وفاق اور صوبے ایک ہفتے میں کورونا کیخلاف یکساں پالیسی لائیں ورنہ عبوری حکم جاری کردینگے: چیف جسٹس

  وفاق اور صوبے ایک ہفتے میں کورونا کیخلاف یکساں پالیسی لائیں ورنہ عبوری حکم ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کہیں شفافیت نظر نہیں آرہی اور سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہو رہے ہیں، آپ لوگ اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ہو کیا رہا ہے؟،پورے ملک میں ابتر حالت ہے،ملک کا ایک حصہ ہم سے چلا گیا اور کچھ حصوں میں آگ لگی ہے جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں میں تعاون نہ ہونیکی وجہ مرکز میں بیٹھے لوگوں کا متکبرانہ رویہ ہے،کیا وفاق میں بیٹھے لوگوں کو ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے، ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں کورونا سے متعلق یکساں پالیسی بنائی جائے، یکساں پالیسی نہ بنی تو عبوری حکم جاری کریں گے۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کورونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل اور تین صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری صحت سے اسلام آباد کے حاجی کیمپ قرنطینہ سینٹر کے دورے کے بارے میں استفسار کیا کہ حاجی کیمپ کو قرنطینہ سینٹر کس نے بنایا؟ اس پر سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ حاجی کیمپ کو قرنطینہ سینٹر نیشنل ڈیزاسٹڑ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بنایا۔چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کے حکام کی عدالت میں عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کون آیا ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی طرف سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات سپریم کورٹ میں پیش ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ہو کیا رہا ہے؟ کسی چیز میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔کورونا اخراجات سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور یہ پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ (پی پی ای) پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں؟ اگر تھوک میں خریدا جائے تو 2 روپے کا ماسک ملتا ہے مگر پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں، ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں۔معزز چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نہیں بتایا گیا کہ ادارے کیا کام کررہے ہیں، خریداری کیسے ہو رہی ہے اور کن کمپنیوں سے ہو رہی ہے؟ سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں، کورونا اخراجات کا آڈٹ کروایا جائے گا تو پتہ چلے گا اصل میں ہوا کیا ہے۔اس دوران سیکرٹری صحت نے عدالت بتایا کہ وائرس کی دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف شکلیں ہیں، امریکی اور یورپی کورونا وائرس زیادہ خطرناک ہے وہاں ہزاروں اموات ہو رہی ہیں۔چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ امریکا سے ہمارا موازنہ کیوں کررہے ہیں، یہ بالکل نہ کریں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سو جائیں۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ابتر حالت ہے، اسلام آباد میں کتنے شاپنگ مالز ہیں؟ ان میں کتنی دکانیں کرائے پر ہیں؟ کتنے ملازمین کام کرتے ہیں؟ شاپنگ مالزمیں سامان کی تقسیم سے کتنے لوگ وابستہ ہیں؟ شاپنگ مالز سے وابستہ تمام کام رک گیا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سندھ حکومت پالیسی بنانے کی بجائے صنعتیں کھولنے کی اجازت دے رہی ہے، صوبوں کو ایسے کاروبار روکنے کا کوئی اختیار نہیں جو مرکز کو ٹیکس دیتے ہیں، سمجھ نہیں آرہی ملک میں کیا ہورہا ہے، ملک میں مکمل طور پر استحصال ہورہا ہے، لگتا ہے وفاق اور صوبائی حکومتیں عوام کے خلاف سازش کر رہی ہیں، کوئی یکساں حکمت عملی نہیں ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومتیں پیسے مانگ رہی ہیں، اگر وفاق کے پاس فنڈز ہیں تو اسے دینے چاہییں۔اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں میں تعاون نہ ہونیکی وجہ مرکز میں بیٹھے لوگوں کا متکبرانہ رویہ ہے،کیا وفاق میں بیٹھے لوگوں کو ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے، ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں کورونا سے متعلق یکساں پالیسی بنائی جائے، یکساں پالیسی نہ بنی تو عبوری حکم جاری کریں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی باتیں آج سچ ثابت ہو رہی ہیں، ڈاکٹراسرار کی تقریریں سن لیں انہوں نے 20 سال پہلے آج کے حالات بتا دیے تھے، ہمارے ملک کا ایک حصہ ہم سے چلا گیا اور کچھ حصوں میں آگ لگی ہے، اگر ہم زکوٰۃ، صدقات اور فطرانہ کھا جائیں گے تو پھر کیا ہو گا، ہم کس طرف جا رہے ہیں۔۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کام کچھ نہیں کیا لیکن ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں، کسی چیز میں شفافیت نہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کوئی صوبہ پالیسی کے ساتھ نہیں آیا، آپ نے مساجد کھول دیں، تاجر کہہ رہے ہیں آپ نمازیں پڑھائیں ہمیں بھوکا مار دیں، آپ کے معیار الگ الگ ہیں، جس شعبہ سے ڈرتے ہیں اسے کھول دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا سندھ حکومت کہتی ہے 150 فیکٹریوں کو کام کی اجازت دیں گے، پنجاب میں 37 صنعتیں کھول دیں، باقی کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ اجازت دینے والوں سے پولیس سمیت سب کو ہی کچھ دینا پڑتا ہے، جامع پالیسی بنا کر تمام فیکٹریوں کو کام کی اجازت ملنی چاہیئے۔عدالت نے راستوں کی بندش سے عوامی مشکلات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ٹرکوں میں چھپ کر سفر کیا جا رہا ہے، لوگ اندرون ملک سفر ی کیلئے ہوائی ٹکٹ کے برابر پیسے بھر رہے ہیں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ذاتی عناد کی وجہ سے وفاق کا نقصان ہو رہا ہے۔ عدالت نے کہا لگتا ہے وفاق اور صوبائی حکومتیں عوام کیخلاف سازش کر رہی ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ایک وزیر کچھ کہہ رہا ہوتا ہے تو دوسرا کچھ کہتا ہے، صدر، وزیراعظم کے ارادے نیک ہونگے لیکن کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔چیف جسٹس نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی رپورٹس پر اظہار عدم اطمینان کیا اور کہا وفاقی حکومت کی پالیسی صرف 25 کلو میٹر تک محدود ہے، کام کرنا ہے تو نیک نیتی اور شفافیت سے کریں، لاہور قرنطینہ سے پیسے لیے بغیر کسی کو جانے نہیں دیا جاتا۔ عدالت نے کہا احتساب کا ایک اور ادارہ بنایا تو کرپشن کی رفتار مزید تیز ہو جائے گی۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کیا گندم غائب کرنے والے انسان کہلائے جا سکتے ہیں؟ جو زکوٰۃ اور صدقے کا پیسہ کھا جائیں ان سے کیا توقع رکھیں گے۔ عدالت نے کہا آڈیٹر جنرل کے مطابق زکوٰۃ اور بیت المال کا پیسہ کرپشن کی نذر ہوگیا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا بیت المال کے فنڈ میں کرپشن نہیں ہوئی، آڈٹ حکام نے 54 اعتراضات عائد کیے تھے، 48 کے جواب آگئے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا جو ریکوری ہوئی کیا یہ کرپشن نہیں تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا مریض کیلئے مختص جو پیسے استعمال نہیں ہوئے وہ ریکوری میں ڈالے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال اچھی نہیں، خیبرپختونخوامیں اموات بڑھ رہی ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا خیبرپختونخوا میں میڈیکل کلینک کھل گئے؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا تمام علاقے کھول دیئے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا خیبرپختونخوا میں پولیس نے طبی عملہ پر تشدد کیا، کیا خیبرپختونخوا پولیس بے مہار ہے، ڈاکٹر ہوٹلزمیں جا کرمریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے حکومت کو کورونا سے متعلق یکساں پالیسی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔

کورونا ازخود نوٹس

مزید :

صفحہ اول -