محکمہ صحت کے دفتر میں تعینات افسر سمیت 4ملازم کورونا کا شکار،یاسمین راشد کا سخت نوٹس

محکمہ صحت کے دفتر میں تعینات افسر سمیت 4ملازم کورونا کا شکار،یاسمین راشد کا ...

  

لاہور(جاوید اقبال)محکمہ صحت لاہور کادفتر کورونا کی نرسری بن گیا، کوپر روڈ پرچیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں تعینات ایک افسر سمیت چار ملازمی کورونا وائرس کا شکارہوگئے،100 سے زائد افسروں اور ملازمین کے کورونا ٹیسٹ کیلئے نمونے حاصل کر لئے گئے، افسروں سمیت ملازمین کی بڑی تعداد خوف میں مبتلا ہوگئی،ملازمین دفتر میں ایس او پی کے عدم نفاذ پر سراپا احتجاج،وزیر صحت کا سخت نوٹس، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر لی۔تفصیلات کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لاہور کے دفتر میں کام کرنے والے ایک ڈیٹا انٹری افسر محمد قدوس سمیت ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر عائشہ، سینٹری انسپکٹر سجاد علی اور ذیشان علی میں کورونا کی رپورٹ مثبت آنے پر محکمہ ہیلتھ کے اعلیٰ افسر حرکت میں آگئے، کورونا کے شکارملازمین کو پی کے ایل آئی میں منتقل کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے حکومت کی واضح ہدایات کے مطابق حفاظتی انتظامات نہ کئے بلکہ دفعہ 144کے نفاذ کے باوجود یونین کے انتخابات کی سیاسی سرگرمیاں کروائیں اور اس دوران ملازمین کو حفاظتی سازو سامان تک نہ دیا گیا۔دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں کام کرنے والے افسروں سمیت ملازمین نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو ایس او پیز کے مطابق سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ ملازمین نے اس صورتحال کا ذمہ دار سی ای او ڈاکٹر شعیب الرحمن گرمانی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر فیصل ملک کو قرار دیا جبکہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کے دفتر میں 4 ملازمین کے کورونا کا شکار ہونے پر نوٹس لے لیا اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لاہور سے ایک روز میں رپورٹ طلب کر لی۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لاہور محمد فیصل ملک نے دفتر کے چار ملازمین کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے دفتر میں کئے گئے حفاظتی اقدامات کے باوجود وباء پھیلنے کی تحقیقات شروع کردی۔

محکمہ صحت/کورونا

س

مزید :

صفحہ اول -