سندھ میں گندم کی 40 فیصد کم خریداری، ایک اور بحران کا خدشہ

  سندھ میں گندم کی 40 فیصد کم خریداری، ایک اور بحران کا خدشہ

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ میں 15 ارب روپے کی گندم چوری ہونے کے بعد ایک اور بحران کا خدشہ ہے۔ سندھ حکومت گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی گندم اور آٹے کے حوالے سے گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے اور رواں سال ہدف کے مقابلے میں گندم کی 40 فیصد کم خریداری کی گئی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں گندم کی مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے۔گزشتہ سال بھی سندھ حکومت کی اسی روش سے پورے ملک پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔ صوبائی حکومت کی اس روش کا سارا ملبہ وفاقی حکومت پر پڑتا ہے۔ رواں سال کورونا وائرس کی وجہ سے صورتحال زیادہ سنگین ہوتی جا رہی ہے اور صوبے کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث ایک بحران پیدا ہونے جا رہا ہے۔ سندھ میں گندم کی چوری اور فلور مل مالکان کو قبل از وقت ادائیگیوں کا معاملہ پہلے ہی زیر تفتیش ہے، نیب نے 15 ارب میں سے 9 ارب 73 کروڑ روپے ریکور کرلئے ہیں اور بقایا رقم کی وصولی کیلئے جلد احتساب عدالتوں میں ریفرنسز دائر کئے جائیں گے۔

گندم

مزید :

صفحہ آخر -