"یوم سقوط آزادی صحافت"؟؟

"یوم سقوط آزادی صحافت"؟؟

  

یوم آزادی بالعموم وہ قومیں مناتی ہیں جنہوں نے غلامی کے طویل دور کے بعد ایک جدوجہد کے نتیجے میں آزادی حاصل کی ہو۔ اور پھر وہ ہر سال اس دن کو یوم آزادی کے طور پر مناتی ہیں۔ جس طرح ہم بطور پاکستانی ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی مناتے ہیں کہ ہم نے اس دن انگریز سامراج سے آزادی حاصل کی تھی۔ لیکن کیا آزادی حاصل کرنے سے پہلے ہم نے کوئی دن یوم آزادی کے طور پر منایا ؟؟؟ یقیناً نہیں۔ تو پھر یہ آزدی صحافت کا عالمی دن کیا ہے ؟؟؟۔۔۔۔۔ انتہائی مضحکہ خیز ہے یہ اصطلاح،،، اور یہ دن میرے نزدیک۔۔۔ بالخصوص آج کل۔۔۔

یعنی فی زمانہ یہ ایک ایسی آزادی ہے جس کا اہل صحافت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک سیاسی ڈھونگ اور سیاسی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔ کیونکہ میرا تو مشاہدہ ہے کہ اول تو آزادی صحافت نام کی کسی چیز کا ہمارے ہاں کوئی وجود نہیں اور اگر کبھی یہ محدود پیمانے پر ملی بھی تو اس کے ثمرات کبھی عوام اور اہل صحافت کو نہیں ملے،،، بلکہ مخصوص ایجنڈے کے تحت ملنے یا دی جانے والی آزادی سے غیر صحافی یا براہ راست یوں کہہ لیں کہ سیاسی مقاصد کی حامل قوتیں ہی مستفید ہوئی ہیں۔

معلوم نہیں ان سیاسی رہنماوں کو حکمران بننے کے بعد کیا ہوجاتا ہے۔ اپوزیشن میں ہوں ہمارے ساتھ ہی اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ بڑی نارمل باتیں کرتے۔ حالات کا بڑے حقیقت پسندانہ اور ہمدردانہ انداز سے تجزیہ کرتے ہیں۔ انہیں سب معلوم ہوتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ برا کیا ہے اور کیا اچھا، آزادی کیا ہے اور پابندی کیا۔ جونہی حکمرانی کا جبہ پہنتے ہی تو ساتھ ہی تمام معیار اور پیمانے بدل جاتے ہیں۔ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے لئے میڈیا اس وقت بہت اچھا ہوتا ہے جب وہ فوجی آمر پرویز مشرف کے مقابلے میں اپوزیشن کی تحریک کو اٹھاتا ہے، لندن سے براہ راست ان کی پریس کانفرنسیں دکھاتا ہے، سابق صدر پرویزمشرف کو بھی اچھا لگتا ہے جب دبئی کی خودساختہ جلاوطنی میں ان کے انٹرویوز کرتا ہے پھر اگر ماضی قریب کی بات کرلیں تو ہمیں آزادی صحافت کے وہ لمحے بڑے ہی باکمال نظر آتے تھے جب جاتی امرا لاہور میں اس وقت کے وزیراعظم کے گھر کے تقریباً سامنے ایک بڑا سٹیج لگا کر اپنے حریف کو چیلنج کیا گیا۔ کوئی دوسو فٹ کی سکرین پر ملٹی میڈیا کے ذریعے جلسہ گاہ میں موجود اپنے کارکنوں اور ٹی وی چینلز پر لائیو کوریج کے ذریعے کروڑوں عوام کو حکمران خاندان کی مبینہ کرپشن سے آگاہ کیا۔

ہم ایک بار پھر اظہار رائے کی آزادی سے جھوم اٹھے جب اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنے کا قصد ہوا تو تمام میڈیا نے اس کی بال ٹو بال کوریج کی۔

وہ مناظر بھی انتہائی دلکش تھے جب اسلام آباد میں ایک سو چھبیس دن کے تاریخی دھرنے میں کئی بار صرف ٹینٹ اور خالی کرسیاں ہوتی تھی لیکن اس ایونٹ کوریج کرنے والے میرے ساتھی صحافیوں کی پیشہ وارانہ توانائی میں کبھی کوئی کمی دیکھنے میں نہ آئی۔ پھر کیا کیا ذکر کریں کہ اس تحریک سے لے کر الیکشن ڈے تک میرے ملک کی صحافت کو دلیری اور معتبری کے کیا کیا سرٹیفکیٹ نہ دئیے گئے۔ لیکن جس لمحے عنان اقتدار سنبھالی تو ساتھ ہی ہم بھی ملعون و مطعون ٹھہرے۔

آج آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں صحافی اور صحافت جس زبوں حالی کا شکار ہیں ایسا شاید پہلے کبھی نہ تھا۔ آج پاکستان میں ہزاروں صحافی اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو برسرروزگار رہ گئے ہیں وہ تحفظ روزگار کے تفکر میں گھلتے جارہے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے میڈیا ہاوس کے مالک میر شکیل الرحمان پابند سلاسل ہیں۔ میر صاحب کو پنتیس سال قبل زمین کی خریداری کے ایک ایسے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے جو ایک پرائیویٹ ڈیل قرار دی جارہی ہے۔ اس قدر پرانے کیس کو کھولنا فی الوقت ایسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک شیر نے جنگل میں عدالت لگائی اور یہ کہہ کر ایک بھیڑ کے بچے کو ہڑپ کرنے کا جواز تراش لیا کہ " اگر اس ندی کا پانی تم نے میلا نہیں بھی کیا تو تمہارے دادا نے تو ضرور کیا ہوگا "۔ میر صاحب بھی دیگر میڈیا مالکان کی طرح ہی ایک شخصیت ہوسکتے ہیں۔ میں نے خود سترہ برس جنگ میں رپورٹنگ کی۔ وہاں بلاشبہ صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کے معاشی حالات آئیڈیل نہیں ہیں۔

لیکن میں میر صاحب کی گرفتاری کو اس لئے زیادہ اہم سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑے میڈیا ہاوس کا مالک ہونے کی حیثیت سے ان کی گرفتاری دیگر تمام میڈیا انڈسٹری کے لئے ایک پیغام ہے۔ اس سب سے بڑے میڈیا ہاؤس کو شدید مالی دباؤ کا بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اور یہ عمل اگر مزید جاری رہا تو اس سے وہاں کام کرنے والے ہزاروں میڈیا ورکرز اورصحافیوں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس لئے میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ کسی ایک شخصیت کا انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ درحقیقت آزادی صحافت کا ہی مسئلہ ہے۔ صحافتی تنظیموں کو بھی چاہئیے کہ وہ اسے میڈیا کی اجتماعی آزادی کے تناظر میں دیکھیں۔ دوسری طرف انہی نامساعد حالات کی وجہ سے لاہور میں ایک نوزائیدہ ٹی وی چینل آپ کی بیک جنبش قلم بندش سے سینکڑوں صحافی اور میڈیا ورکرز ایک ہی دن میں بے روزگار ہوگئے۔ پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کی بندش کے ذریعے بالواسطہ طور پر کنٹرول کرنے کا وہی کھیل جاری ہے جو پرانے پاکستان میں بھی تھا۔ آج کا صحافی، اس کی پروفیشنل اور معاشی آزادی بدحالی کی اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ بیان سے باہر ہیں۔

آزادی صحافت ریاست اور اس کی پالیسیوں سے براہ راست مشروط ہے۔ ہم نے بھی نئے پاکستان کے خواب دیکھے لیکن کچھ بھی تو نیا نہیں ہوا۔ اہل صحافت کے لئے نہ تو پاکستان بدلا نہ ہی ان کے حالات۔ آج کے صحافی کے لئے نہ صرف پیشہ وارانہ طور پر زمین مزید تنگ ہوگئی ہے بلکہ معاشی اور سماجی طور پر بھی اس قدر مشکل حالات سے دوچار کردیا گیا ہے کہ جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔۔۔ ہم آزاد نہیں،،، بلکہ جو تھوڑی بہت آزادی حاصل تھی وہ بھی چھنتی نظر آرہی ہے۔۔۔ اس لئے میں نے تو اس دن کو یوم آزادی صحافت کے طور پر نہیں بلکہ "سقوط آزدی صحافت" کے دن کے طور پر منایا۔

مزید :

رائے -کالم -