنی اس کتاب کی ایک کاپی ان کی نذر کی جس میں سلطان شہید پر ایک مبسوط مضمون بھی شامل تھا تو ان کی طرف سے ایک کتاب ملی جس کا ذکر درجِ بالا سطور میں کر آیا ہوں۔

میجر میر ابراہیم کی یہ کتاب میرے ایک عزیز پڑھنے کے لئے لے گئے تھے جو مجھے واپس نہ مل سکی۔ ان سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ انہوں نے آگے کسی دوست کو یہ کتاب دے دی تھی اور وہ دوست آج کل ٹورنٹو (کینیڈا) میں مقیم ہیں!

اس کے بعد مجھے میجر صاحب کے اس خط کی تلاش ہوئی جو کتاب کے ساتھ بھیجا گیا تھا اور میری کسی نجی فائل میں تھا۔ لیکن کافی فائلیں کھنگالنے کے بعد جب وہ خط بھی نہ ملا تو میں نے سلطان پر کالم لکھنے کا ارادہ ملتوی کر دیا اور سوچا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو سلطان کی اگلی برسی پر کوشش کروں گا۔ لیکن اتفاق دیکھئے کہ 1999ء کی ایک فائل میں کل شام وہ خط مجھے مل گیا جس کا کچھ حصہ دیمک خوردہ ہے لیکن پھر بھی قابلِ خواندگی ہے۔ وہ خط درجِ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مائی ڈیئر لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی خان

جناب عالیٰ!

یہ کتاب سلطان ٹیپو شہید رحمتہ اللہ جیسے عظیم سپہ سالار کے حالاتِ زندگی اور کارہائے نمایاں پر شبانہ روز مطالعے اور تحقیق کا ثمر ہے۔ اس کتاب میں سلطان شہید سے متعلق تاریخی واقعات، حقائق اور سچائی کی روشنی میں تحریر کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے اور انہیں عہدِ رفتہ کی یاد دلانے کے لئے سلطان شہید سے متعلق بہت سی نادر رنگین تصاویر بھی اس کتاب میں شامل ہیں جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور افادیت دوچند ہو گئی ہے۔

مجھے انتہائی خوشی ہے کہ میں یہ کتاب سلطان شہید کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی دو سو سالہ تقریبات کے موقع پر ان سے محبت کرنے والوں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اسلام کے اس عظیم فرزند اور قافلہ ء حریت کے سالارِ اعظم اور شہید کے عظیم کارناموں سے باخبر رہیں۔

میری آپ کے حضور یہ التجا ہے کہ سلطان شہید کی دو صد سالہ تقریبات کو سرکاری طور پر منانے کی سعی میں معاونت کی جائے۔اسلام کے اس عظیم سپہ سالار نے وطن کی آزادی اور اسلام کی سربلندی کی جدوجہد میں اپنوں کی غداری کی وجہ سے 4مئی 1799ء کو جامِ شہادت نوش کیا…… اللہ رب العزت انہیں ہمیشہ اپنی جوارِ رحمت میں رکھے اور ہمیں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

والسلام

خیر اندیش

میر ابراہیم

2ستمبر 1999ء

اس کے بعد میر ابراہیم کے دولت خانے پر حاضری کا کئی بار اتفاق ہوا اور وہ بھی کئی بار میرے ہاں تشریف لائے…… یہ ملاقاتیں یادوں کے انمول خزانے ہیں …… ”اقبال کے عسکری افکار“ پر میں نے جو مضمون لکھا تھا، اس کے بڑے مداح تھے۔ وہ فارسی زبان سے کم کم آشنا تھے اور سلطان شہید پر اقبال نے جو لکھا وہ زیادہ تر فارسی میں ہے۔ اردو زبان میں ان کی ایک مختصر سی نظم ”سلطانِ ٹیپو کی وصیت“ ضربِ کلیم میں شامل ہے جس کا پہلا شعر ہے:

تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول

لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

لیکن جاوید نامہ میں سلطان ٹیپو پرجو لکھا گیا ہے وہ اکثر قارئین کے علم میں نہیں۔ اس نظم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ٹیپو اور اقبال کے مکالمے پر مشتمل ہے اور دوسرا حصہ وہ ہے جس کا عنوان ہے: ”ٹیپو کا پیغام دریائے کاویری کے نام“۔ اس میں 41اشعار ہیں جو اتنے آبدار اور معنی خیز ہیں کہ جب تک سلطنتِ خداداد میسور اور حیدر علی اور سلطان ٹیپو کی تاریخ، قلعہ سرنگا پٹم اور دریائے کاویری کا جغرافیہ معلوم نہ ہو اس فارسی شاہکار کے اردو ترجمے سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوا جا سکتا۔

علامہ اقبال 30دسمبر 1928ء کو لاہور سے مدراس کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں دہلی میں قیام کیا۔ چودھری محمد حسین اور ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی ان کے ہمراہ تھے۔ 6جنوری 1929ء کو علامہ علی الصبح مدراس (آج اس کا نام چنائی رکھ دیا گیا ہے) پہنچے اور 8جنوری تک وہاں ٹھہرے۔ اس کے بعد بظاہر ان کا کام ختم تھا۔ وہ چاہتے تو واپس آ جاتے لیکن ان کے پروگرام میں سلطان ٹیپو کے مقبرے کی زیارت بھی تھی۔ انڈیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو مدراس سے سرنگاپٹم کا سفر خاصا دور دراز ہے۔ مدراس انڈیا کے مشرقی ساحل پر ہے اور سرنگا پٹم مغربی ساحل پر۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی اپنی معرکتہ آلارا تصنیف ”اقبال کی محبت میں“ صفحہ 336پر یوں رقم طراز ہیں: ”یہ بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ علامہ کا مدراس کے لیکچروں کی دعوت قبول کرنے کا سب سے بڑا مقصد دراصل سلطان ٹیپو کے مقبرے کی زیارت کرنا تھا۔“…… سلطان کے روضے کی زیارت کرتے ہوئے اقبال کا جو حال ہوا اس کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ لکھتے ہیں: ”مقبرے میں تین قبریں ہیں۔

سلطان شہید ٹیپو کی قبر پر سرخ غلاف تھا جو غالباً ان کے حسرتناک انجام کی نشاندہی کے لئے ڈالا گیا تھا۔ زائر کی طبیعت پر اس کو دیکھ کر ایک ناقابلِ فراموش الم ناک ردِ عمل ہوتا ہے۔ ہم نے خاموش، مودب اور ڈبڈبائی آنکھوں سے فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھائے۔میں اس کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں جو اس شہید کی آخری آرام گاہ کی قربت سے دل میں پیدا ہو گئی تھی۔ ہم سب انہی کیفیات کے زیرِ اثر صحنِ مزار کے برآمدے میں چپ چاپ بیٹھ گئے۔ میسور کے ایک شاعر اور موسیقار علی جان صاحب ہمارے ہمراہ تھے۔ انہوں نے خوبصورت ترنم کے ساتھ کچھ اشعار پڑھنے شروع کئے جو موقع کی مناسبت سے بہت موزوں تھے۔ ہم سب پر ایسا اثر تھا کہ گویا سرنگاپٹم کے اس شیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ حضرت علامہ کی آنکھیں نم تھیں بلکہ اس سے بھی تجاوز کر چکی تھیں اور جسم پر لرزہ کی کیفیت تھی۔ ہم سب مبہوت اور بے جان تھے۔“

یہی وہ تجربہ تھا جس کے پس منظر میں اقبال نے اپنی مشہور عالم تصنیف جاوید نامہ میں سلطان ٹیپو شہید کا ذکر کیا ہے۔ جاوید نامہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، عالمِ افلاک کا ایک تصوراتی سفرنامہ ہے جس میں اقبال اپنے روحانی مرشد مولانا روم کے ہمراہ ہفت آسمان کی سیر کرتے ہیں۔ مختلف افلاک پر مختلف بادشاہوں اور زعماء سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اور پھر ان سب سے آگے ایک ایسا آسمان آتا ہے جسے آنسوئے افلاک کہا گیا ہے (یعنی ان آسمانوں سے بھی آگے اور پرے)…… یہاں اقبال نے جن سلاطینِ مشرق سے ملاقاتیں کی ہیں ان میں نادر، ابدالی اور ٹیپو شامل ہیں۔ اقبال نے نادر اور ابدالی کو تو ایک ایک شعر میں ”بھگتا“ دیا ہے لیکن ٹیپو سلطان پر پانچ شعر کہے ہیں۔ مناسب ہوگا اگر یہ اشعار اور ان کا منظوم اردو ترجمہ بھی یہاں پیش کر دوں: (جاوید نامہ سفر مدراس کے تین برس بعد 1932ء میں شائع ہوا)

سب سے پہلے نادر شاہ پر جو شعر کہا ہے، وہ یہ ہے:

نادر آں دانائے رمزِ اتحاد

بامسلماں داد پیغامِ وداد

ایک نادر شاہ وہ دانائے رمزِ اتحاد

بخشنے والا مسلمانوں کو پیغام وداد

……]پیغام و داد کا معنی ہے پیغامِ محبت و الفت[

اس کے بعد احمد شاہ ابدالی کا ذکر ہوتا ہے۔ ابدالی کو جدید افغانستان کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل افغانستان کا نام دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال نے یہ کہا ہے:

مردِ ابدالی وجودش آئیتے

داد افغاں را اساسِ ملتے

دوسرا ابدالی جس کی ذاتِ یزدانی نشاں

جس نے ڈالی تھی بنائے ملتِ افغانیاں

اس کے بعد جب سلطان ٹیپو کو دیکھتے ہیں تو اس کے بارے میں درج ذیل پانچ اشعار رقم کرتے ہیں:

آں شہیدانِ محبت را امام

آبروئے ہندو چین و روم و شام

اور وہ مرد، وہ شہیدانِ محبت کا امام

جس کی ہستی آبروئے ہندو چین و روم و شام

……………………

نامش از خورشید و مہ تابندہ تر

خاکِ قبرش از من و تو زندہ تر

نام ہے جس کا مہ و خورشید ہے تابندہ تر

قبر کی مٹی بھی جس کی،ما و تو سے زندہ تر

……………………

عشق رازے بود بر صحرا نہاد

تو ندانی جاں چہ مشتاقانہ داد

عشق کا سرِّ نہاں اس نے ہویدا کر دیا

اس طرح جاں دی کہ ہے جانبازیوں کی انتہا

……………………

از نگاہِ خواجہءؐ بدر و حنین

قصر سلطان، وارثِ جذبِ حسینؓ

ہائے وہ فیضِ نگاہِ خواجہءؐ بدر و حنین

قصرِ سلطانی کے شایاں، وارثِ جذبِ حسینؓ

……………………

رفت سلطاں زیں سرائے ہفت روز

نوبتِ او در دکن باقی ہنوز

چھوڑ کر رخصت ہوا وہ، یہ سرائے ہفت روز

پھر بھی ڈنکا بج رہا ہے اس کا دکن میں ہنوز

(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -