لاک ڈاؤن مرحلہ وار کھولنے کا اعلان، ہر شعبے کیلئے حفاظتی اقدامات پر مبنی ایس او پیز تیا ر کر لئے، ٹائیگر فورس لوگوں میں شعو ر پیدا کرے گی، ارکان اسمبلی نگرانی کریں، عمران خان کورونا وائرس سے مزید 27افراد جاں بحق، 1318نئے کیسز رپورٹ

      لاک ڈاؤن مرحلہ وار کھولنے کا اعلان، ہر شعبے کیلئے حفاظتی اقدامات پر ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)) وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن بتدریج کھولنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کو آہستہ آہستہ کھولنا ہے، ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو کورونا تیزی سے پھیلے گا، ٹائیگر فورس لوگوں میں شعور پیدا کرے گی۔وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وائرس کے باعث پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کرنا پڑا، دیہاڑی دار اور چھوٹا طبقہ لاک ڈاؤن سے بہت متاثر ہوا، برطانوی وزیراعظم نے رضاکاروں کیلئے درخواست کی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں بڑے مسائل ہیں، موجودہ صور تحال میں ٹائیگر فورس کا اہم کردار ہوگا، شوکت خانم کی فنڈنگ کیلئے عمران ٹائیگر فورس بنائی تھی۔عمران خان کا کہنا تھا لوگوں کو کورونا سے بچانا اور روزگار بھی پیدا کرنا ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے ہیں، ٹائیگر فورس انتظامیہ سے مل کر کام کرے گی، ٹائیگر فورس نے بیروزگار ہونیوالوں کی رجسٹریشن کرنی ہے، مستحق بے روزگاروں کو احساس پروگرام سے کیش دیا جائے گا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں بڑے مسائل ہیں، عوام ذخیرہ اندوزوں کیخلاف انتظامیہ کو شکایات درج کرائیں۔دوسری جانب وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی ہوگی، ہر شعبے کیلئے حفاظتی اقدامات پر مبنی ایس او پیز تیار کرلئے، اختلافات بھلا کر قوم کی خدمت وقت کا اہم تقاضا ہے، ہر طبقے کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کیلئے عوام کی خدمت کا بہترین موقع ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہیں، ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں انتظامیہ کے ساتھ مل کر قیمتوں پر نظر رکھیں، ارکان اسمبلی کورونا سے نمٹنے کیلئے نوجوانوں کو متحرک کریں، حکومتی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کیلئے انتظامیہ سے مل کر کام کریں۔عمران خان نے کہا کہ ارکان اسمبلی حلقوں میں اپنی ٹیمیں بنا کر مستحق افراد تک پہنچیں، حکومت ہر طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے، ارکان اسمبلی مساجد میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں کردار ادا کریں، موجودہ صورتحال میں ایک ٹیم بن کر کام کرنا ہوگا، مجھے معلوم ہے ہر کوئی اپنی استعداد میں کام کر رہا ہے، اتحاد اور ڈسپلن کے ساتھ کورونا کا کامیابی سے مقابلہ کریں گے۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کورونا وبا کنٹرول میں ہے اور جلد اس پر مکمل قابو پالیں گے،لاک ڈاؤن میں آہستہ آہستہ نرمی کر رہے ہیں،کاروباری سرگرمیاں اور بارڈرکو بھی احتیاطتی تدابیر کے ساتھ کھول رہے ہیں، دس لاکھ رضاکاروں پرمشتمل کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کو برؤے کار لانے کے لئے ٹی او آرز تیار کیے جا چکے ہیں، اس سلسلے میں سیالکوٹ میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کیا جا چکا ہے جس کو بنیاد بنا کر ٹائیگر فورس کا بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کو ملک بھر میں آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے نے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں نہ صرف عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کریں بلکہ عوام کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ترغیب دیں تاکہ جہاں ہر طبقے کو ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے وہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زمینی حقائق خصوصاً ملکی معاشی حالات اور عام آدمی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی جائے گی تاہم ہر شعبے کے لئے حفاظتی اقدامات پر مبنی جامع ایس او پیز تیار کیے جا چکے ہیں جن پر عمل درآمد کرانے کے لئے عوامی نمائندگان متحرک کردار ادا کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ہرممکن ریلیف فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل حالات کے باوجود مجموعی طور 1.25کھرب روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سوا ایک کروڑ مستحق خاندانوں کو بارہ ہزار روپے کی فراہمی کا عمل نہایت شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مزدوروں اور ورکرز کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے بھی ایک خصوصی پروگرام کا اجراء کیا گیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام منتخب عوامی نمائندگان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے حلقے میں تمام مستحقین حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ریلیف پیکیج سے با آسانی مستفید ہوسکیں۔ وزیرِ اعظم نے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ کورونا کی مشکل صورتحال سے نمٹنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں میں معاونت کے لئے ملک کے طول و ارض میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے نہایت جوش و خروش سے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس لاکھ رضاکاروں پرمشتمل کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کو برؤے کار لانے کے لئے ٹی او آرز تیار کیے جا چکے ہیں انہوں نے کہا کہ خدمت کے جذبے سے سرشار یہ ٹائیگر فورس نہ صرف عوام کو ریلیف کی فراہمی میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کرے گی بلکہ عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد میں معاونت،

یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کے اسٹاک کی صورتحال کے بارے میں انتظامیہ کو آگاہ رکھنے جیسی اہم سرگرمیاں سر انجام دے گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں سیالکوٹ میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کیا جا چکا ہے جس کو بنیاد بنا کر ٹائیگر فورس کا بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورنا وائرس کی صورتحال اور روک تھام کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی کو کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی۔ پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی کو کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اراکین اپنے حلقے میں رہیں اور فورس کی نگرانی کریں، وزیر اعظم نے کہاکہ کورونا ٹائیگر فورس اثاثہ ہے جو ہر مشکل میں کام آئے گی، کورونا وبا قابو میں ہے، جلد قابو پالیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ لاک ڈاؤن میں آہستہ آہستہ نرمی کررہے ہیں، کاروباری سرگرمیاں اور بارڈر کو بھی احتیاطتی تدابیر کے ساتھ کھول رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر ملنے والی اشیاء کی بھی نگرانی کریں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے بریفنگ دی، وزیر اعظم نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے ملکی معشیت کو بہت نقصان ہوا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ان کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں ملکی صورتحال قدرے بہتر ہے، اس بہتری کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات، موثر پالیسی سازی اور بہتر کوآرڈینیشن ہے، کورونا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کوجاری رکھا جائے، کورونا کی روک تھام کے حوالے سے عوام میں آگاہی پھیلانے اور ان کو رضاکارانہ طور پر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی طرف راغب کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے، کورونا کے خلاف پالیسی سازی کے دوران ان کی اولین ترجیح ملک کے غریب عوام اور کمزور طبقہ اور انکی ضروریات ہوتی ہیں، حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسی مرتب کی جائے جس سے کورونا کی روک تھام اور معاشی سرگرمیوں کی روانی میں توازن کو یقینی بنایا جا سکے۔پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی صورتحال اور اس وبا کی روک تھام سے متعلق اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہو اجس میں وفاقی وزرا مخدوم خسرو بختیار، حماد اظہر، سید شبلی فراز، سید فخر امام، اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، چیئرمین این ڈی ایم اے اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال، وبا کے معاشی اور سماجی اثرات اور روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ان کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں ملکی صورتحال قدرے بہتر ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس بہتری کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات، موثر پالیسی سازی اور بہتر کوآرڈینیشن ہے۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ کورونا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کوجاری رکھا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا کی روک تھام کے حوالے سے عوام میں آگاہی پھیلانے اور ان کو رضاکارانہ طور پر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی طرف راغب کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی و دستیابی اور انکی ترسیل کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے خلاف پالیسی سازی کے دوران ان کی اولین ترجیح ملک کے غریب عوام اور کمزور طبقہ اور انکی ضروریات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسی مرتب کی جائے جس سے کورونا کی روک تھام اور معاشی سرگرمیوں کی روانی میں توازن کو یقینی بنایا جا سکے۔زیر اعظم عمران خان نے ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں 2019 کا نوبل امن انعام ملنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔عمران خان نے ایتھوپیا میں کورونا کی روک تھام کے اقدامات کو سراہا، دونوں رہنماؤں نے کورونا سے متاثرہ ملکوں کے لیے قرضوں پر ریلیف کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور دو طرفہ تعلقات پر بھی بات چیت کی۔وزیر اعظم نے اپنے ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کا منجمد ہونا ترقی پذیر ممالک کو معاونت فراہم کرے گا، ترقی پذیر ممالک کو مل کر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔۔وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مل کر کام کریں گے۔عمران خان نے دو طرفہ تعلقات اور باہمی تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا اور ایتھوپین ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

عمران خان

اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں پیر کے روز کورونا سے مزید 27 ا افراد جاں بحق ہو گئے اور مریضوں کی مجموعی تعداد 21452 تک پہنچ گئی اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 185 افراد انتقال کرچکے ہیں۔ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 486 ہو گئی سندھ میں 137 اور پنجاب میں 136 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 21، اسلام آباد 4 اور گلگت بلتستان میں 3 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بروز پیر ملک بھر سے کورونا کے مزید 1318 کیسز رپورٹ ہوئے اور 27 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جن میں سندھ سے 417 کیسز 7 ہلاکتیں، پنجاب 609 کیسز اور 15 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا میں 159 کیسز اور 5 ہلاکتیں، بلوچستان میں 103 کیسز، اسلام آباد سے 22 اور گلگت بلتستان سے 8 کیسز رپورٹ ہوئے۔سندھ میں کورونا کے مزید 417 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 7 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں کورونا کیمزید 2571 ٹیسٹ کییگئے جن میں سے 417 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 7882 ہوگئی۔وزیراعلیٰ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 7 افراد انتقال کرگئے اور اس طرح ہلاکتوں کی تعداد 137 تک جا پہنچی ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 74 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1629 ہوگئی ہے۔پنجاب میں پیر کو کورونا وائرس کے مزید 609 کیسز اور 15اموات سامنے ا?ئیں جس کے بعد صوبے میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 8103 اور اموات 136 ہوگئیں۔صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اٹھارٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے اب تک 2713 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 22 کیسز سامنے ا?ئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔خیبر پختونخوا میں پیر کو کورونا سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 185 تک جاپہنچی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں مزید 159 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3288 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت نے بتایاکہ صوبے میں اب تک کورونا سے 856 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں پیر کو مزید 103 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 1321 ہوگئی۔صوبے میں اب تک 21 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 197 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان میں پیر کو مزید 8 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 372 تک پہنچ گئی ہے۔محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے 3 افراد کا انتقال ہوا ہے جبکہ اب تک 279 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر میں اتوار کو مزید 5 میں کورونا وائرس پایا گیا جس کے بعد علاقے میں کورونا کے کیسز کی تعداد 71 ہو گئی ہے، 44 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔

پاکستان ہلاکتیں

.

روم، لندن، واشنگٹن،بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پوری دنیا میں نوول کروناوائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد35لاکھ7ہزار53تک پہنچ گئی ہے، امریکہ 11 لاکھ58ہزار41مصدقہ کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، سپین 2لاکھ17ہزار466مصدقہ کیسز کے ساتھ دوسرے جبکہ اٹلی 2لاکھ10ہزار717مصدقہ کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔برطانیہ میں 1لاکھ87ہزار842مصدقہ کیسز ہیں، فرانس میں مصدقہ کیسز کی تعداد1لاکھ68ہزار925 جبکہ جرمنی میں 1لاکھ65ہزار664ہوگئی ہے،روس میں 1لاکھ 34ہزار687 مصدقہ کیسز ہیں۔ترکی میں 1لاکھ26ہزار45مصدقہ کیسز اور برازیل میں یہ تعداد1لاکھ 1ہزار826تک پہنچ گئی ہے۔چین میں مصدقہ کیسز کی تعداد84ہزار400ہوگئی ہے۔امریکا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 1450 مریضوں کی وفات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس طرح ملک میں اب تک وبائی مرض کے سبب مرنے والوں کی مجموعی تعداد 67674 تک پہنچ گئی ہے۔اٹلی دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ اور اب دو ماہ کے قرنطینہ کے بعد اطالوی شہریوں کو گھر سے باہر نکلنے اور کچھ سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وہ اب خطے میں نقل و حرکت کر سکیں گے، اپنے رشتہ داروں سے مل سکیں گے، پارک جا سکیں گے اور ریستوران سے کھانا گھر لے جا سکیں گے۔ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ لوگ کام پر واپس جائیں گے۔ملک میں تاحال کل 210,717 متاثرین ہیں جبکہ 28,884 اموات ہوئی ہیں۔ یہ یورپ میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے 564 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے جب کہ مہلک وبا کے باعث 7 افراد نے اپنی جانوں کی بازیاں بھی ہار دی ہیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 126 ہو چکی ہے جب کہ کل 14 ہزار 163 افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں یو اے ای کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جو افراد اس عالمی وبا سے متاثر ہوئے ہیں وہ مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 99 افراد صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد ایسے افراد کی تعداد بڑھ کر دو ہزار 663 ہو گئی ہے۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -